Spread the love

مظفرآباد
بیورورپورٹ


صدرآزادجموں و کشمیر سردارمسعود خان نےاسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے محصور کشمیری مسلمانوں کی مدد اور ان تک رسائی کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔جو گزشتہ دو سال سے غیرقانونی فوجی قبضہ اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں ۔

او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن کے 12 رکنی وفد سے ملاقات کےدوران صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے اسلامی ممالک کے جراتمندانہ موقف کی تعریف کی ۔

وفد میں متحدہ عرب امارات ،یوگنڈا ،نائیجیریا،ملائیشیا ،سعودی عرب ،آزربائیجان ،گیبن ،تیونس ،ترکی اور مراکش کے سفراء اور نمائندے شامل تھے ۔

اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر مرغوب سلیم بٹ اور معروف پاکستانی سفارتکار تسنیم اسلم بھی ملاقات کے موقع پر موجودتھے


یہ بھی پڑھیں:


صدر آزادکشمیر نے انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے 2017 میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے شائع کی جانے والی مفصل رپورٹ کو بھی اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں حالات میں بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں ،جن پر توجہ مبذول کئے جانے کی ضرورت ہے

انہوں نے کہا اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن کی شائع کردہ رپورٹ کی روشنی میں مسلم دنیا اور بالخصوص او آئی سی کے رکن ممالک کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنا چاہیے

صدرآزادکشمیر نے کہا مسلم ممالک محصور کشمیریوں تک رسائی کیلئے خصوصی اقدامات کریں ،اور کشمیری طلباء کو رکن ممالک میں خصوصی سکالرشپس دی جائیں تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرسکیں

سردار مسعود خان نے وفد کو بتایا کہ آزادکشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پار سے آنے والے 42 ہزار مہاجرین موجود ہیں جو زیادہ تر مظفر آباد شہر یا اس کے گردونواح میں آباد ہیں آزادحکومت پاکستانی اداروں کے تعاون سے ان مہاجرین کی بحالی و آبادکاری کیلئے بھرپور تعاون کررہی ہے

200 مسلح حریت پسندوں کے مقابلے میں 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات

انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے حوالے سے دہشت گردی کے حوالے سے بولا جانے والا مسلسل جھوٹ بے نقاب کریں ،کیوں کہ مقبوضہ کشمیر کا پولیس چیف دل باغ سنگھ خود تسلیم کرچکا ہے کہ وادی میں صرف 2سو مسلح افراد موجود ہیں ،جنکے مقابلے کیلئے بھارت نے 9 لاکھ فوج تعینات کررکھی ہے

اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی کا مقصد مسلح افراد کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ نہتے اور مظلوم کشمیریوں کا قتل عام کرنا ہے

اگست 2019 میں کشمیر کی علامتی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد بھارتی اقدامات کے حوالے سے وفد کو آگاہ کرتے ہوئے صدرآزادکشمیر نے کہا مقبوضہ کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ بنانے کے بعد بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں غیر مقامی اور ہندو شہریوں کو آباد کرکے وہاں کی آبادی کاتناسب بدلنے کے منصوبہ پر کا م کررہی ہے

اس اقدام کا مقصد کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو ختم اور ریاستی معاملات میں مسلمانوں کی نمائندگی کو کم کرنا ہے

Translate »