اتوار کے روز ایک طرف افغان حکومت اور طالبان دوحہ میں مذاکرات کر رہے تھے اور دوسری طرف ترک صدر رجب طیب اردوان کا طالبان کے حوالے سے بہت واضح موقف سامنے ایا جس میں اردوان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر مسائل حل کرنے کی دعوت دی وہیں بندوق کی نوک پر قبضے کی پالیسی کو بھی مسترد کیا ۔

قبرص روانگی سے قبل ترک صدر نے یہ واضح کیا کہ ہمارے پیش نظر افغانستان میں امن کا قیام ہے ۔ ترک صدر نے طالبان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق کہا کہ ہم طالبان سے یہ جاننا چاہیں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔

ہم افغانستان میں موجود اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لیئے پر عزم ہیں ۔ خیال رہے کہ دو روز قبل افغانستان میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ترک صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے ترک صدر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔

طالبان اور ترکی کے مابین وجہ نزاع کابل کا حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہے ۔ جسے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد ترکی کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ طالبان کی جانب پر اس پر ابتدائی رد عمل کے طور پر ترکی کو انتباہ جاری کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ دوحہ معاہدے کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء کی تاریخ کے بعد جو بھی غیر ملکی فوجی افغانستان میں ہوا اس کو نشانہ بنایا جائے گا ۔


یہ بھی پڑھیں 

  1. مہربہ لب کیوں ہو ؟
  2. ریلوے حادثات ،باتوں سے بڑھ کرعمل کی ضرورت
  3. داستان اردو،بزبان اردو

ترکی کے دفتر خارجہ کی ابتدائی وضاحت یہ سامنے آئی کہ کابل ائیرپورٹ کا کنٹرول ہمارے پاس نہ رہنے سے افغانستان میں موجود تمام غیر ملکی سفارتکار واپس چلے جائیں گے ۔ چونکہ کابل میں دیگر ممالک کے سفارت خانے بند ہونے سے افغانستان کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ تھا اسی لییے طالبان نے ترکی کے ساتھ مذاکرات اور ترک صدر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ۔

اب ترک صدر کی جانب سے سامنے آنے والے بیان نے طالبان سے متعلق ترک صدر کی سوچ کو بہت واضح کر دیا ہے ۔ ترک صدر کے تصور خلافت سے متعلق بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس کے مطابق تمام مسلمان کائنات میں اللہ کے خلفاء ہیں ۔

وہ سب جب تک متفقہ طور پر کسی ایک کو خلافت کا حق تفویض نہ کریں اس وقت تک خلافت کا دعویٰ درست نہیں۔ ترک صدر نے یہ بھی کہا کہ اپنے دشمن امریکہ کو سیف ایگزٹ دے کر اپنے ہم وطنوں پر اسلحہ لیکر چڑھائی کرنا کوئی بہادری نہیں ۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ طالبان کو بندوق کی نوک پر قبضے سے اجتناب اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا ۔ بصورت دیگر افغانستان میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ طالبان کی اپنے ہم وطن مسلمانوں کے خلاف مسلح کارروائیاں انہیں ایک بار پھر اسی کھائی میں دھکیل دیں گی جس سے بیس سال بعد طالبان نکلنے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔

دوحہ میں طالبان قیادت کے رویئے سے ایسا ہر گز محسوس نہیں ہوتا کہ وہ ماضی کی طرح غیر سنجیدہ فیصلے کر کے کسی بیرونی قوت کا نشانہ بنیں گے ۔ افغانستان کے اندر سے مزاحمت بھی طالبان کے لییے کوئی اچھی خبر نہیں مگر طالبان مطمئن دکھائی دے رہے ہیں

انہیں لگتا ہے کہ وہ ماضی کی طرح ایک بار پھر افغانستان میں اپنا اقتدار قائم کر لیں گے ۔ اگر آنے والے ایام میں طالبان ترکی کے ساتھ محاذ آرائی کی طرف جاتے ہیں تو ان کے خلاف مزاحمت میں شدت آنے ۔

ترکی کی جانب سے کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنے ساتھ پاکستان اور ہنگری کو بھی شریک کرنے کا کہا ہے ۔ اسی طرح ترکی کی یہ وضاحت کے اس کے افغانستان میں کوئی جنگی عزائم نہیں ہیں بلکہ وہ تمام مسلمانوں کے لییے خیرخواہی کے جذبات رکھتا ہے

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترکی مستقبل میں طالبان کے ساتھ فرینڈلی ماحول چاہتا ہے ۔ امریکی انخلاء کے بعد طالبان کا رویہ افغانستان میں موجود ترک فوج سے کیا ہو گا یہ اس پر منحصر ہے کہ تب تک مذاکرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے
۔

Translate »