راحت ملک


ہفتہ رفتہ میں بلوچستان کے سماجی ماحول قبائلی مفاہمت۔ سیاسی فضاءاور پرامن زندگی کو مشتعل و متغیر کرنے والے تین واقعات یا سانحے رونما ہوئے ہیں جن پر تفصیلی یا اشارتاً بات کرنا ناگزیر ہے۔

نوجوان محراب پندرانی پر تشدد اور قتل کا واقعہ انتہائی سنگین قانونی جرم ہے اس میں ملوث فرد یا افراد کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاھیے مگر اصولاً اس کے کہ محراب پندرانی کے قتل کی بروقت ایف آئی آر درج ہوجانی چاھیے تھی

مگر برعکس اسکے سیاسی سماجی حلقوں کو ایف آئی آر کے اندراج کے لئے احتجاجاً سڑکوں پر آنا پڑا ۔اس احتجاج میں علاقہ کے افراد بلا امتیاز قبائلی وابستگی محض نا انصافی کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے شامل ہونے تھے۔

ایف آئی آردرج ہوئی تب بھی ملزمان کے خلاف کارروائی میں عملی پیشرفت دیکھنے میں نہ آئی چنانچہ عوامی احتجاج میں دوبارہ ابھار آیا تو پولیس حکام نے کوئٹہ میں واقع ایک بڑے بس ٹرمینل کو گھیرے میں لے کر اسے سیل کردیا جس پر ٹرانسپورٹرز اتحاد کا احتجاج سامنے آیا۔

اصولاً پولیس کو مقدمے میں مطلوب افراد کا تعاقب کرنا چاھیےتھا بجائے ان کے کاروبار ی مرکز کو بند کرنے کے۔اس عمل سے محرب پندرانی کے قتل کے سانحے کی نوعیت میں جوہری تبدیلی آئی کیونکہ ٹرانسپورٹرز اتحاد اور لہڑی قبائل یکجا ہوگئے دوسری طرف سدا بہار ٹرانسپورٹ کے ذریعے مختلف شہروں کی جانب سفر کرنے والے مسافروں کو بھی کوفت و دقت کا سامنا کرنا پڑا۔


یہ بھی پڑھیں


محراب پندرانی چونکہ زہری قبیلہ سے تعلق رکھنے والا نوجوان تھا۔ تو زہری قبیلہ کے سربراہ چیف آف جھالاوان کے لئے اس واقعہ سے لاتعلق رہنے کی گنجائش کم تھی جناب نواب ثناءاللہ زہری نے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ دھراتے ہوئے سدا بہار ٹرمینل کوئٹہ کی زمینی ملکیت پر سوال اٹھا دیا

جس کے ردعمل میں لہڑی قبائل کے معززین نے مشترکہ طور پر پولیس کے رویے پر غم وغصہ کا اظہار کیا نیز انہوں نے نواب ثناءاللہ زہری سے بھی گلے شکوے کئے اب صورتحال شاید یہ ہے کہ محراب پندرانی اور اس کے ساتھی کا قتل۔انفرادی واقعہ سے بڑھ کر دو قبائل کی رنجش میں بدل رہا ہے

اور یہ پہلو ہر اس شخص کےلئے جو سرزمین بلوچستان کا سپوت اور صوبے میں بھائی چارے امن وامان اخوت انسان دوستی شانتی اور پیار و محبت کے ساتھ پرامن خوشگوار ذاتی واجتماعی زندگی کا خواب دیکھنا ہے قطعی طور پر ناگوار تشویش کا حامل ہے کہ قبائل کی کشیدگی انسانی خون کی ارزانی ہے۔

 بلوچستان دو دھائیوں سے لہولہان ہے

بد امنی کے فوائد بلاشبہ دھشت کی معیشت سے وابستہ حلقے کو حاصل ہوتے ہیں امید کرتا ہوں کہ دونوں معزز قبیلے محراب کے قتل پر قانونی چارہ گوئی کے مشترکہ موقف و کردار اختیار کرینگے۔ انشااللہ

گزشتہ ہفتے کے دوران لورالائی میں قانون نافذ کرنے والے حکام کی کارروائی میں ملزمان کی ہلاکتیں ہوئیں۔ حکام کا دعوای ہے کہ اس کارروائی میں مارے گئے افراد کا تعلق ایک کالعدم مسلح تنظیم سے تھا مذکورہ چھ دہشت گردافغانستان سے آئے تھے

جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی جیبوں سے پاکستانی اور افغانی کرنسی سمیت آتشی اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا اور وہ پاکستان میں دھشت گردی کی واردات کا ارادہ رکھتے تھےحکام کی اس” اطلاع ” پر معاشرے اور ذرائع ابلاغ میں گویا تسلی بخش اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

تاہم حکام کے اس دعویٰ سے کابل پر 15 اگست سے براجمان طالبان کی اس یقین دہانی پر سوالات پیدا ہوگئے انہوں نے پاکستان کی مقتدرہ کو یقین دلایا تھا کہ اب افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی وہاں سے دہشت گردوں کی پاکستان آمد اور کارروائیاں ختم کرادی جائیں گی۔

لیکن لورالائی کا واقعہ جیسا کہ بیان کیا جارہا ان یقین دہانیوں کی عملاً نفی ہے پاکستانی حکام کو افغان طالبان کے ساتھ اس دراندازی کو لے کر بات کرنی چاھیے کیونکہ اگر ہمارے حکام کا دعویٰ درست ہے تو پھر افغان طالبان کی جانب سے دلائی گئی یقین دہانیاں محض ہوائی باتیں شمار ہونگی۔ اور اگر طالبان کی یقین دھانی محکم ہے تو سماجی سطح پر سوالات کا اٹھنا بعید از قیاس نہیں ۔


یہ بھی پڑھیں


اس واقعے کے اگلے روز زیارت کے قریب مانگی ڈیم پر لیویز فورس کی گاڑی پر بم دھماکہ ہوا اہلکاروں پر فائرنگ ہوئی جس سے چھ لیویز اہلکار جاں بحق ہوگئے ایک کالعدم مسلح تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے لورالائی واقعہ کا رد عمل یا بدلا قرار دیا۔

لورالائی سنجاوی زیارت متصل علاقے ہیں جہاں پشتون قبائل آباد ہیں جبکہ ان اضلاع کے عقبی پہاڑی راستوں سے بلوچ سرمچاروں کی آمدورفت رہتی ہے علاقے میں انکی آمدورفت یا محدود معنوں میں موجودگی ایک حقیقت ہے۔ جبکہ یہ واقعہ بجایے خود سیکورٹی اداروں کے دعوﺅں کے برعکس کہانی ہے۔ جن میں دھشت گردی پر بہت حد تک قابو پالینے یا مسلح جتھوں کے خاتمے کے دعوئے کیے جاتے ہیں اس نقطے پر آگے بات کرونگا

خیر زیارت مانگی ڈیم سانحے کے بعد مرحومین کے لواحقین نے احتجاج کیا شاہراہ بند کی لیکن حکومت نے توجہ دینے کی بجائے بڑی مہارت سے صرف نظر کا مظاہرہ کیا پھر مظاہرین جنہیں سیاسی ،سماجی قبائلی اور انسانی حمایت حاصل ہے زیارت کراس پر آگئے ان کے دھرنے کی سربراہی کاکڑ قبیلہ اور پشتونوں کے نواب محترم نواب ایاز خان جوگیزئی کر رہے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں

جنہوں نے تسلسل سے رونما ہونے والے بدامنی کے واقعات مگر ان کے تدارک کے لئے ان علاقوں میں تعینات فرنیٹرز کور کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے نواب صاحب کا کہنا تھا کہ اگر ایف سی کی بجائے مقامی لیویز فورس کو جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے تو وہ علاقے میں موثر طور پر ہر مقیم فرد اور مسافر کی جان ومال کے تحفظ کے فرائض بہ احسن انجام دے سکتی ہے

لیویز مضبوط ہو تو ایف سی کو سالانہ ادا کئے جانے والے مالی وسائل بچ سکتے ہیں جنہیں حکومت بلوچستان دیگر شعبوں اور امن عامہ کی بحالی کے لئے استعمال کرسکتی ہے ۔رکن صوبائی اسمبلی برادرم نصر اللہ زیرے کے مطابق ان علاقوں سے نکلنے والے کوئلہ پر حکومت بلوچستان 150روپے فی ٹن ٹیکس وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع کرتی ہے جبکہ علاقہ میں تعینات ایف سی حفاظت کے نام پر فی ٹن 500روپے الگ سے وصول کرتی ہے جسے انہوں نے سرکاری ٹیکس کی بجائے بھتہ قرار دیا ۔

لیویز فورس کو جدید اسلحہ و آلات فراہمی کا مطالبہ

لواحقین نے اپنے مطالبات پر غور کے لئے بلوچستان کو حکومت کو 2دن کی مہلت دی ہے جس کے بعد احتجاج کی کمیت و کیفیت میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ تمام شاہراہوں کی بندش شڑ ڈاؤن جیسے اقدامات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

کیا موجودہ صوبائی حکومت ان لواحقین اور مظاہرین کے مطالبات کو نظر انداز کر کے حالات پر اپنی دسترس کا مظاہرہ کر سکے گی؟اور کیا اس کےلئے قبائل کے مطالبات قبول کرنا ممکن ہوگا؟ کیونکہ اس کاتمام انحصار مرکزی مقتدرہ کے ذھنی میلان پر منحصر ہوگا۔

میں دھراتا ہوں کہ۔ تاریخ گواہ ہے اب تک بلوچستان کے سوالات کو آتش وآھن کےذریعے حل کرنے کی ہر کوشش مزید بدامنی لائی ہے۔آئیندہ بھی ایسا ہونا ناممکن نہیں۔ بلوچستان کے سبھی مسائل جو عوام اور مملکتِ کے بیچ کشیدگی کے طویل سلسلہ میں ڈھل چکے ہیں وہ سراسر سیاسی وآئینی بالادستی سے متعلق ہیں،انہیں سیاسی تدبر بصیرت دور اندیشی اور ملک کی سلامتی کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کشادہ قلبی اور کھلے ذہین کے ساتھ سیاسی گفتگو کے ذریعے۔۔۔۔

اگر اسلام آباد اب افغانستان کے مسائل کے حل کی کلید مذاکرات کو قرار دیتا ہے اور فوجی حل کو مفید المعنی نہیں سمجھتا تو پھر اپنے گھر آنگن میں اس صائب رائے پر عمل سے گریز کیوں؟

افغانستان بد قسمتی سے سیاسی غیر یقینی کی طرف بڑھ رہا ہے دو روز قبل کابل ائیر پورٹ پر دھماکہ اور حملہ آنکھیں کھولنے کے لئے بہت مواد مہیا کرتا ہے امریکی حکام نے اسے داعش کی کارروائی قرار دیا ہے جبکہ یہ دلخراش واقعہ دراصل خطے میں سرایت شدہ شدت پسندی کے نیٹ ورک کا ہی مظہر ہے

آنے والے دنوں میں افغانستان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

اس کے ممکنات کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں داخلی سلامتی امن اور سیاسی اتفاق رائے مضبوط اور وسیع بنیادوں پر موجود ہو۔ملک پر صاحب بصیرت و مدبر افراد فیصلہ سازی وحاکمیت کے حامل ہوں جن کو عوام کی وسیع پرتوں کی غیر متزلزل جمہوری حمایت حاصل ہو،

اس کے علاوہ سبھی راستے عدم استحکام و بربادی کی طرف جارہے ہیں۔سنبھلئیے قبل اس کے کہ یو این او دہشتگردی کے تدارک کے لئے ایسی نئی قرار داد منظور کر لے جو ہماری لیے مصائب لانے والی ہو۔ اقوام متحدہ میں پاکستان پہلے ہی ندامت کے دو مواقع دیکھ چکا ہے۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی مستقل مندوب کو مدعو نہیں کیا گیا یا پھر بولنے کی اجازت نہیں ملی۔۔ ایسا کیونکر اور کس طرح ممکن ہورہا ہے یہ سنجیدہ مباحثے کو سوالات ہیں۔

حالات کا تقاضا ہے کہ ملک کے حساس علاقوں کو فیصلہ سازی کے مرکز میں آئینی کردار ادا کرنے کےلیے ملک کے سیاسی حاشیے سے نکال کر باعزت و باوقار مقام دیا جائے بصورت دیگر بلوچستان سلگتا رہے گا۔

لورالائی میں مارنے جانے والے افراد کی بابت عوامی حلقوں کی گفتگو کو توجہ دیں جنکا خیال ہے کہ ہلاک شدگان تو لاپتہ افراد تھے۔ !!!#

Translate »