Spread the love

سید عتیق


سابق ترجمان تحریک طالبان نے افغانستان اسلامی امارت کا اعلامیہ جاری کر دیا ۔ اپنے ٹوئٹر اکائونٹ سے انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے 102 ویں یوم آزادی کے موقع پر افغانستان امارت اسلامی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔

ترجمان اسلامی امارت افغانستان ذبیح اللہ مجاہد فائل فوٹو

ٹویٹ میں ترجمان افغانستان اسلامی امارت کی جانب سے اعلان کیا کہ اسلامی امارت دنیا کے ساتھ سفارتی ، سیاسی اور تجارتی تعلق کی خواہاں ہے ۔ ہم ہر ملک کے ساتھ ڈپلومیٹک اور کاروباری تعلق رکھیں گے ۔ ہم نے کسی بھی ملک کے ساتھ تجارتی اور ڈپلومیٹک تعلقات سے انکار نہیں کیا۔ اس حوالے سے کی جانیوالی قیاس آرائیاں اور افواہیں بے بنیاد ہیں ۔


یہ بھی پڑھیں


پرامن انتقال اقتدار کیلئے کوششیں تیز

طالبان وفد اور سیاسی قیادت کے مابین انتقال اقتدار کے حوالے سے اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے

دوسری جانب اقتدار انتقال کی پر امن منتقلی کے لئے مذاکرات میں تیزی آ گئی ہے ۔ سابق افغان قیا دت کی طرف سے ٹرانسفر آف پاور کی قانونی حیثیت اور عالمی برادری سے اس کی تائید کا سوال لے کر حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے کابل میں پاکستانی سفیر منصور علی خان سے جمعرات کو دوپہر سے پہلے ملاقات کی ۔

پاکستانی دفتر خارجہ اس سے پہلے ہی یہ اعلان کر چکا ہے کہ مستقبل کی افغان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کیا جائے گا ۔مذاکرات کاروں نے افغانستان کی دیگر قیادت اور طالبان راہنمائوں سے بھی گفتگو کی ہے ۔ لیکن ابھی تک کوئی مشترکہ اعلامیہ سامنے نہیں آیا ۔ پاکستان، چین ،روس اور ترکی کے بعد اب امریکی وزیر دفاع نے بھی کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں ۔

19 اگست افغانستان کا یوم آزادی

افغانستان کا یوم ازادی 19 اگست 1919ء کو منایا جاتا ہے یہ وہ دن ہے جب تاج برطانیہ نے معاہدہ راولپنڈی کے بعد افغانستان میں غازی امان اللہ خان کی حکومت کو تسلم کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل سمیت پورے ملک پر غلبے اور صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار کے بعد پہلی پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے طالبان کے مستقبل کے لائحہ عمل ،عالمی برادری کے ساتھ تعلقات ،خواتین کے حقوق ،اقلیتو ں اور شہری آزادیوں اور میڈیا کے بارے میں واضح موقف بیان کیا تھا

17 اگست کو ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں اپنی پہلی پریس بریفنگ میں طالبان کے آیندہ کے لائحہ عمل پر کھل کر بات کی تھی ۔ ترجمان طالبان نے مقامی اور عالمی میڈیا کے نمائندوں کے سخت سوالات کے نہایت شستہ اور مدلل جواب دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے،
طالبان کی اب کسی سے کوئی دشمنی نہیں اور افغانستان کی سرزمین اب کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان سب کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں اور کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ انھوں نے بتایا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور باہر نکل کر کام کرنے کی اجازت ہو گی جبکہ میڈیا بھی آزادانہ طور پر کام کر سکے گا۔
یاد رہے کہ 15 اگست کو طالبان افغان دارالحکومت کابل میں داخل ہو گئے تھے اور ملک کے صدر اشرف غنی قریبی ساتھیوں سمیت فرار ہو گئے تھے جس پر طالبان نے پر امن طریقے سے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے نیا سیاسی نظام تشکیل دینے کی تیاریاں کرتے ہوئے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے شروع کر دیے ہیں۔ طالبان کے نائب امیر ملا عبد الغنی برادر بھی قطر سے افغانستان پہنچ چکے ہیں جبکہ طالبان رہنما انس حقانی نے افغانستان میں مصالحتی کونسل کے اراکین حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار سے بھی ملاقات کی ہے۔

پاکستان ،چین اور ترکی کا ردعمل

دوسری جانب چین نے گزشتہ دنوں طالبان کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ ترک صدر طیب اردوان کا کہنا تھا کہ جو بھی حکومت میں آئے، ہم افغانستان کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ عالمی ردعمل دیکھتے ہوئے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
Translate »