جیسی ولیم

شام میں عوامی مزاحمت کے دس سال مکمل ہوگئے ،عرب بہار کے آغاز پر گلیوں اور محلوں سے شروع ہوننے والا پرامن مظاہروں کا سلسلہ جلد ہی حکومتی جبر اورخونریزی کا شکار ہوگیا

جسے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانی ہاتھوں سے لائی گئی سب سے بڑی تباہی قرار دیا
لیکن اس میں سب سے زیادہ متاثرہونے والا طبقہ خواتین اور بچیاں تھیں ،جو خانہ جنگی اور بعدازاں اب بھی کسی نہ کسی طرح استحصال کا شکار ہورہی ہیں،جنہیں بدترین حالات کا سامنا رہا اور اب بھی ان کے استحصال کا سلسلہ جاری ہے

شام کی داستان خون آشام اور حوصلوں‌کاقصہ

شام میں تربیت یافتہ جنگجوملکی سلامتی کیلئے نیا خطرہ

شمالی ادلب کے مہاجر کیمپ میں مقیم 47 سالہ غالیہ رحال کو جنوبی ادلب میں واقع اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا وہ بتاتی ہیں ہم صرف بشار رجیم کے خلاف ہی نہیں لڑ رہے تھے ،بلکہ بطور خواتین ہماری جدوجہد کا دائرہ اس سے کہیں وسیع تھا جہاں ایک طرف قدامت پسند معاشرہ تھا ،تو دوسری جانب مسلح انتہا پسند گروپ ،حکومت اور روس کے جنگی جہاز تھے جن کا ہمیں سامنا تھا


انہوں نے 2013 میں اپنے سیلون کو خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے تربیتی مرکز میں بدل دیا ،جس کی انہوں نے مزید کئی مقامات پر اور بھی شاخیں کھولیں لیکن جنگ پھیلتے ہی انہیں سب کچھ بند کرنا پڑا
ہر ہفتے ان کے پاس بہت سی خواتین جو زیادتی کا شکار ہوتیں ان کے پاس مدد مانگنے آتیں ،اگرچہ شام میں خواتین کے استحصال کے واقعات پہلے بھی رونما ہوتے تھے لیکن خانہ جنگی کے بعد ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا
شام ایک قدامت پسند معاشرہ ہے جہاں اب بھی خواتین اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بات کرنے سے گھبراتی ہیں،خانہ جنگی کے بعد غربت اور بھوک کی وجہ سے اب خواتین سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کے کارکنان کیلئےآسان شکار بن چکی ہیں جو بعض اوقات محض خوراک یا نوکری کے جھانسے میں عزت سے محروم کردی جاتی ہیں

غالیہ رحال کے بقول کچھ عرصہ قبل ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ،جب انہیں ایک اجنبی نمبر سے موبائل پر پیغام موصول ہوا کہ اگر آپ نوکری حاصل کرنا چاہتی ہیں تو اپنا وعدہ پورا کریں
رحال کے مطابق پہلے میں سمجھی شاید یہ پیغام غلطی سے میرے پاس آگیا ہو ،لیکن پھر میں نے اس کی کھوج لگانے کا فیصلہ کیا
اور پیغام بھیجنے والے شخص سے وٹس ایپ پر بات کی اور اس سے پوچھا کہ مجھے کونسا وعدہ پورا کرنا ہوگا ،جس پر اس شخص نے کہا کہ وہ اگر ان کی خواہش پوری کردیں تو وہ انہیں نوکری دلوا سکتا ہے
رحال نے اس شخص کی مزید معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ وہ مقامی انتظامیہ میں خوراک کی تقسیم کے شعبے کا ذمہ دار ہے
جس پر اس کے خلاف خفیہ نام سے درخواست دی گئی ،اور جب تحقیقات ہوئیں تو اس شخص کے ہاتھوں بہت سی دیگر مجبور خواتین کے استحصال کی کہانیاں بھی منظر عام پر آئیں
وہ شخص گرفتار ہوگیا ،لیکن میں مزید اس کے خلاف کچھ کرنے کی خواہش کے باوجود کچھ نہیں کرسکتی تھی ،کیوں کہ مجھے معلوم تھا اب مزید میری کوئی حمایت نہیں کریگا
وہ اگرچہ خواتین کے لئے لڑ رہی ہیں لیکن یہ کام تھکا دینے والا ہے ،انہیں شدید مخالفت اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات اتنے تلخ تجربات ہوتے ہیں کہ خودکشی کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہیں
2016 میں ان کے بڑے بیٹے کے جو صحافی تھا قتل کردیا گیا ،شدت پسند گروہ تحریرالشام کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں اور ان کے سنٹر کو آگ لگادی گئی
لیکن اتنا کچھ ہونے کے باوجود میرے دل سے اب خوف نکل چکا ہے اور میں خواتین کےلئے لڑتی رہوں گی
23 سالہ رابعہ کسیری خانہ جنگی کے دوران امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے شہرت پانے والی تنظیم وائٹ ہیلمٹ کی 230 خواتین کارکنان میں شامل ہیں ،
رابعہ کے بقول خوف میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے ،لیکن مجھے معلوم ہے جہاں بمباری ہوگی وہاں مجھے ڈرنے کے بجائے مدد کیلئے پہنچنا ہوگا


اور دوسری کی مدد کرنا ہوگی ،اس وقت بھی وہ وائیٹ ہیلمٹ کے تحت خواتین کے ایک کیمپ کی سربراہ ہیں ،جہاں وہ زخمیوں اور بیماروں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتی ہیں
وہ بتاتی ہیں کہ مجھے یاد ہے میں پہلی بار 2020 میں اریحا کے علاقے پر ہونے والی شدید بمباری کے بعد امدادی ٹیم کے ساتھ موقع پر گئی اور وہاں سے لوگوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کیا ۔
رابعہ کے بقول اگرچہ جنگ نے انہیں جسمانی طور پر تو گزند نہیں پہنچایا لیکن شاید ان کے اندر کچھ مر چکا ہے ،وہ اپنا گھر اور بہت سے قیمتی لوگ کھو چکی ہیں
لیکن ان کے نزدیک خاتون ہونے کے ناطے ایک مسلم معاشرے میں جہاں انہیں بہت سی مشکلات ہیں ،کیوں کہ خاص طور پر خواتین کے علاج کےلئے انہیں مردوں کی بہ نسبت زیادہ آسانی سے رسائی مل جاتی ہے ،اگرچہ میرے کام کی نوعیت اہم ہے لیکن اکثر مجھے خاموش کروا دیا جاتا ہے یا میرے کردار کو محدود کردیا جاتا ہے
36 سالہ حسنہ عیسٰی کو ایک پرامن مظاہرہ کے دوران 2014 میں سرکاری اداروں نے گرفتار کیا ،جیل میں انہیں بدترین حالات کا سامنا رہا ، دو میٹر کے سیل میں پندرہ خواتین کو بند کیا گیا تھا ،تنگ کوٹھڑی ،گندا پانی اور ناقص خوراک قیدیوں کو دی جاتی
بعض خواتین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کئی ایک کے حمل ضائع ہوگئے
وہ تقریبا ایک ماہ جیل میں رہیں جہاں ان کے والدین نے رشوت دیکرانہیں آزاد کروالیا ۔لیکن وہ برے دن انہیں آج بھی یاد ہیں
حسنہ آج بھی پرامید ہیں کہ جس مقصد کیلئے ان کی نسل نے قربانیاں دی ہیں ان کی آنے والی نسلوں کو اس کا پھل ضرور ملے گا ،وہ اب خواتین کے حقوق کیلئے کام کررہی ہیں
کیوں کہ ان کے بقول اپنے حقوق سے لاعلمی کے باعث خواتین سب سے زیادہ متاثر ہونیوالا طبقہ ہے
مجھے یقین ہے کہ اگر خواتین کو تعلیم وتربیت اور آگاہی دی جائے تو وہ اپنا کردار زیادہ بہتر انداز میں ادا کرسکتی ہیں
دس سال قبل ان کی زندگی کا وہ مشکل ترین لمحہ تھا جب غوطہ میں بمباری کی زد میں آ کر ان کا چھوٹا بھائی مارا گیا جبکہ دوسرے بھائی کی دونوں ٹانگیں ضائع ہوگئیں
وہ حسنہ عیسیٰ تین سال قبل ترکی کے زیرانتظام علاقے میں اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ آگئیں ،اتنی تکالیف اور دکھ سہنے کے باوجود انہیں اس بات کا دکھ نہیں کہ وہ اس جدوجہد کا حصہ کیوں بنیں
ان کے نزدیک پہلے وہ خود کو پنجرے میں قید سمجھتی تھیں لیکن اب وہ آزاد ہیں


کرم فائونڈیشن کی بانی لینا عطار کہتی ہیں خواتین جنگ اور انقلاب کا نہ دکھائی دینے والی جنگجو ہوتی ہیں ،ہمارے پاس کئی ایسی کہانیاں ہیں جہاں خواتین نے مظاہرین کیلئے اپنے گھروں کے دروازے کھولے اور سرکاری فوجیوں کے مظالم سے بچنے کیلئے انہیں پناہ دی ،اب مہاجر کیمپوں میں بھی زیادہ بوجھ خواتین اٹھائے ہوئے ہیں ،جہاں وہ کام کرنے کے ساتھ بچوں کی دیکھ بھال کا فریضہ بھی سرانجام دے رہی ہیں
لینا عطا ر کے مطابق مہاجرت ایک وقتی مرحلہ ہے جو آپ کی حدود کو محدود نہیں کرسکتا اور مجھے خوشی ہوتی ہے جب میں نوجوان شامی خواتین اور لڑکیوں سے ملتی ہوں اور ان سے بات کرتی ہوں تو مجھے ان کے لامحدود امکانات پر مبنی یقین کو دیکھتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے
شاید ہی ایسا کوئی بچہ یا بچی ہو جو جنگ سے متاثر نہ ہوا ہو ،یا جنہوں نے تشدد ،بار بار ہجرت اور کمسنی میں مزدوری کی تکلیف نہ سہی ہو اور جو اپنے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہوں اور یہ بات لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں کو متاثر کرتی ہیں

وائٹ ہیلمٹ ٹوئٹر

لیکن ان کی مدد اور رہنمائی سے بہت سی نوجوان لڑکیوں نے اپنے بہتر مستقبل کیلئے راہیں تلاش کی ہیں ۔
انہی میں سے ایک 18 سالہ ایمان ہیں جو 2015 میں ادلب چھوڑ کرترک سرحد کے قریب پناہ لینے پر مجبور ہوئیں ،جہاں انہیں اکثر اپنے گائوں پر گرنے والے بموں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں
لیکن اس وقت ایمان ایک ترک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور ساتھ ہی امریکی یونیورسٹی میں لسانیات کے شعبے میں داخلے کیلئے کوشش کررہی ہیں،وہ دنیا کو شام کا حقیقی اور خوبصورت چہرہ دکھانے کی خواہش رکھتی ہیں

رپورٹ کا ماخذ الجزیرہ

Translate »