صفدرحسین


معروف بھارتی فلم رائٹر ،پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ساگر سرحدی جن کا اصل نام گنگا ساگر تلوار تھا 1931 کو موجودہ ضلع مانسہرہ کے گائوں بفہ میں پیدا ہوئے،ہجرت کے دکھوں کے ساتھ انہوں نے شہرت و ناموری بھی پائی لیکن وہ آخری دم تک اپنی جائے پیدائش یعنی بفہ گائوں اور سرن کے پانی کو کبھی بھول نہ پائے ،وہ اپنے ہر انٹرویو میں اپنے گائوں کا محبت سے ذکر کرتے اور اسے یاد کرتے

جب پاکستان اور ہندوستان کا قیام ہوا تو وہ ان کی جوانی کے اوائل کے دن تھے ،لیکن مرتے دم تک انہیں اپنی مٹی کی خوشبو یاد رہی ،

2014 میں پاکستان سے ایک سات رکنی وفد نے بھارت کا دورہ کیا جس کا مقصد فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کرنا تھا ،اس وفد میں ضلع کرک سے تعلق رکھنے والے صفی سرحدی بھی شامل تھے

اس دورے اور اس سے جڑی یادوں کے حوالے سے صفی سرحدی سے ہم نے بات کی ۔

جون 2014 میں پاکستان سے ایک وفد عالمی شہرت یافتہ اداکار یوسف خان یعنی دلیپ کمار کی عیادت کیلئے بھارت گیا ، 7 رکنی اس وفد میں پشاور سے تعلق رکھنے والے صفی سرحدی بھارتی فلمی دنیا کی معروف شخصیت ساگر سرحدی کےلئے ایک خاص تحفہ لیکر بھی جارہے تھے

وہ ساگرکیلئے اس کے گائوں کی ندی کا پانی تھا

ساگر سرحدی نے بھارتی فلم انڈسٹری کو کئی شہرہ آفاق فلموں کا تحفہ دیکر اس کی قدرو قیمت بڑھا دی تھی
لیکن باوجویکہ بھارتی فلمی دنیا کے بڑے بڑے چمکتے ستارے ان کے در پر حاضر رہتے ،شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی ساگر سرحدی اپنے گائوں اس کے خوبصورت پہاڑوں اور اس کے بیچ میں سے بہتی سرن ندی کوزندگی بھر فراموش نہیں کرپائے تھے
صفی سرحدی کے بقول جب ان کا بھارت جانے کا پروگرام بنا تو اس وقت سرحدی صاحب سے ان کا رابطہ تھا

،تو ہم نے ان سے پوچھا آپ کیلئے پاکستان سے کیا تحفہ لیکر آئیں ؟

تو انہوں نے ایک ہی فرمائش کی کہ وہاں سے آتے ہوئے میرے لئے میرے گائوں بفہ کے بیچ میں سے بہنے والی سرن ندی کا پانی لیکر آنا

جب ہم لوگ بمبئی پہنچے تو وہاں کسی ہوٹل میں ٹھہرنے کا مسئلہ پیدا ہورہا تھا ،ہم نے سرحدی صاحب سے رابطہ کیا تو وہ سخت ناراض ہوئے


غریبوں کے نڈر خان منور خان

تصویریں بنا کر مسکراہٹیں‌لوٹانے والے پاکستانی فوٹو گرافرسے ملئے …

ارطغرل رزم و بزم کا نیا عنوان کیسے بنا ؟

احمد شاہ ابدالی کی ہندوستان مہم اور خطہ تناول میں‌نئے دور کا آغاز


انہوں نے کہا بمبئی میں میرے ہوتے ہوئے آپ کو کہیں اور ٹھہرنے کی ضرورت کیوں کر ہے ؟
ہم لوگ ان کی رہائش گاہ پر پہنچے جو ایک چھوٹے سے فلیٹ پر مشتمل تھی ،ہم لوگ ان سے ملے ،انہوں نے بہت آئو بھگت کی
لیکن وہاں جگہ اتنی نہ تھی کہ سارے لوگ وہاں ٹھہرسکتے اس لئے ساگر سرحدی صاحب کے شناختی کارڈ پر ایک ہوٹل میں کمرے بک ہوئے ۔

صفی سرحدی ساگر سرحدی کے ہمراہ 2014

ہم دو لوگ سرحدی صاحب کے پاس رک گئے جبکہ باقی لوگ ہوٹل چلے گئے
ہم چار دن ان کے پاس قیام پذیر رہے
وہ ہمارے ساتھ بہت خوش دکھائی دے رہے تھے ،لیکن انہیں اصل خوش اپنے گائوں کی ندی کا پانی ملنے کی تھی
وہ ہر روز صبح سویرے اٹھ کر ایک گھونٹ ندی کا پانی پیتے ،انہوں نے باقی لوگوں کو سختی سے منع کررکھا تھا کہ اس پانی کو ان کے سوا کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا

صفی سرحدی کے بقول ہماری زیادہ تر گفتگو کے دوران کی دلچسپی کا محور ان کی اپنی گائوں سے وابستہ یادیں تھیں
اگرچہ بٹوارے کے بعد ہجرت کے وقت وہ کافی کم عمر تھے لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے بچپن اور گائوں کی یادیں پوری طرح ازبر تھیں
وہ

بار بار اس خواہش کا اظہار کرتے تھے کہ کاش انہیں ایک بار موقع مل جائے تو وہ جا کر اپنے گائوں کی ان گلیوں میں دوڑ لیں

،وہ اپنے گائوں کے پہاڑوں اور مٹی کو خوشبو کو سونگھ لیں اور ایک بار اپنے گائوں کی ندی کے چمکتے شفاف پانی میں ڈبکی لگالیں لیکن ان کی یہ خواہش اور حسرت کبھی بھی پوری نہ ہوپائی اور وہ اپنے دل کی حسرت دل میں لیکر اگلے سفر پر روانہ ہوگئے

 

صفی سرحدی کے بقول جب ہم نے انہیں پانی دیا تو ان کی زبان سے ایک ہی لفظ بار بار نکل رہا تھا ارے ارے ارے

بعد میں ان کے ساتھ رہتے ہوئے اندازہ ہوا کہ جب سرحدی صاحب خوش ہوتے ہیں تو خوشی کے اظہار کےلئے وہ یہ لفظ استعمال کرتے ہیں
سیفی سرحدی بتاتے ہیں کہ جب وہ ان کے ساتھ رہے تو ہمیں اس وقت اندازہ ہوا کہ وہ مذہب کے خانے میں بٹے انسانوں میں سے نہیں بلکہ انسانیت پر یقین رکھنے والے لوگوں میں سے ہیں
یہی وجہ ہے کہ بھارت میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے نام کے ساتھ اپنی جائے پیدائش کا نام لگائے رکھا اور اسے اپنی پہچان بنائے رکھا

وہ جو آخر دم تک اپنی مٹی کی خوشبو کو محسوس کرتا رہا

سوشل میڈیا پر موجود 17 نومبر 2018 کے ایک انٹرویو میں ساگر سرحدی اپنے اندر موجود غصے کی وجوہات بیان کرتے نظر آتے ہیں ،وہ بتاتے ہیں کہ ان کے اندر اس بات کا غصہ ہے اور ساری زندگی رہا کہ میرے پوچھے بغیر
اور میری مرضی کے خلاف کسی کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ مجھے اپنا گائوں اور مٹی چھوڑنے کا فیصلہ کرے
وہ کون تھا جس نے مجھ سے میرا خوبصورت گائوں اورندی چھین لی ؟

مجھے مہاجر کیمپ میں دھکیل دیا اور میری شناخت بدل دی
حالانکہ میرا کوئی فیصلہ نہیں‌تھا ،بلکہ میری قسمت کا فیصلہ دور کہیں‌کسی اور نے کیا

Translate »