مصورحمید تنولی
یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے طالبعلم ہیں ،سفارت ،امور خارجہ اور عالمی سیاست کے موضوعات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ،او آئی سی نمل کلب کے صدر اور پاکستان آذربائیجان ترکی یوتھ فورم کے بانی ہیں


افغانستان میں طالبان کی واپسی ان کے لئے دوہری مسرت کا باعث ہے جہاں ایک جانب انہوں نے دوبارہ افغانستان پر غلبہ پالیا ہے وہیں 20 سال بعد امریکہ ان کی سرزمین کو چھوڑ کر واپس چلا گیا ،اس خوشی کا اظہارانہوں نے امریکی انخلاء کی رات کو بھرپور آتشبازی اور ہوائی فائرنگ کے ذریعے کیا

اس پیش رفت کے بعد طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا امریکہ افغانستان میں اپنے اہداف کے حصول میں ناکام ہوا ،لیکن طالبان کی خواہش ہے کہ وہ مستقبل میں امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کریں

جس کے جواب میں امریکہ کے صدارتی نمائندے برائے اقوام متحدہ لنڈا تھامس کا کہنا تھا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی بات کرنا قبل ازوقت ہوگا ،کیوں کہ ابھی انہوں نے حکومت قائم نہیں کی ،پھر ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وہ کس طرح کی حکومت بناتے ہیں تاہم ہم چاہتے ہیں کہ طالبان خواتین سمیت تمام طبقات کو حکومت میں شامل کریں

طالبان جنگجو وادی پنجشیر کے دروازے پر ،یہ افغانستان کا واحد صوبہ تھا جو تسخیر نہیں ہوسکا تھا ۔اس کی فتح کے بعد طالبان کو ملک کے تمام صوبوں پر کنٹرول حاصل ہوچکا ہے

دوسری جانب افغانستان میں اگرچہ جس پیمانے پر طالبان کے خلاف مزاحمت کا اندیشہ تھا اس کی اتنی شدت نظر نہیں آئی البتہ سابق نائب صدر جو عالمی برادری سے مزاحمتی محاذ کیلئے حمایت حاصل کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں ،کے حامیوں کی جانب سے کسی حد تک گڑبڑ کا خطرہ ضرور موجود ہے

لیکن میرے خیال میں حالیہ پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ محاذ آرائی مسلح نہیں بلکہ سیاسی حدود کے اندر رہے گی اور سیاسی اختلاف رائے کی موجودگی ایک جمہوری اور بہتر معاشرے کیلئے انتہائی ضروری ہے

گذشتہ چندروز کے دوران پنجشیر پر طالبان کے حملوں کے نتیجے میں شمالی اتحاد کی مسلح مزاحمت فی الوقت دم توڑ چکی ہے ۔اور اس علاقے پر طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے ،مزاحمتی قیادت یعنی امراللہ صالح اور احمد مسعود کے حوالے سے متضاد خبریں گردش کررہی ہیں کہ وہ کہاں ہیں ،جبکہ شمالی اتحاد کے کچھ اہم کمانڈرز جھڑپوں کے دوران مارے جاچکے ہیں ۔


یہ بھی پڑھیں


مزاحمتی قیادت کے حوالے سے مغربی میڈیا کے دعوئوں کے مطابق پنجشیر پر قبضے کی کوشش میں طالبان کو بھی بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں طالبان کی جانب سے خاموشی اختیار کی جارہی ہے

پنجشیر پر قبضے کے بعد طالبان کا افغانستان کے تمام صوبوں پر کنٹرول مکمل ہوچکا ہے ،اور امکان یہی ہے کہ اب اگلے دوچار روز میں طالبان باقاعدہ حکومت کی تشکیل کا اعلان کردیں گے ،کیوں کہ 15 اگست کو کابل میں واپسی اورسابق صدر اشرف غنی کے فرار کے بعد طالبان کی جانب سے حکومت کے اعلان میں تاخیر کی وجہ سے کئی افواہیں بھی پیدا ہورہی ہیں

طالبان حکومت کے قیام کے بعد کیا ہوگا؟

گذشتہ ایک دو روز کے دوران سامنے آنے والی خبروں کے مطابق طالبان حکومت سازی کے آخری مراحل کے قریب پہنچ چکے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے چند ممالک کو تقریب میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے ،جس سے امکان یہی پیدا ہورہا ہے کہ جن ممالک کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں وہ طالبان حکومت کو تسلیم کرسکتے ہیں

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کابل میں پریس کانفرنس کے دوران

اگرچہ اس بارے میں وہ بہت سوچ سمجھ کرفیصلہ کریں گے کیوں کہ زیادہ تر ممالک طالبان کے افغانستان پر بزور طاقت قبضے کو تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھتے

پاکستان ،افغانستان اور ماضی و مستقبل

سوویت یونین کے افغانستان پر قبضہ کے دوران امریکہ نے اپنے مفاد کیلئے افغانستان میں بہت سے مزاحمتی گروپوں کی حمایت کی اور انہیں اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کئے ،لیکن سوویت انخلاء کے بعد یہ گروپ آپس میں ہی دست و گریباں ہوگئے اور ملک اگلے کئی سالوں کیلئے خانہ جنگی کا شکار ہوگیا

90 کی دہائی میں طالبان کی بنیاد رکھی گئی ،اور انہوں نے آپس میں طاقت و اختیار کیلئے برسرپیکار افغان وارلارڈز کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے ،اور اگلے چار سالوں کے دوران طالبان نے تمام وارلارڈز کا زور توڑدیتے ہوئے ماسوائے چند ایک کمانڈرز کے ملک کے زیادہ حصہ پر اپنا اقتدار قائم کرلیاور امارت اسلامیہ کے قیام کا اعلان کردیا

طالبان ماضی کے تاثر کو زائل کرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں تاہم اپنے قول و فعل کو سچ ثابت کرنے میں انہیں کئی سال کا عرصہ درکار ہوگا

لیکن 2001 میں 9/11 کے واقعہ نے عالمی سیاست کا پانسہ یکسر پلٹ کر رکھ دیا ،اور کل کے مجاہدین دہشتگرد قرار پائے ۔طالبان حکومت جسے دنیا کے صرف تین ممالک پاکستان ،متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے تسلیم کر رکھا تھا ،القاعدہ کو پناہ دینے کے جرم میں امریکی عتاب کا نشانہ بن گیا

کیوں کہ امریکہ نے نائن الیون کا ذمہ دار القاعدہ اور اسامہ بن لادن کو قرار دیا تھا

جب افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تو پاکستان امریکی قیادت میں بننے والے دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ بن گیا ،لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ کی جانب سے پاکستانی سرحدوں کی پامالی کے متعدد واقعات رونما ہوئے اور ملک کے اندر دہشت گردی کے نئے دورکا آغاز ہوا اور 80 ہزار کے قریب بے گناہ شہری اور سیکورٹی اہلکار اس جنگ کا نشانہ بن گئے ۔اورمعیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان الگ ہوا

طالبان کو عالمی سطح پر اپنے آپ کو منوانے کے لئے افغان معاشرے کے تمام فریقوں کو قائل کرنا اور انہیں ساتھ ملکر چلنے پر آمادہ کرنا ہوگا

اس کے بعد جوکچھ ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔اگرچہ پاکستا ن پر ہمیشہ طالبان کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی اسے ہی موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے

لیکن طالبان کی تخلیق اور ان کی امریکی پشت پناہی کا کہیں ذکر نہیں کیا جاتا ،اور نہ ہی کبھی امریکی کردار کہیں زیربحث لایا جاتا ہے ۔اگرچہ ماضی میں پاکستان نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا لیکن اب کی بار پاکستانی قیادت انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے اور طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا معاملہ عالمی برادری کی حمایت سے مشروط قرار دیا

مستقبل کے خدشے اور اندیشے

افغانستان سے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد امریکی نگرانی میں طاقت و اختیار کی نئی بساط بچھائی گئی تو اس کے نتیجے میں ہرگزرتے دن کے ساتھ پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہوا ،کیوں کہ کابل حکومت اور اسلام آباد کے مابین ماضی کی تلخیوں کی پرچھائیاں کم ہونے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری ہوتی رہیں ۔

بالخصوص افغان سیاست میں پاکستان مخالف دھڑے زیادہ اختیارات کے حامل رہے جن کی سیاسی و ذہنی ہم آہنگی بھارت کے ساتھ زیادہ رہی ،جغرافیائی حدود نہ ملنے کے باوجود بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ۔پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو محفوظ ٹھکانے میسر رہے ،


یہ بھی پڑھیں


ان حالات کے پیش نظر پاکستان کو افغانستان کے ساتھ اپنی 2200 کلومیٹر طویل سرحد پر پہلی بار باڑ لگانے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔اب جبکہ یہ سرحد مکمل طور پر محفوظ کی جاچکی ہے اور کابل میں طاقت و اختیار کے منابع نئے ہاتھوں میں آچکے ہیں پاکستان کیلئے مستقبل قریب میں افغانستان سے ایسا کوئی بڑا خطرہ نہیں ہوسکتا جس سے ملک کی سلامتی متاثرہ ہونے کا خدشہ ہو

کیوں کہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اب تک ہونے والی پریس کانفرنسوں کے دوران پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کو یقین دہانی کرواچکے ہیں کہ اب افغانستان کی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی
ان حالات میں ہمیں یہ طالبان کے خلوص اور ارادے کو جانچنے کیلئے وقت کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے قول وفعل پر کس حد تک کاربند رہتے ہیں ،لیکن فوری طور پر سامنے آنے والے اشاروں سے پاکستان کے بہت سے خدشات کا ازالہ ہوتا دکھائی دیتا ہے

افغانستان بعداز طالبان

15 اگست کو کابل اور 6 ستمبر کو مزاحمت کے آخری مرکز یعنی پنجشیر پرقبضہ کے بعد عملاً طالبان پورے افغانستان کا اقتدار حاصل کرچکے ہیں ۔لیکن دیکھا جائے تو ان کا اصل امتحان اب شروع ہونے والا ہے ،کیوں کہ ان کی ساری جدوجہد امریکی قبضے اور ان کے زیرسایہ قائم حکومت کے خاتمے پر مشتمل تھی

15 اگست کو طالبان کے کابل میں داخلے کے وقت شمالی اتحاد اور سابق جہادی رہنمائوں پر مشتمل اہم قیادت اسلام آباد میں موجود تھی جس کا مقصد افغانستان کے تمام عناصر پر مبنی وسیع البنیاد حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنا تھا

اب جب کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ملک سے نکل چکے ہیں ،امریکی حمایت یافتہ اشرف غنی ملک سے فرار ہوگئے ہیں اور پنجشیر کی مزاحمت دم توڑ چکی ہے ،بظاہر طالبان افغانستان کی واحد مقتدر قوت بن کر سامنے آگئے ہیں ۔لیکن ان کا اصل امتحان اب شروع ہوگا ،کیوں کہ امریکی انخلاء کے بعد بڑی تعداد میں ملک سے تعلیم یافتہ اور ہنرمند افرادی قوت فرار ہوچکی ہے یا ملک سے نکلنے کی راہیں تلاش کررہی ہے

اس طرح دیکھا جائے تو کسی بھی ملک کی معیشت ،سیاست اور تجارت کو چلانے کیلئے طالبان کو تربیت یافتہ اور ہنرمند افرادی قوت کا سامنا ہوسکتا ہے


یہ بھی پڑھیں


دوسرا چیلنج طالبان کو بین الاقوامی سطح پر اپنی آئینی حیثیت کو تسلیم کروانا ہے ،اگرچہ اب تک پاکستان ،چین ،ایران ،روس ،ترکی اور قطر کا طالبان کے حوالے سے رویہ انتہائی نرم ہے اور وہ طالبان کو ملکی معاملات چلانے کے حوالے سے تکنیکی و اخلاقی مدد فراہم کررہے ہیں ،لیکن طالبان حکومت کی آئینی حیثیت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا ،

اگرچہ آثار یہی ہیں کہ مذکورہ چندممالک طالبان کی حکومت تسلیم کرسکتے ہیں لیکن اس کا انحصار بھی طالبان کے طرز حکومت اور خواتین اور ملک کے دیگر طبقات کے حوالے سے طرز عمل پر ہوگا ۔

طالبان ،القاعدہ اور داعش

اگرچہ ابھی تک کہیں سے بھی کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جس سے ثابت ہوکہ القاعدہ اور طالبان کے درمیان ماضی کی طرح کےتعلقات موجود ہیں ،اور پھر ذبیح اللہ مجاہد بارہا اس عزم کا اعادہ کرچکے ہیں کہ اب افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی

تو اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ یا تو اس وقت طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلقات انتہائی کم ترین سطح پر ہیں یا ختم ہوچکے ہیں اور اگر ایسا نہیں بھی ہے توطالبان کو مستقبل میں عالمی برداری میں اپنا مقام برقرار رکھنے کےلئے انہیں ختم کرنا ہوگا

طالبان کی واپسی کے بعد ملک سے بڑی تعداد میں ہنرمند افرادی قوت کا فرار ہونا مستقبل ملک کے مسائل میں اضافہ کرسکتا ہے

کیوں کہ القاعدہ بنیادی طور پر عالمی ایجنڈے اور سوچ کی حامل تنظیم ہے جس کا نشانہ مغربی مفادات ہیں ،اور مغربی دنیا کے طالبان کے حوالے سے خدشات بھی اسی حوالے سے ہیں ،ایسی صورت میں اگرطالبان مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ان کے تحفظات کو بھی دور کرنا ہوگا ۔

البتہ حالیہ عرصہ کے دوران داعش خراساں کا نام مغربی میڈیا میں تسلسل کے ساتھ گونجتارہا جو کہ خود طالبان کے لئے بھی بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے کیوں کہ القاعدہ کے برعکس داعش خراساں خود طالبان کے وجود کے خلاف ہیں جبکہ امریکی انخلاء کے دوران کابل ایئرپورٹ پر خودکش حملوں کی صورت میں یہ تنظیم بھی اپنی سنگینی کا احساس دلاچکی ہے

کیا طالبان حکومت چلا پائیں گے ؟

ایک مقصد کو حاصل کرلینا اور پھر اس کو برقرار رکھنا دو الگ الگ تعریفیں ہیں ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ طالبان نے 20 سال تک سخت ترین حالات اور بے پناہ قربانیوں کے بعد ملک سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نکلنے پر مجبور کردیا ۔یہ طالبان کا مقصد تھا جس میں انہیں دو دہائیوں بعد کامیابی حاصل ہوگئی

اب اگلا مرحلہ اس مقصد کو برقرار رکھنا ہے جس کا سامنا طالبان کو اب ہے ؟فی الوقت معاشی و سماجی چیلنجزں کا سامنا کرتے طالبان کیلئے پہلا مرحلہ خود کو اقوام عالم میں تسلیم کروانا ہے جو ان کی ماضی کی وجہ سے ایک مشکل ہدف ثابت ہوسکتا ہے

اگروہ خود کو عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھال لیتے ہیں تو بھی ان کیلئے مشکلات کم ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں ۔کیوں کہ ابھی تک دنیا اور بالخصوص مغربی ان کے ہر ہر قدم اور قول وفعل کومشکوک نگاہوں سے دیکھ رہی ہے ۔لیکن اگر ابتدائی طور پر وہ پڑوسی ممالک یعنی پاکستان ،ایران ،چین ،روس کو قائل کرنے میں ہی کامیاب ہوجاتے ہیں ممکن ہے ان کے مستقبل کی راہیں قدرے آسان ہوجائیں

حالیہ دنوں میں طالبان کی جانب سے چین کے ساتھ اچھے تعلقات اور اسے اہم ملک قرار دیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ ماضی کی برعکس معاملات کو الگ زاویہ سے دیکھ رہے ہیں جو کہ خوش آئند ہے ،کیوں کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل خانہ جنگی اور جنگوں کے شکار ملک و عوام اب مزید خون خرابے کے متحمل نہیں ہوسکتے

پڑوسی ممالک کا کردار

جس طرح کچھ حقائق سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں ہوتا بالکل اسی طرح افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طالبان 20 سالہ مسلح جدوجہد کے بعد اپنے ملک کا اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو اپنے ملک کی سطح پر ان کی عوامی حمایت کا اظہار بھی ہے ۔اگرچہ جدید دنیا ان کے طرزعمل سے اختلاف کرسکتی ہے لیکن حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتی ۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ تمام پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان ،چین ،ایران ،وسط ایشیائی ریاستیں اور روس طالبان کو تنہا کرنے کے بجائے ان کا ساتھ دیں اور انہیں تسلیم کریں

اس صورت میں یہ دوطرفہ سودا ہوگا یعنی اگر آپ طالبان کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ آپ سے کئے وعدے اور معاہدوں پر خود کاربند سمجھیں گے ،اور دنیا کو جس حوالے سے ان کے بارے میں شکوک ہیں ان کو دور کرنے میں مدد ملے گی ۔

پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت بارہا اس عزم کا اعادہ کیا جاچکا ہے کہ وہ افغانستان میں امن کیلئے کردار ادا کررہے ہیں اور ان کا کسی فریق کےلئے نرم گوشہ نہیں ہے

دوسرا چین اس وقت دنیا کی بڑی معاشی طاقت ہے جو خطے میں سی پیک کی صورت میں ایک نیا معاشی و تجارتی بلاک تشکیل دینے کی راہ پرعمل پیرا ہے ۔اگر یہ تمام ممالک مل کر افغانستان کی معاشی و سیاسی بحالی میں کردار ادا کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پورے خطے ایک نئے معاشی دور کا آغاز ہوسکتا ہے
طالبان کو اندرونی طور پر کن سیاسی مشکلات کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے ؟

اگر افغانستان کو قبل از نائن الیون اور بعدازنائن الیون دور کے تناظر میں دیکھاجائے تو افغان معاشرے میں دو بڑی اور واضح لکیریں نظر آتی ہیں ،ایک طبقہ وہ جو 20 سال تک امریکی اور اس کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف طالبان کے حامی رہے

دوسرا وہ حصہ ہے جو نظریاتی و سیاسی طور پر طالبان سے دور ہے ،اگرچہ ماضی کے برعکس طالبان نے کئی حوالوں سے اپنے بارے میں قائم تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے ،یعنی میڈیا کو آزادی کیساتھ کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے

ملکی ذرائع ابلاغ میں دوطرفہ رائے کو پیش کیا جارہا ہے،خواتین اور بچیوں پر تعلیم کے دروازے کھلے رکھے جارہے ہیں ،لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ذہنی و سیاسی طور پر بعد اختیار کئے معاشرے کے حصوں اور بالخصوص ،انسانی حقوق ،خواتین کے حوالے سے اپنے موجودہ طرز عمل پر کب قائم رہتے ہیں

اور سیاسی ہم آہنگی کیلئے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں اور کس طرح تمام طبقات کے تحفظات کو دور کرتے ہوئے انہیں مرکزی دھارے میں شامل کرپاتے ہیں؟

Translate »