Spread the love

اسلام آباد

بیورورپورٹ


محکمہ زراعت صوبہ سندھ کے شعبے زرعی فراہمی و نرخ اور اقوام متحدہ کے زراعت سے متعلق ذیلی ادارے کے مابین گرین کلائمیٹ فنڈ کے تحت معاہدہ پر دستخط ہوگئے ۔سیکرٹری زراعت سندھ عبدالرحیم سومرو،فوڈاینڈ ایگریکلچر کی نمائندہ ربیکا بیل نے دستخط کئے ۔

معاہدے کے تحت سندھ حکومت منصوبے کے لئے 47 لاکھ ڈالر فراہم کرے گی جبکہ منصوبے کی مجموعی لاگت 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے

جس کے تحت صوبہ پنجاب کے پانچ اضلاع اور صوبہ سندھ کے تین اضلاع میں سندھ طاس میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ کسانوں کی حالت کو بہتر بنانا ہے جبکہ اس منصوبے سے مجموعی طور پر 13 لاکھ مستفید ہوں گے

یہ بھی پڑھیں:قدرتی آفات ،ماحولیاتی آلودگی اور کووڈ نے غذائی عدم تحفظ پیدا کیا ،ماہرین


معلومات کو یکجا کرنے کیلئے ویب پورٹل کے قیام کی تجویز

معاہدے پر دستخط کی تقریب سے قبل وزارت ماحولیاتی تبدیلی فوڈ اینڈ ایگریکلچر کے زیراہتمام مشاورتی سیمینار بھی منعقد ہوا جس میں وزارت ماحولیاتی تبدیلی ،وزارت آبی وسائل ،زراعت و آبپاشی کے محکمہ جات،محکمہ موسمیات،پاکستان کونسل آف ریسرچ واٹر ریسورسز ، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی

اس ورکشاپ کا مقصد اطلاعات کی رسائی کیلئے پورٹل کا قیام اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں سے آگاہی تھا ۔جس کے تحت ویب پورٹل ماحول ،پانی اور زراعت سے متعلق معلومات کو یکجا کرنا اور ان کی روشنی میں آبی وسائل کی بہتر تقسیم اور استعمال کو یقینی بنانا ہے ،جس سے پالیسی سازوں ،منتظمین اورکسانوں کو یکساں فائدہ ہوسکتا ہے

اس کے ساتھ ساتھ پورٹل پر پانی کی مقدار کی پیمائش کا نظام بھی موجود ہوگا ،جس سے انتظامی معاملات اور دستیابی کے حوالے سے اقدامات میں زیادہ بہتر مدد میسر آسکتی ہے

اس حوالے سے سیکرٹری زراعت صوبہ سندھ عبدالرحیم سومرو کا کہنا تھا کہ مصدقہ معلومات کی دستیابی کی صورت میں فصلوں اور پیداوار کیلئے زیادہ بہتر اور موثر اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔

جبکہ یہ معلومات کی روشنی غذائی تحفظ اور فصلوں کی کاشت کے حوالے سے بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں

تقریب کے شرکاء نے ویب پورٹل کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا جبکہ اس منصوبے کے حوالے سے اپنی تجاویز بھی پیش کیں

Translate »