سیف اللہ تنولی


پاکستان کے خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید اس وقت افغانستان کے دارلحکومت کابل میں موجود ہیں جہاں وہ طالبان قیادت سے ملاقاتیں کریں گے ،البتہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ان کی ملاقات طالبان کے رہبراعلیٰ ملا ہبت اللہ اخونزادہ سے بھی ہوگی یا نہیں ۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز نماز جمعہ کے بعدطالبان کی جانب سے افغانستان میں باقاعدہ حکومت کے قیام کا اعلان کئے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا تاہم ابھی حکومت کا اعلان کئے جانے کا معاملہ زیرالتواء ہے ۔بعض پروطالبان سوشل میڈیا کے اندازوں کے مطابق پنجشیر کا مسئلہ حل کئے جانے تک طالبان کی حکومت کا اعلان موخرکیا گیا ہے

بی بی سی پشتو سروس نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے خبردی کہ آئی ایس آئی چیف اعلیٰ حکام کے ہمراہ کابل میں ہیں جہاں طالبان حکام کے ساتھ سیکورٹی اور تجارتی معاملات پر گفتگو کریں گے ۔یہ 15 اگست کو کابل میں طالبان کی آمد کے بعد پاکستان اور افغانستان کے مابین پہلا اعلیٰ سطح رابطہ ہے

افغانستان میں امن و استحکام کیلئے کام کررہے ہیں،جنرل فیض حمید

جس کی دعوت طالبان حکام کی جانب سے دی گئی ہے ۔جبکہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ دورے کے دوران ایئرپورٹس کی مرمت ،ڈیورنڈ لائن کے قریب افغان مہاجرین کے مسائل سمیت دیگر امور پر بات چیت ہوگی

دوسری جانب ہوٹل پہنچنے پر عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا وہ افغانستان میں امن و استحکام کیلئے کام کررہے ہیں اور ان کا دورہ کابل بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔

بی بی سی کے دعویٰ کے مطابق گذشتہ ہفتہ پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا تھا کہ پاکستان افغان فوج کی تنظیم نو میں مددفراہم کریگا ،البتہ اس بات کی تصدیق یا تردید دونوں اطراف سے نہیں کی گئی


یہ بھی پڑھیں


واضح رہے کہ اس وقت افغانستان کے 34میں 33 صوبوں پر طالبان کی مکمل عملداری ہے ،جبکہ پنجشیر میں جہادی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اور سابق نائب صدر امراللہ صالح کی قیادت میں طالبان کے خلاف مزاحمت پر آمادہ ہیں

جہاں بعض اطلاعات کے مطابق دم توڑتی مزاحمت آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے جس کے بڑے علاقے پرطالبان کا قبضہ ہوگیا اور باقی ماندہ علاقوں کی جانب طالبان کی پیش قدمی جاری ہے ۔اگرچہ فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کئے گئے جن کی کسی آزادذرائع سے تصدیق نہیں ہورہی ۔

آئی ایس آئی سربراہ کی کابل میں موجودگی پر بھارتی میڈیا کی بے چینی

دوسری جانب ہفتے کے روز آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید کے کابل پہنچنے کی خبر گزشتہ دور روز سے طالبان ترجمان سہیل شاہین کے بیان پر ماتم کناں بھارتی ذرائع ابلاغ کیلئے کسی بم سے کم ثابت ںہ ہوئی ۔اور کابل کے ہوٹل میں چائے پیتے جنرل فیض کی تصویر کو لیکر بھارتی میڈٰیا نے سارا دن ماتم کناں رہا

ایک بھارتی ٹی وی چینل کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں اپنے لہجے سے ٹپکتی پریشانی کے چھپانے کی ناکام کوشش کرتی میزبان اپنے درشکوں کو بتارہیں کہ

اس وقت کابل پہنچا ہے آئی ایس آئی چیف ، لیفٹینٹ جنرل فیض حمید ،طالبان کے نیوتائوں نے اسے نیوتا بھیجا ہے ،آئی ایس آئی کا کیا کام ہے ؟کئی ادھیکار بھی آئی ایس آئی پرمکھ کے ساتھ ہیں ،

طالبان دو دن میں سرکار بنائے گا ان کے حکومت کا سنگٹھن ہوجائے گا ،اب اس میں آئی ایس آئی کا کیا کام ہے ؟

بھارت کی بے چینی پر پاکستانی سوشل میڈیا جی داروں کی دھماچوکڑی

اب پاکستان اور بھارت کی بات آئے اور سوشل میڈیا کے جگری جی دار خاموش ہوبیٹھیں یہ اتنا ہی ممکن ہے جتنا بھارتی قیادت ،میڈیا کے ذہن سے پاکستان اور آئی ایس آئی کی یادداشت کھرچنا

ایسے میں جب صاحب کی کابلی چائے تصویر سامنے آئی تو سوشل میڈیا کے خدائی خدمتگار موبائل اور کی بورڈ سے مسلح ہو کر میدان میں اتر آئے اور پھر جو محفل جمی تو لطف کے مارے دیکھنے سننے والوں کو غشی کے دورے پڑنے لگے

چائے کا ذکر آتے ہی نہ جانے اکثر پاکستانیوں کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ کیوں آجاتی ہے ،حالانکہ چائے پاکستان کیا بلکہ برصغیر کی روزمرہ زندگی کا لازمی جزو ہے ،اب جب جنرل فیض کی چائے کا ذکر ہوا تو شیر احمد نے اپنے ٹوئٹ میں ابی نندن کی چائے کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھا اور لکھ

یہ چائے کے دو ایسے کپ ہیں جو کسی دوسرے ملک یعنی پاکستان اور افغانستان میں پیئے گئے لیکن ان کا دھواں انڈیا میں اٹھتا دیکھا گیا

ہم پاکستانی تو یہی کہیں گے  چائے بہت اعلیٰ ہے

مٹی کے بیٹے نامی اکائونٹ نے کہا

لیفٹننٹ جنرل حمید بھارت کو چائے کا کپ دکھا کر اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اب تک کی تاریخی چائے

یاسف نامی ایک صارف نے کہا

ایسے سازشی عناصر ڈی جی آئی ایس ائی کے دورہ کابل میں بھی سازش ڈھونڈ رہے ہین انہیں چاہیے کہ وہ چند ہفتے قبل سی آئی اے کے چیف کے دورہ کابل پر بھی بات کریں ،

پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کیلئے کام کررہا ہے

کابلی چائے

کلیم بھٹی ٹالکز نے سابق اور موجود آئی ایس آئی سربراہان جنرل حمید گل مرحوم اور جنرل فیض حمید کی تصاویر کو جوڑتے ہوئے لکھا

بائیں جانب فن پارہ

دائیں جانب فن کار

ان دنوں پاکستان اور افغانستان کا ذکر ہو اور اس میں بھارت کا ذکر نہ ہو ،سوشل میڈیا صارفین کبھی یہ ناانصافی ممکنہ حد تک نہیں ہونے دیتے کیوں کہ حالیہ افغان کہانی میں جتنی سبکی بھارت اور بھارتی قیادت کو اٹھانی پڑی ہے اتنی بیس سال تک ادھورے خواب کی تلاش میں خوار امریکہ کی حصے میں بھی نہیں آئی

سو رستم خلیل نامی ٹوئٹر صارف نے اس اہم موقع پر انڈیا کا ذکر خیر ضروری سمجھا اور بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی کچرے سے بھری تھیلی لٹکائی تصویر کے ساتھ عنوان جمایا

آخر کار بھارت نے افغانستان کے حوالے سے اپنی امیدیں توڑنا شروع کردی ہیں ،جہاں اس کی مزاحمت کی آخری امید امراللہ صالح بھی طالبان کے سامنے سرنگوں ہوچکا ہے

سمیرا پی ٹی آئی نامی صارف نے سوال پوچھا

چند روز قبل تمہارا میجر گورایا تو دعویٰ کررہا تھا کہ طالبان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کے خواہشمند ہیں

تو اب بھارتی میڈیا کیوں واویلا کررہا ہے

ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

کابلی چائے

Translate »