Spread the love

شفیق سید

مظفرآباد


حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات کے تیسرے روز بھی مقبوضہ وادی میں قابض انتظامیہ کی جانب سے سخت پابندیاں عائد ہیں ،عوامی نقل و حرکت انتہائی محدود ہے جبکہ وادی میں ابھی تک مواصلات کے ذرائع مسدود ہیں

اپنی تمام تر زندگی بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے والے اور اس کے نتیجے میں اپنی زندگی کا غالب حصہ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے سید علی گیلانی کی وفات کے فورا بعد قابض انتظامیہ نے ان کی رہائش گاہ کے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا

اور عام شہریوں کو ان کی رہائش گاہ کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ،جبکہ قابض حکام نے ان کی میت زبردستی قبضے میں لیکر علی الصبح ان کی رہائش گاہ کے قریب ہی ان کی تدفین کردی جس میں قریبی عزیزوں کو شرکت کی اجازت نہ دی گئی ۔

سید علی گیلانی کے فرزند نسیم گیلانی کے مطابق گذشتہ کئی سال سے علالت اور نظربندی کے شکار ان کے والد کی میت کو پولیس اہلخانہ سے زبردستی چھین کر لے گئی ،اور ان کے اہلخانہ اور عزیزوں کو بھی جنازہ و تدفین میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی


یہ بھی پڑھیں


اس سے قبل سید علی گیلانی کی وفات کی خبر عام ہوتے ہی مقبوضہ کشمیر کی مساجد میں اعلانات کی گئے تھے کہ سید علی گیلانی کی نمازجنازہ کیلئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے تاہم اس سے قبل ہی قابض حکام نے ان کی میت قبضے میں لے لی اور علاقے میں لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کیلئے سخت انتظاما ت کئے

اور ہزاروں کی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا جبکہ پوری وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی معطل کردی گئیں ۔

مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے اپنی پوری زندگی جدوجہد کرنے والے 92 سالہ سید علی گیلانی کی مجموعی طور پر پچاس سالہ زندگی سلاخوں کے پیچھے گزری اور اور انہیں بھارت کی مختلف جیلوں میں قیدرکھا گیا جبکہ گزشتہ تقریباً گیارہ سال سے انہیں اپنے گھرحیدرپورہ میں نظربند رکھا گیا
اور عام لوگوں کی ان تک رسائی اور ملاقاتوں پر پابندی عائد رکھی گئی ۔

نظربندی و قید کے 50 سال

گذشتہ ایک سال سے سید علی گیلانی شدید علیل تھے لیکن اس کے باوجود انہیں علاج معالجہ کی مناسب سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں

مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کیلئے اپنی پوری زندگی جدوجہد کرنے والے سیدعلی گیلانی کی وفات پر پاکستان میں ایک روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا اور ملک کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں مرحوم رہنما کی غائبانہ نمازجنازہ ادا کی گئی

جبکہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں غائبانہ نمازجنازہ میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی ،وزیراطلاعات فواد چوہدری سمیت اعلیٰ فوجی و سویلین قیادت نے بھی شرکت کی

دوسری جانب مقبوضہ وادی میں آج بھی سخت پابندیاں عائد رہیں اور وادی کے مختلف علاقوں میں مظاہرے بھی ہوئے ،البتہ قابض انتظامیہ نے مظاہروں اور احتجاج کے پیش نظربیشتر جامع مساجد میں نمازجمعہ کے اجتماعات کی اجازت نہیں دی

Translate »