مسرت اللہ جان،پشاور


ہم بھی اسلام چاہتے ہیں لیکن اسلام کے نام پر ایسے اقدامات جس میں عورتوں کو مال غنیمت سمجھ کر اٹھایا

گیا ہو ، بندوق کے بٹ سے مارا جاتا ہویہ تو کوئی اسلام نہیں ، ترکی اپنے آپ کو بہت اسلام پسند دکھاتا ہے وہاں پر ایک مسجد میں پڑے مردوں اور عورتوں کی تصاویر دکھا دو تو پتہ لگ جائے لیکن صرف افغانستان میں ہی اسلام کو خطرہ کیوں ہے ؟

سعودی عرب میں جتنی آزادی عورتوں کو مل رہی ہیں ، سینما کھل رہے ہیں کیا یہ اسلام ہیں

.. مڑہ غریب پہ ہر زائے کے خوار وی..

 

تصویر مسرت اللہ جان
افغان طالبان نے سیکورٹی سنبھال رکھی تھی ان میں بعض نے شوز پہنے تھے جبکہ بعض کے چپل تھے لیکن ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ بھی دیکھا بعض افغان کمانڈروں نے چہرے چھپا رکھے تھے جبکہ بعض کی ہلکی ہلکی داڑھیاں تھی اور ان میں بیشتر بیس سے اٹھائیس سال کی عمر کے نوجوان تھے.

یہ کہنا تھا ایک افغان مہاجر شہری کا جو پشاور کے کارخانو مارکیٹ سے طورخم کیلئے جانیوالی ٹوڈی میں میرے سمیت تین اور ساتھیوں کیساتھ گذشتہ روز روانہ ہوا تھا. پشاور میں پیدا ہونیوالے اس افغان شہری کی پیدائش پاکستان کی تھی اور بعد میں افغانستان منتقل ہوا تھا

ایک ہفتہ پہلے اسلام آباد آیا تھا اور اب واپس افغانستان جارہا تھا لیکن اسے یہ نہیں پتہ کہ تذکرہ پر جانا پڑے گا یا پھر پاسپورٹ پر ، کیونکہ وہ ڈرائیور اور دیگر لوگوں سے ایسے سوالات پوچھ رہا تھا جیسے پہلی مرتبہ طورخم بارڈر کی طرف جارہا ہو.

مضبوط کاٹھ و جسم کے اس شہری نے بڑا بیگ رکھا تھا اور گاڑی میں بیٹھتے ہی سیب لیکر کھانے لگا.مزے لے لیکر سیب کھانے والے اس افغانی نے طالبان حکومت کے آنے کے بعد وہاں پیش آنیوالے مختلف واقعات بتائے. وہ اسلام کے حوالے سے بات کررہا تھا لیکن وہ یہ پشتون ولی بھول گیا تھا کہ کھاتے وقت دوسرے شخص کو زبانی کلامی دعوت دیتے ہیں

لیکن پتہ نہیں کیسا افغانی تھا کہ اسے پشتو کی ثقافت کا نہیں تھا لیکن اسلام کے بارے میں بات کررہا تھا . حالانکہ میں گاڑی کے اگے سیٹ پر بیٹھا تھا لیکن اس کے ساتھ پچھلی سیٹ پر دو افراد بیٹھے تھے مجھے تو اس خوراک کا بعد میں پتہ چلا لیکن اس نے غلطی سے بھی اپنے بیٹھے ساتھیوں کو سیب آفر نہیں کیا.


یہ بھی پڑھیں


اس افغانی سے میری ملاقات اس وقت ہوئی، جب میں پشاور کے کارخانو مارکیٹ سے ٹیکسی میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی پریس کانفرنس کی کوریج کیلئے جارہا تھا اتوار نیند کیلئے مخصوص ہوتا ہے لیکن شیخ رشید کی آمد کی اطلاع کی وجہ سے صبح سویرے بی آر ٹی میں پہلی مرتبہ کارخانو مارکیٹ جانے کا اتفاق ہوا

. یہ الگ بات کہ ہشتنگری سے کارخانو مارکیٹ تک نیند کی کتنی جھپکیاں میں نے لی مجھے اندازہ نہیں تھا لیکن ائیر کنڈیشنڈ اور رش نہ ہونے کی وجہ سے پہلی مرتبہ بی آر ٹی سے صحیح معنوں میں صبح ساڑھے چھ بجے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا.

کارخانو مارکیٹ میں ٹو ڈی گاڑی میں بیٹھنے کے بعد وہ افغان شہری بھی آکر بیٹھ گیا ، دوسرے دو لوگ بھی بیٹھ گئے اور پھر وہ افغانی باتیں کرنے لگا . میڈیا اور صحافیوں کیخلاف باتیں کرنا سب سے آسان کام ہے وہ افغان میڈیا کو مورد الزام ٹھہرارہا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین حالات کی خرابی میں میڈیا کا کردار ہے

 ساتھ ہی اس نے یہ باتیں بھی کی کہ اسے تو امریکی جہاز میں جانے کا موقع مل رہا تھا لیکن وہ نہیں گیا کیونکہ جو آزادی اسے افغانستان میں حاصل ہے ، امریکہ میں حاصل نہیں ہوسکتی ، اس کے بقول قندہار میں افغان فوجیوں کی بیواﺅں کو مال غنیمت سمجھ کر اٹھا یا گیا ، سترہ افراد کے ہاتھ چوری کے الزام میں کاٹے گئے

طالبان کیوں برے ہیں ؟کسی کے پاس اس کا جواز موجود نہیں

لیکن اس کے پاس اس حوالے سے کوئی معقول جواز نہیں تھا کہ طالبان کیوں برے ہیں ، اس کے بقول افغان طالبان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کیساتھ زیادتی کر جاتے ہیں.لیکن اس نے یہ بات مان لی کہ افغان طالبان برے نہیں البتہ وہ افغانستان میں آمن چاہتا تھا اور اس بات پر بہت ناراض تھا کہ افغانستان کا بیرغ ، قومی جھنڈا کیوں تبدیل کیا گیا؟

جب ٹیکسی میں سوار بشمول میرے ہم نے طالبان کے حوالے سے مثبت باتیں کیں تو اس رویہ اور باتیں تبدیل ہوگئیں اور وہ پھر وہ خاموشی سے ٹرمینل میں اتر کر افغانستان کی طرف چلا گیا. لیکن یہ سوال چھوڑ گیا کہ اگر طالبان اتنے ہی برے ہیں تو وہ پھر افغانستان کیوں جارہا تھا.

وی آئی پی کی آمد ہو ، اسلام آباد سے اطلاع ہو اور پشاور یا باڑہ یا لنڈی کوتل کا مقامی صحافی ہو تو اس کی عزت دو کوڑی کی ہوتی ہیں یہ تو ٹرمینل میں جانے کے بعد سیکورٹی اہلکار جس کا تعلق چترال سے تھا کے رویے سے اندازہ ہوا ،

ہمارے ہاں لوگ کہتے ہیں کہ چترال کے لوگ بڑے شریف ہیں ، شرافت میں کوئی شک نہیں ہے لیکن  چند ایسے لوگ بھی ہیں جن کو اگر عہدہ مل جائے تو وہ اپنی اوقات بھول جاتے ہیں. اس ظالم ڈھول سپاہی کو ساڑھے نو بجے میں نے شیخ رشید کے پریس کانفرنس کے بارے میں بتایا تو اس نے بتایا کہ یہاں پر کچھ نہیں آپ این ایل سی والوں کے پاس جائیں

پھر مجبورا ٹیکسی میں بیٹھ کر پیچھے آگیا ، این ایل سی والوں کو تعارف کروایا تو انہوں نے تفتیش کے بعد بٹھا دیا کہ پروگرام ہوگا تو بتا دیں گے بس بیٹھے رہو . آدھ گھنٹے کے انتظار کے بعد صحافی دوست طورخم پہنچنا شروع ہوگئے تو پتہ چلا کہ جہاں سے مجھے واپس بھیجا گیا اسی جگہ پروگرام ہے اور پھر واپس گاڑی میں ان کے ساتھ بیٹھ کر واپس آگیا .

وہی سیکورٹی اہلکار جس نے صبح مجھے واپس بھجوایا تھا اب بھی اس بات پر مصر تھا کہ یہاں سے نکل جائیں کیونکہ یہاں پر کچھ نہیں ، لیکن اس کی بات پر مقامی صحافیوں کو اعتبار نہیں تھا جو کہ صحیح بھی تھا اور پھر ساڑھے دس بجے اطلاع کے مطابق ہم نے زیرو پوائنٹ پر جانے کی کوشش کی تو بتایا گیا کہ باہر بیٹھ جائیں ابھی یہاں پر آپ کو اجازت نہیں

تین گھنٹے ” گرمی میں خوار”کرانے کے شیخ رشید صاحب آئے تو پھر بھی ہمیں جانے کا موقع نہیں دیا گیا وہ تو شکر ہے کہ ان کی آمد سے قبل پانی کاچھڑکاﺅ کیا گیا تو ہمیں پتہ چلا کہ صاحب بہادر نے آنا ہے ، بھائی جب کوریج کیلئے بلواتے ہو تو کم از کم صحافیوں کو عزت تو دو ، انہیں فلاں جگہ جاﺅ ، فلا ں جگہ ، اجازت نہیں ، کے راگ الاپنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

مزدوری کیلئے آنے والا 14 سالہ نظار مایوسی کا شکار

طورخم میں پاکستان کے بارڈر کی طرف یہ تین گھنٹے پشاور سے آنیوالے صحافیوں کیلئے بڑے کام کے اوقات تھے کیونکہ بعض نے ویڈیو اور بعض نے تصاویر بنوائی . جبکہ مقامی صحافی ” تنگ آکر ڈی تہ کڑہ”کے نعرے لگاتے رہے.

مقامی افرادکے بقول بارڈر پر "مڑا ٹول شوڑہ مار ” پیسے ورکوہ او بارڈر کراس کوہ” کے الفاظ بول رہے تھے یہاں ہم نے چودہ سالہ نظار کو دیکھا جو لغمان سے کوئٹہ کے راستے روزگار کیلئے آیا تھا اور اب واپسی طورخم پر کام کرنا چاہ رہا تھا لیکن بقول اس لڑکے کے سیکورٹی اہلکارنے اس کے تذکرے کو دو نمبر کہہ کر اسے واپس جانے سے روک رہے تھے

بقول اس لڑکے کے اگر اس کے پاس پیسے ہوتے تو وہ پیسے دیکر چلا جاتا اور اس نے توبہ کرلی کہ آئندہ پاکستان آﺅں گا بھی نہیں.بقول مقامی صحافیوں کے اس طرف افغان طالبان کے آنے کے بعد رشوت کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن اس طرف یہ سلسلہ چل رہا تھا

 بلکہ ایک دو صحافیوں نے اس حوالے سے اپنی شائع ہونیوالی خبریں بھی دکھا دیں بقول اس کے ہم تو لکھ لکھ کر تھک گئے لیکن … پھر اسے میں نے اسفندیار ولی خان کا بہو اور سسر کے حوالے سے ایک بیان سنا دیا اور سارے صحافی ہنس ہنس کر بے حال ہوگئے.

کبھی کبھی دل دکھانے والے مناظر سے مجبوراً نظریں چرانا پڑتی ہیں

اسی طرح پاکستان کی طرف سے جانیوالی سائٹ پر واپس آنیوالی متعدد خواتین بھی افغانستان جانے سے روکے جانے پر روتی ہوئی واپس گئیں ، دل بہت دکھا لیکن کبھی کبھار دل پر پتھر رکھنا پڑتا ہے اس لئے ہم بھی خبر ، فوٹیج اور تصاویر کے چکر میں ہم نے کچھ نہیں دیکھا کچھ نہیں سنا اور ٹرمینل میں انتظار کرتے رہے .

شیخ رشید کی آمد ہوتے ہی ہم سارے صحافیوں کو چار گھنٹے روڈ پر کھڑا کرنے کے بعد اندر جانے کی اجازت تو مل گئی یہ تو شکر ہے کہ مقامی طور پر تعینات اہلکار ٹھنڈے پانی کا کولر لیکر آئے تھے اور صحافیوں نے خوب دل بھر کر پانی پی لیا.

سب سے مزے کی صورتحال شیخ رشید کی گاڑی کے بعد سیکورٹی اہلکاروں کو پیش آئی کہ ایک گاڑی ان گاڑیوں کے بیچ میں آگئی اور اس کی ویڈیوز اور تصاویر بھی صحافیوں نے بنوا لی. اس طرح کی صورتحال تومیں نے چنائی میں دیکھی تھی کہ گاڑی کے سڑک پر آنے کے بعد کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن یہاں پر گائے سڑک پر آنے کے بعد آوازیں آنے لگی کہ "ڈی تہ ئی کڑہ”.

پاک افغان بارڈر کے زیرو پوائنٹ پر ہونیوالی پریس بریفنگ کی اطلاع اور اجازت ملتے ہی سب افغانستان بارڈر کی طرف بھاگے. پہلی نظر میں افغان طالبان کے جھنڈے جسے پشتو زبان میں بیرغ کہتے ہیں پر نظر پڑی جو زیرو پوائنٹ پر دو مختلف جگہوں پر لگائے گئے تھے

افغان طالبان نے سیکورٹی سنبھال رکھی تھی ان میں بعض نے شوز پہنے تھے جبکہ بعض کے چپل تھے لیکن ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ بھی دیکھا بعض افغان کمانڈروں نے چہرے چھپا رکھے تھے جبکہ بعض کی ہلکی ہلکی داڑھیاں تھی اور ان میں بیشتر بیس سے اٹھائیس سال کی عمر کے نوجوان تھے.

یہ وہ طالبان تھے جنہوں نے راتوں رات پورے افغانستان پر قبضہ کرکے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا . پاک فوج کے جوان بھی زیرو پوائنٹ پر پاکستانی سرحد کی طرف کھڑے تھے .زیرو پوائنٹ پر خاموشی تھی اور بہت کم لوگ پاکستان جانے کیلئے قطاروں میں کھڑے نظر آئے ،

کوئی رش نہیں تھا متعدد افغانیوں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے بات نہیں کی البتہ سب صحافیوں نے زیرو پوائنٹ کیساتھ پاکستانی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں اور افغان طالبان کیساتھ خوب تصاویر کھنچوائیں

جب پاکستانی صحافیوں نے دل کھول کر طالبان کیساتھ سیلفیاں بنائیں

جس سے اندازہ بھی ہوگیا کہ اب کی بار آنیوالے طالبان بیس سال کے طالبان سے بہت تبدیل شدہ ہے.صحافیوں نے اتنی سیلفیاں لی کہ آخر کار طالبان سیکورٹی اہلکار بھی کہہ بیٹھے ” بس دے کنہ سومرہ تصویرونہ اوباسی "یہ الگ بات کہ پاکستان کے بیشتر صحافیو ں نے منہ پر ماسک چڑھا رکھے تھے

بشمول سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے جبکہ طالبان سیکورٹی اہلکار اس معاملے میں بالکل تبدیل نظر آئے یا تو انہیں کرونا کے حوالے سے معلومات زیادہ تھیں اس باعث ماسک ان کے منہ پر نظر نہیں آئے. ان میں بعض کے پاﺅں میں چپل دیکھ کر خوشی کیساتھ حیرانی بھی ہوئی کہ ان لوگو ں نے کیسے وقت کے فرعونوں کیساتھ ٹکر لیکر انہیں واپس بھاگنے پر مجبور کردیا.

جنرل فیض کے دورہ کابل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ کیا امریکی فوج کے جنرل وہاں نہیں گئے تھے اس وقت تو سوال نہیں ہوتے تھے

وفاقی وزیر داخلہ نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک نئے بلاک کے حوالے سے بات کیں ، جس میں انہوں نے متعدد ممالک کے نام لئے اور بقول ان کے افغانستان کے حالات اب تبدیل ہوگئے ہیں اور اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے انہوں نے بھارتی میڈیا کے غلط اور جھوٹے پروپیگنڈے کا جواب دینے کیلئے بھی نوجوانوں پر زور دیا.

شیخ رشید کے بقول افغانستان کا امن پاکستان کے امن سے وابستہ ہے اسی باعث انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی . جنرل فیض کے دورہ کابل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ کیا امریکی فوج کے جنرل وہاں نہیں گئے تھے اس وقت تو سوال نہیں ہوتے تھے.

شیخ رشید نے پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اب حالات تبدیل ہونے جارہے ہیں اس لئے پاک افغان بارڈر پر تبدیلیاں لائی جارہی ہیں اور عملے کی تعداد بھی بڑھائی جارہی ہیں.

شیخ رشید کی پریس کانفرنس ختم ہونے کے بعد ہم نے دیکھا کہ بہت کم تعداد میں افغانیوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہوگیا ، البتہ گاڑیاں جو سامان لیکر افغانستان گئی تھی ا نکے خالی کنٹینر واپس آنا شروع ہوگئے

ان میں ایسے کنٹینر اور گاڑیاں تھی جن کے ٹائروں میں بچے چھپ کر بارڈر کراس کررہے تھے ایک بچے کو سیکورٹی اہلکار نے پکڑ لیا اور پھر دس سال سے بارہ سال کی عمر نے بچے نے وہ رونا شروع کیا کہ ہم نے ساتھی صحافی کو کہا کہ نکل چلو یہ تو ان کا معمول ہے لیکن ہمیں ذہنی کوفت میں مبتلا کرے گا.

واپسی پر اسی چترال سیکورٹی اہلکا ر سے ملاقات ہوئی تو اس سے پوچھا کہ کیوں صبح یہاں سے جھوٹ بول کر مجھے واپس کیا اور اضافی خرچہ کروایا ، تو اس کے چہرے پر کچھ وقت کیلئے شرمندگی نظر آئی لیکن اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا . اور پھر صحافی دوست کے چھکڑے گاڑی میں بیٹھ کر”ہم اسے لیموزین "سمجھ کر پشاور پریس کلب واپس پہنچ گئے.

Translate »