Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:3 Minute, 44 Second

ایک وقت تھا جب اس کے آبائو اجداد کی سلطنت کا دائرہ ترکی سے ایشیا ءاور یورپ تک پھیلا ہوا تھا لیکن آج وہ یورپ کے ایک شہر میں آباد ہے اور اسے اپنے آبا ء کی وراثت یعنی ترکی کو دیکھنے کا صرف ایک بار موقع مل سکا

یہ سلیم قادر عثمان اوغلو ہیں جو سلطنت عثمانیہ کے آخری سلطان عبدالحمید ثانی کے پڑپوتے اور شہزادہ ارطغرل کے بیٹے ہیں،جو آج کل آسٹریا میں مقیم ہیں ۔پہلی جنگ عظیم کے بعد آل عثمان کے تمام افراد کو یورپ کی جانب ملک بدر کردیا گیا تھا۔

72 سالہ قادرعثمان اوغلو نے پہلی بار ترک نیوز ایجنسی انادولو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنے خاندان اور دنیا میں پھیلے اپنے عزیز و اقارب کے بارے میں گفتگو کی ہے ،انہوں نے بتایا کہ ملک بدری کے بعد میرے والد شہزادہ ارطغرل کو آسٹریا کی شہریت دینے کی پیشکش ہوئی جسے انہوں نے قبول نہیں کیا

کیوں کہ انہیں امید تھی کہ وہ ایک دن اپنے وطن یعنی ترکی ضرورواپس لوٹیں گے ،لیکن ان کا یہ خواب کبھی پورا نہ ہوسکا اور وہ بے وطنی کی حالت میں 1994میں انتقال کرگئے

سلیم قادر آخری عثمانی سلطان عبدالحمید ثانی کے بیٹے شہزاد ہ محمد عبدالقادر آفندی کے صاحبزادے ہیں ۔جنہیں 1924 میں عثمان شاہی خاندان کے ہمراہ ملک بدر کیا گیا ۔وہ پہلے ہنگری کے شہر بڈاپسٹ میں ٹھہرے اور بعدازاں بلغاریہ منتقل ہوگئے ،جہاں 1944 میں شہزادہ عبدالقادر آفندی کا انتقال ہوگیا


یہ بھی پڑھیں:


والد کی وفات کے بعد ارطغرل میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے ویانا چلے گئے اور انہوں نے اپنی باقی ماندہ زندگی وہیں بسر کی ۔سلیم قادر کے مطابق ان کے والدین کے درمیان علیحدگی کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ سالزبرگ چلے گئے اور ان کا اپنے والد سے رابطہ منقطع ہوگیا

18 سال کی عمر تک پہنچنے تک ان کا اپنے والدسے کوئی رابطہ نہ رہا کیوں کہ اس سے قبل ان کے سوتیلے والد کی جانب سے اجازت نہ تھی ،کئی سال بعد میں نے ویانا میں اپنے والد کو ڈھونڈ نکالا اور اپنی بہن لیلیٰ کے ہمراہ ان سے ملنے گیا

سلیم قادر نے بتاتے ہیں‌کہ ان کے والد ترکی میں گزرے اپنے دنوں کو ہمیشہ یاد کرتے تھے ،انہیں اپنے دادا یعنی سلطان عبدالحمید کی اپنے ساتھ شفقت اچھی طرح یاد تھی ۔اگرچہ میرے والد کو آسٹریا کی جانب سے کئی بار شہریت دینے کی پیشکش ہوئی ،لیکن انہوں نے کسی اور ریاست کی شناخت کو قبول نہ کیا ،کیوں کہ انہیں یقین تھا کہ ایک روز انہیں ترکی شہریت دوبارہ ضرور ملے گی

وہ بہت ضعیف اور کمزور ہوچکے تھے اور سفر کرنے کے قابل نہ تھے ،لیکن انہیں اپنے وطن لوٹنے کی امید تھی

شہزادہ ارطغرل نے اپنی پوری زندگی آسٹریا میں گزاری جہاں وہ بطور مترجم کام کرتے تھے ،انہوں اپنے خاندان کے لوگوں سے مکمل قطع تعلق کرلیاتھا ۔


یہ بھی پڑھیں:


سلیم قادر عثمان اوغلو کا بھی اپنے عزیزو اقارب اور خاندان کے لوگوں سے کئی سال بعد رابطہ ہوا ۔لیکن اپنے والد کے برعکس انہیں 1968 میں ایک بار ترکی جانے کا موقع مل گیا جب آل عثمان کے دیگر افراد کو ترکی میں داخلے کی اجازت نہ تھے

وہ بتاتے ہیں میں اس وقت 19 سال کا تھا جب میں اپنی اہلیہ اور دوستوں کے ہمراہ ترکی گیا ،میں اپنی جڑوں اور اپنے خاندان کے بارے میں جاننے کا مشتاق تھا ،لیکن اس وقت میں کم عمر اور ناتجربہ کار تھا سو میں جلد ہی واپس لوٹ آیا

لیکن شاہی خاندان کے دیگر افراد کیساتھ ملاقات میں انہیں مزید کئی سال لگ گئے جب ان کی ہمشیرہ کی ایک ترک موسیقی کار وحدت کوسال اور اس کی والدہ سے ملاقات ہوئی ۔وحدت کی والدہ نے استنبول میں ان کے دیگر رشتہ داروں کو ڈھونڈنے میں ان کی بہت مدد کی ۔دوبارہ ترکی جانے سے پہلے وہ بلغاریہ میں موجود اپنے ایک چچا علائوالدین تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوگئے

2006 میں سلیم قادر عثمان اوغلو اور آل عثمانیہ کے دیگر وارثان کا ایک بڑا اجتماع استنبول میں واقع دولما باشی محل میں ہوا ۔
وہ بتاتے ہیں
میں وہاں پہلی بار اپنے ان عزیزوں اور عم زادوں سے مل رہا تھا جنہیں میں جانتا بیث نہیں تھا
اور یہ بہت خوش کن لمحہ تھا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post دنیا کا کوئی جبر کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم نہیں‌رکھ سکتا
Next post طالبان کا صوبہ نمروز کے صوبائی دارلحکومت زرنج شہرپر قبضہ
Translate »