عمر الشغری  اس وقت صرف پندرہ سال کے تھے جب عرب بہار کے جھونکوں نے شام کے دروازے پر دستک دی ،لیکن یہ عرب بہار 15 سالہ عمر کیلئے ایک بدترین خزاں ثابت ہوئی جس میں اس کے والد ،جوان العمر بھائی اور دوست ،گھر ،گائوں سکول اور خواب سب چھن گئے

عمر الشغری کی کہانی
18 مارچ 2011 کے دن مجھے میرے ایک کزن نے کال کی اور کہا جلدی سے بنیاس شہر کے مرکز پہنچو جہاں پرندے (انقلابی )جمع ہورہے ہیں ،یہ مقام میرے گائوں بدایہ سے محض 10 منٹ کے فاصلے پر تھا


ترکی سے جنگی ہیلی کاپٹروں‌کی خریداری پرامریکی پابندی اورنئے امکانات

شام میں تربیت یافتہ جنگجوملکی سلامتی کیلئے نیا خطرہ ؟


شامی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے عمر کے والد احمد ،چھوٹے بھائی عثمان اور محمد ،جن کی عمریں اس وقت محض 19 اور 15 سال تھیں ،تصویر بشکریہ عمرالشغری فیس بیک

میری عمر اگرچہ پندرہ برس تھی لیکن میں اپنے کزن کے الفاظ کا مطلب سمجھ گیا تھا ۔کیوں کہ میں اس سے قبل تیونس اور مصر میں ہونے والے مظاہرے ٹی وی پر دیکھ چکا تھا اور6 مارچ سے شام میں بھی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ۔کیوں کہ دارا سے تعلق رکھنے والے 15 طلباء کو حکومت مخالف نعرے لکھنے پر گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ،جس سے اردگرد شدید بے چینی پائی جاتی تھی اور 15 مارچ تک دمشق اور اس کے قریبی علاقوں میں بھی مظاہرے شروع ہوچکے تھے

مجھے جب کال آئی تو میں سمجھ گیا کہ اب میرے شہر کی باری آگئی ہے
فون پر مجھے بات کرتے سن کر میرے والد جو کہ خود بھی سابقہ فوجی تھے نے گھر پر رہنے کا حکم دیا
کیوں کہ وہ حکومتی فوج کے ظلم و جبر سے بخوبی آگاہ تھے جب ان کے ایک چچازاد بھائی کو 12 سال تک قید میں رکھا گیا تھا اور اب وہ

مجھے اور اپنے دوسرے بچوں کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے،لیکن میں اس انقلاب کا حصہ بننا چاہتا تھا ،اس لئے نہیں کہ مجھے حکومت کی کرپشن اور ظلم کا علم نہیں تھا بلکہ اس لئے بھی کہ میرے تمام دوست اور کلاس فیلوز بھی ان مظاہروں کا حصہ تھےاور میں بھی ان کے ساتھ شامل ہونا چاہتا تھا

میرے والد خود بھی ظلم کے اس نظام کے خلاف تھے لیکن وہ میری وجہ سے خوفزدہ تھے ،میں نے انہیں منانے کی کوشش کی ،شاید انہیں میری آنکھوں میں جھلکتا یقین نظر آرہا تھا کہ وہ بالآخر اپنی موٹر سائیکل پر مجھے شہرچھوڑ کر آنے پر رضامند ہوگئے
میں سمجھا وہ بھی شاید میرے ساتھ مظاہرے میں شریک ہوں گے ،لیکن انہوں نے مجھے کہا اپنا چہرہ ڈھانپ لو اور وہ یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے شاید اب لاکھوں لوگ مارے جائیں گے ،وہ جب مڑے تو میں انہیں دور تک جاتے ہوئے دیکھتا رہا

سفید گلاب اور آزادی کا احساس
جب میں مظاہرہ والی جگہ پہنچا تو کسی نے مجھے سفید گلاب دیا ،مجھے آج بھی اس گلاب کی بھینی خوشبو یاد ہے اور اس خوشبو نے میرے لئے احتجاج اور آزادی کی طلب کے حسن میں مزید اضافہ کردیا
میں نے مظاہرے میں شامل ہوتے ہی عربی اور انگریزی میں آزادی کا نعرہ بلند کیا ،میری آواز کے جذبے نے خود مجھے بھی حیران کردیا ،
لیکن میں محسوس کررہا تھا کہ مظاہرہ میں شامل لوگ کچھ سہمے ہوئے ہیں اور وہ کن انکھیوں سے ارد گرد دیکھ رہے تھے جیسے انہیں کوئی خدشہ لاحق تھا

پھر وہی کچھ ہوا ،جس کا سب کو اندیشہ ستا رہا تھا
اچانک وہاں ہزاروں مسلح فوجی اور سیکورٹی اہلکار پہنچنا شروع ہوگئے
میں خود بھی تھوڑی دیر کیلئے متزلزل ہوگیا کیوں کہ اس سے پہلے میں نے فوجیوں کے مظالم کے بارے میں صرف سن رکھا تھالیکن اپنی آنکھوں سے کبھی دیکھا نہیں تھا

فوجی بھائیوں کو دیکھ کر بھی مظاہرین نے نعرے لگانا جاری رکھا ،اگرچہ مظاہرین مکمل طور پر پرامن تھے لیکن ہمارے فوجی بھائیوں نے گولیاں برسانی شروع کردیں ،جس میں کئی لوگ خاک و خون میں نہا گئے
اس دن مارے جانے والوں میں میرے سکول کا ایک دوست 16 سالہ اعلیٰ بھی شامل تھا
مظاہرین منتشر ہونا شروع ہوگئے ،خواتین نے ہمیں چھپانے کےلئے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے ایک اجنبی گھر میں پناہ ملنے پر تحفظ و شکرگزاری کا احساس مجھے آج بھی یاد ہے

فوجیوں کے جانے کے بعد مظاہرین ایک بار پھر اسی چوک میں جمع ہوگئے اور نعرے بازی شروع ہوگئی
مئی میں میرا شہر بنیاس کا فوجیوں نے ساتھ روز تک محاصرہ کئے رکھا ،جس میں کئی لوگ مارے گئے
حکومت نے کہا یہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی ہے تاہم اپوزیشن جانتی تھی کہ جمہوریت پسندوں کےخلاف کریک ڈائون ہے
لیکن اس سے قبل 12 اپریل کو مجھے اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب میں گھر سے روٹی لینے کیلئے نکلا ،میرے گھر والوں کو علم نہ تھا کہ گائوں میں فوجی آئے ہوئے ہیں

عمرجب 15 برس کے تھے ،جبکہ دوسری جانب تین سال قید سے رہائی کے بعد تصویر بشکریہ عمرالشغری فیس بک

مجھے پکڑ کر میرے ہاتھ باندھ دیئے گئے اور مجھے دیگر پانچ سو زائد دیگر گرفتار شدگان کیساتھ زمین پر پھینک دیا گیا ،
اس دوران وہاں موجود فوجیوں نے مجھے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا ،وہ سر پر لات مارتے اور مجھے بشارالاسد ،شام اور اسد سے وفاداری کے نعرے لگانے کا کہتے

اگرچہ میں سکول میں کئی سالوں سے یہ نعرے لگاتا آرہا تھا لیکن ان نعروں کے پس پردہ جبر و ظلم کا احساس مجھے پہلی بار ہو رہا تھا
پھر نومبر 2012 میں مجھے میرے کزنز 22 سالہ بشیر ،19 سالہ راشد اور 17 سالہ نور کے ساتھ ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا
ہمیں مختلف جیلوں سے منتقل کرتے ہوئے بالآخر دمشق جیل پہنچا دیا گیا ،جسے ہم نے خاموش موت کا نام دیا ،کیوں کہ اسی جیل میں میں نے راشد اور بشیر کو دم توڑتے ہوئے دیکھا جبکہ وہیں مجھے نور کے مارے جانے کی اطلاع بھی ملی

میں جیل میں ہی تھا جب فوجیوں نے میرے والد اور میرے دونوں بھائیوں 15 سالہ عثمان اور 19 سالہ محمد کو بھی ماردیا
میرے گھر کو جل دیا گیا اور میرے سکول کو بم سے اڑادیا اس کے علاوہ گائوں کے دیگر سینکڑوں لوگ بھی قتل ہوئے ،تاہم میری والدہ بہنیں کسی طریقہ سے بچ کر ترکی پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں

جیل میں قید کے دوران مجھے آمریت اور جبر کا حقیقی چہرہ دیکھنے کا موقع ملا
جہاں ایسا ماحول پیدا کیا گیا تھا کہ اپنے آپ کو زندہ رکھنے کےلئے دوسروں کو ماردیا جائے ۔میرے کزن اور دیگر قیدیوں کو مجبور کیا جاتا کہ وہ مجھ پر تشدد کریں ،

میں نے ساری زندگی یہ سمجھا اور دیکھا تھا کہ ایک باپ اپنے بچوں کی زندگی کیلئے کتنی تگ و دو کرتا ہے ،لیکن جیل میں میں نے باپ بیٹے کو پانی اور روٹی کیلئے ایک دوسرے سےلڑتے ہوئے دیکھا ،بیٹھنے کیلئے جگہ نہ ہونے پر سگے بھائیوں ایک دوسرے کو تشدد کرتے دیکھا

ان جیلوں میں یا تو آپ کو تکلیف سے مرنا پڑتا تھا یا بچ جانے کی ذلت کے ساتھ جینا پڑتاتھا
اس تاریک اور گندگی بھری جیل کوٹھڑی میں میرے لئے کئی ڈرائونے خواب تھے ۔جہاں گارڈ مجھے تشدد کا نشانہ بناتے یا مجھے اپنے دوستوں یا خاندان کے لوگوں کو قتل کرنے پر اکساتے تھے


لیکن ان تاریک راتوں میں میں کچھ خواب بھی دیکھتا تھا جب میں ان ظالم آمروں کو عدالت اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑے دیکھتا اور ان کے مظالم کے بدلے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھتا
پھر 11 جون 2015 کا دن آگیا اور میری والدہ نے جیل کے محافظوں کو رشوت دیکر مجھے جیل سے نکالنے پر آمادہ کرلیا ،جنہوں نے ایک جعلی سزائے موت کے زریعے مجھے جیل سے باہر پہنچا دیا


پھر دس روز بعد میں ترکی پہنچ گیا جہاں میری والدہ اور خاندان موجود تھا ،جہاں کچھ دن ٹھہرنے کے بعد میں جیل میں لاحق ہونے والی تپدق کے علاج کےلئے ربڑ کی ایک کشتی کے ذریعے بحیرہ روم کا پر خطرسفر کرتے ہوئے سویڈن پہنچ گیا

یورپ پہنچ کر میں نے زندگی کو نئے سرے سے جینے کی کوشش شروع کیا ،لیکن جیل میں گزرے بھیانک دن اور یادیں مجھے ہر لمحہ ستاتیں ،اور مجھے جیلوں میں موجود اپنے جیسوں کا خیال ہر وقت جاگزیں رہتا

پھر ایک روز میرے جیل کے ایک سابق محافظ نے مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے ڈھونڈ نکالا اور مجھے خاموش رہنے کی دھمکی دی ۔ایک لمحہ کیلئے مجھے سارے دکھ اور تکلیفیں یاد آگئیں ،لیکن میں نے تحمل کیساتھ اس کی کال ریکارڈ کرلی تاکہ کسی عدالت میں اس کےخلاف بطور گواہی پیش کی جاسکے

اگرچہ اسد رجیم سمجھتی ہے کہ وہ لوگ جو شام سے فرار ہوچکے ہیں سب کچھ بھول جائیں گے یا فراموش کر بیٹھے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں
ہم پر ہونے والے مظالم ہمیں توڑ نہیں سکتے بلکہ ہمیں انصاف کیلئے لڑنے کا حوصلہ دے رہے ہیں
گذشتہ چند سالوں کے دوران میں نے اور صعوبتیں برداشت کرنے والے دیگر دوستوں نے یورپ میں پناہ ڈھونڈنے والے اسد انتظامیہ اور اس کے اہلکاروں کےخلاف تحقیقات کرنیوالے اداروں کو سویڈن ،جرمنی اور یورپ کی جنگی جرائم کی عدالتوں میں ثبوت پیش کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے

ان اہلکاروں میں سے کئی یورپ کے مختلف ممالک میں پکڑے گئے ہیں اور ان کے خلاف عدالتوں میں انسانیت سوز مظالم کے مقدمات چل رہے ہیں
فروری میں اسد رجیم کا ایک اعلیٰ انٹیلی جنس افسر عیاد الغریب جرمنی میں پکڑا گیا جسے عدالت نے جرائم ثابت ہونے پر ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی ہے

میں اور میرے دیگر شامی دوست ماضی کے صدمات کے ہاتھوں شکست کھانے کے بجائے مظالم ڈھانے والوں کےخلاف ڈٹ جانے کا فیصلہ کرچکے ہیں

ہم اپنے ڈرائونے خوابوں کو اپنے ملک کےلئے سہانے خواب میں بدلنے کا عزم کئے ہوئے ہیں اور وہ وقت ضرور آئے گا جب ہم اپنے ملک کو ایک بار پھر سے تعمیر کرینگے

میری والدہ میرے لئے حوصلے و استقامت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں ،جنہوں نے تمام دکھوں ،تکلیفوں کے باوجود نئی زندگی کا آغاز کیا ،مجھے محفوظ ہونے کا احساس دلایا
جب ہم ترکی میں دوبارہ ملے تو انہوں نے مجھے کہا
جو مجھ پر بیتی اور جو تم پر گزری یہ سب یاد کرنے کے لائق ہے


رپورٹ کا ماخذ  الجزیرہ

Translate »