مسرت اللہ جان


بچپن میں سنتے آرہے ہیں کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزے بھی رنگ پکڑتا ہے اس محاورے کو عملی میدان میں دیکھنے کا اتفاق حا ل ہی میں ہوا کیونکہ کھیل کے شعبے میں کام کرنے والے دو اداروں جن میں ایک وفاق کے ایسی وزیر کے زیر انتظام ہے جس نے اپنے دور میں اٹھارھویں ترمیم کے حق میں بطور سپیکر قرارداد منظور کروالی ہے اب وہی وفاقی وزیر بن کر اسی قرارداد کی خلاف ورزی کررہی ہیں

اور یہ وفاقی ادارہ ہے جبکہ دوسرا ادارہ صوبائی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ ہیں جس کے نگران وزیر صوبائی وزیراعلی خیبر پختونخواہ ہیں مگر وہ بھی اس وزارت کو ڈنگ ٹپائو پایسی کے تحت چلارہے ہیں.

بات شروع کی تھی محاورے سے ‘ لہذا محاورے کی طرف آتے ہیں وفاق کے زیر انتظام پشاور میں واقع پاکستان سپورٹس بورڈ کوچنگ اینڈ ٹریننگ سنٹرمیں صرف ایک کھیل اس وقت جاری ہے اور یہ کھیل بھی صرف اس سنٹر پر تعینات قائم مقام ڈائریکٹرکی وجہ سے ہے کیونکہ وہ خو د بھی سکواش کے کوچ ہیں اور انہیں صرف سکواش ہی کھیل نظر آتا ہے

باقی تمام کھیل ان کی نظر میں خیرخیریت ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف احتجاج والی بال کے کھلاڑیوں نے کیا اور والی بال کھلاڑیوں نے ڈی جی سپورٹس کرنل ریٹائرڈ آصف زمان کے سامنے احتجاج کیا کیونکہ دو سال سے انہیں کھیلنے کیلئے جگہ فراہم نہیں کی جارہی تھی

بات ہورہی ہے سکواش کے کھیل کی تو پشاور میں واقع وفاقی ادارے کے زیر انتظام بلڈنگ محب اللہ خان سکواش کورٹ میں پرائیویٹ کوچنگ کرکے پیسے کمانے کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ حصہ تواسلام آباد تک پہنچتا ہے اس لئے سب کی آنکھیں بند ہیں.

وفاق کے زیر انتظام ادارے میں آنکھیں بند ہونے اور جیب گرم ہونے سے سے اب صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ میں تعینات حکام نے بھی آنکھیں بند کرنا شروع کردی ہیں کیونکہ یہاں پر بھی کوچنگ کے نام پر “دکانداری”کا عمل شرو ع کردیا گیا ہے .


یہ بھی پڑھیں:


دکانداری کا آغاز سوئمنگ پول سے کردیا گیا ہے حالانکہ دو دن پہلے وفاق نے سوئمنگ پول کے حوالے سے اعلامیہ بھی جاری کیا کہ کرونا کی وجہ سے سوئمنگ اور واٹر سپورٹس پر پابندی ہے مگر برا ہو ‘ اس پیسے کا جو سوئمنگ پول سے سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ کو مل رہا ہے اس کی وجہ سے یہ آج بھی کھلا ہے

اور روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں بچے یہاں پر سوئمنگ کیلئے آتے ہیں ‘ اگر کرونا حقیقت ہے تو پھر سرکار کے ادارے میں سرکار کے اپنے احکامات کی خلاف ورزی کس طرح ممکن ہے یہ وہ سوال ہے جو ارباب اختیار کو خود اپنے آپ سے اور اپنے ماتحتوں سے کرنے کی ضرورت ہے

کہ ” کرونا پھیلائو ” کی یہ مہم سرکاری سطح پر کیوں چلائی جارہی ہے ‘ کیا پرائے بچوں کے صحت سے کھیلنا سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا مینڈیٹ ہے.

مینڈیٹ پر یاد آیا کہ اس سپورٹس ڈائریکٹریٹ میں آنیوالے افراد بشمول بچوں کوتیراکی کیلئے ممبرشپ حآصل کرنی پڑتی ہے جس کیلئے باقاعدہ فیس مقرر ہے اور یہ باقاعدگی سے لی جاتی ہے تاہم اب وفاقی ادار ے کے دیکھا دیکھی سوئمنگ پول میں بھی آنیوالے بچوں سے ڈیمانڈ کی جاتی ہے کہ وہ ممبرشپ فیس کے علاوہ دو ہزار روپے کوچ کو ادا کریں تو وہ بچوں کو سوئمنگ کرنا سکھائیں گے.

کھیلوں کی تنظیم کے تعاون سے بھرتی ہونیوالے ان سوئمنگ کوچ کی بھلا کیا اوقات ہے کہ وہ آنیوالے بچوں سے سوئمنگ فیس کیلئے الگ ہزاروں روپے کا مطالبہ کریں کہ ممبرشپ فیس کے ساتھ ساتھ د و ہزار روپے الگ سے کوچ کو دیں تو تیراکی سکھا دی جائے گی .

دھڑلے سے بچوں سے مطالبہ کرنے والے ان کوچ کے اپنے پیٹ ماشاء اللہ اتنے نکلے ہوئے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ سوئمرز ہیں کیونکہ سوئمنگ کرنے والے کبھی موٹے پیٹ والے ہو نہیں سکتے لیکن یقینا ان یہ ان پیسوں کا کمال ہے جو اب پرائیویٹ کوچنگ او ر سوئمنگ سکھانے کے نام پر بچوں سے کیا جارہا ہے

تاہم اس عمل میں صرف کوچز ہی ملوث نہیں بلکہ اس عمل میں سوئمنگ پول کا انتظام کرنے والے بھی ملوث ہیں جن کی موجودگی میں بچوں سے الگ سے فیس کا مطالبہ کیا جارہا ہے جو یقینا سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ کے نام پر ایک دھبہ ہے.

 

کوچنگ کے نام پر دکانداری کیوں؟

یا پھر اسے ہم ” ملک میں آنیوالی تبدیلی ” یا پھر عمران خان کے وژن کے مطالبہ” وزیراعلی محمود خان کی جانب سے “آنیوالی تبدیلی ” ہی قرار دے سکتے ہیں .جس پر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختونخواہ اور سیکرٹری سپورٹس کوخود توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ” پرائیویٹ دکانداری ” اگر سرکاری اداروں نے ہی کرنی ہے تو پھر عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں لینے والے ان ملازمین کی ضرورت ہی کیا ہے جنہیں عوام اپنے خون پسینے کی کمائی دیکر پال رہے ہیں.

پالنے سے متعلق یاد آیا کہ گذشتہ کئی ماہ سے کھلے خیبر پختونخواہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے زیر انتظام سوئمنگ پول کس کس کو “پال رہا ہے یعنی اخراجات کس کے پورے ہورہے ہیں اور کہاں سے ہورہے ہیں یہ پیسے کہاں جاتے ہیں اس کی بھی انکوائری سمیت ممبرشپ کیلئے آنیوالے افراد سے میڈیکل سرٹیفیکیٹ کو چیک کرنے کی بھی ضرورت ہے

کیونکہ ایک ہی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جاری ہونیوالے متعدد سرٹیفیکیٹ پر دستخطوں میں فرق اور ان پر کی گئی لکھائی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ صوبائی حکومت کے زیر انتظام سپورٹس ڈائریکٹریٹ میں واقع سوئمنگ پول پر کس طرح جعلی سرٹیفیکیٹ دیکر ممبر شپ دی جارہی ہیں

اور یہ کہ کیا پاکستانی اور افغانی یکساں ہوسکتے ہیں ‘ اگر نہیں تو پھر یہاں پر آنیوالے افراد کی چیکنگ کا معیار کیا ہے؟یہ وہ چند سوالات ہیں جن پر محکمہ انٹی کرپشن ‘ نیب ‘ سمیت تمام سیکورٹی اداروںکو خود توجہ دینے اور سکروٹنی سمیت صرف سوئمنگ پول ہی نہیں بلکہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ میں دیگر کھیلوں میں شروع ہونیوالی پرائیویٹ کوچنگ سے سے حاصل ہونیوالی آمدنی اور ان میں ملوث افراد کا ریکارڈ بھی چیک کرنے کی ضرورت ہے

Translate »