0 0
Read Time:7 Minute, 23 Second

مسرت اللہ جان

پشتو زبان کی ایک مثل بہت مشہور ہے ” چہ سہ دانے لوندے او سہ جرندہ خرابہ” جس کے لغوی معنی تو کچھ اور ہیں لیکن اس کا مطلب ہے کہ کچھ پسائی والی مشین خراب تھی اور کچھ دانے جو پسائی کیلئے لائے گئے تھے وہ گیلے تھے .اسی وجہ سے پسائی شائد صحیح نہیں ہوئی تھی.یہ مثل آج ایک بڑے صاحب کے دورہ ہاکی سٹیڈیم کے دوران پیش آنیوالے والے واقعے پر ذہن میں آئی .

ہوا کچھ یوں کہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ کے نئے ڈائریکٹر جنرل نے آتے ہی مختلف جگہوں کے دورے شروع کردئیے ہیںان میں ایک دورہ ان کا قیوم سپورٹس کمپلیکس میں واقع ہاکی کے سٹیڈیم کا بھی تھا.دورہ بھی کچھ یوں ترتیب ہوا تھا کہ پاکستان سپورٹس بورڈ اینڈ کوچنگ سنٹر جس کی اٹھارھویں ترمیم کے بعد کوئی قانونی حیثیت بھی نہیں

لیکن چونکہ سندھ کی ایک بڑی خاتون جو اس وقت اٹھارھویں ترمیم کے وقت سپیکر اسمبلی تھی انہوں نے اٹھارھویں ترمیم کے حق میں قرارداد پاس کی تھی آج تبدیلی والی دور میں ان کے ساتھی ہیں اس لئے ان کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے پوری وزارت انکے سپرد کردی گئی ہے جس کا کام تو کچھ نہیں البتہ ایک اردو مثل کے مصداق "کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے ” ہیں پر غریب عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اڑایا جارہا ہے .

اب اسی پی ایس بی نے اپنی حیثیت کو منوانے اور پاکستانی عوام کو دکھانے کیلئے صوبائی سپورٹس سٹیڈیم میں آسٹرو ٹرف لگانے کی منظوری لی ہے تاکہ یہ الزام بھی ختم ہو کہ پی ایس بی کچھ نہیں کررہی اور دوسری طرف لوگوں کے آنکھوں میں سرمہ بھی لگایا جاسکے

سو ان کی ٹیم نے لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم کا دورہ کیا تاکہ وہاں پر لگے تیرہ سال قبل کے آسٹرو ٹرف کو ہٹایا جاسکے.اس موقع پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایسوسی ایٹ سیکرٹری سمیت ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختونخواہ او رڈائریکٹر آپریشن بھی موجودتھے.پی ایس بی کے کنٹریکٹر اسے اکھاڑنے کے حق میں تھے کہ بعد میں وہ نئے ٹرف کا آرڈر بھی دینگے تاہم پی ایچ ایف کو تحفظات ہیں اور ان کا یہ موقف ہے کہ جب تک نیا ٹرف نہیں آتا اس وقت تک پرانے کو اکھاڑا نہ جائے کیونکہ روزانہ ایک سو کے قریب کھلاڑی یہاں پر پریکٹس کرنے کیلئے آتے ہیں جس پر نئے آنیوالے ڈی جی سپورٹس بھی کھلاڑیوں کے وسیع تر مفاد کے خاطر اس کی تائید کی.

یہ وہ اصل صورتحال تھی جس کے بارے میں راقم رپورٹنگ کیلئے وہاں پر گیا تھا تاہم حیران کن طور پر نئے تعینات ہونیوالے ڈائریکٹر جنرل نے ہاتھ ملانے کے بعد راقم کے بارے میں اپنے ساتھ آنیوالے ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا یہ بھی ہمارا زر خرید صحافی ہے کیونکہ paid madia کے مطلب تو یہی نکلتے ہیں.

ان صاحب نے کیا جواب دیا یہ تو راقم کو نہیں پتا لیکن جب اس بات کا راقم کو پتہ چلا تواندازہ ہوا کہ صاحب بہادر کو صرف وہی لوگ پسند ہیں جو ” یس سر اور جی حضوری "کرنا جانتے ہوں..سوال یہ نہیں کہ ڈائریکٹر جنرل صاحب کو کیوں یہ پسند ہے کہ صرف ان کی زر خرید صحافی یا میڈیا ہائوسز ان کی کوریج کریں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اب صحافت بھی سیاستدانوں کی طرح بیورو کریسی کی محتاج ہوگی کہ جیسے صاحب چاہیں گے ویسی ہی رپورٹنگ ہوا کرے گی .

یہ بھی پڑھیں

 

قصور یقینا ڈائریکٹر جنرل کا بھی نہیں کیونکہ گریڈ بیس کی کرسی پر بیٹھ کرراقم جیسے ان کی سامنے اوقات ہی نہی رکھتے دوسری اس کی بڑی وجہ ہمارے کچھ لنڈے کے انگریزی صحافیوں کی بھی غلطی ہے جو” خان دڑے دی اور دڑے شوے” کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ بنیادی طور پر وہ تو سرکار کی بنی پروپیگنڈہ ایجنسی میں بابو ہیں جن کا بنیادی کام کالے کو سفید دکھلانا ہوتا ہے.بھلے سے پورے عوام کا بیڑہ غرق ہو.

ویسے ایک بات کی ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے چند صحافی صرف کھیلوں کی رپورٹنگ کو ہی اپنی سپیشلٹی سمجھتے ہیں اور یہ سپیشلٹی بھی صرف "ہو جائے گا کردیا جائے گا کرنیوالے ہیں سمیت مقابلے ہوگئے” تک محدود ہیں شائد ان کی زندگی کی معرا ج یہی ہے کہ ان کی انہی ” جی حضوری”کی وجہ سے ان کے بچوں کا مستقبل بقول ان کے محفوظ ہوگیا ہے اورسرکار کی نوکری میں لگ گئے ہیں

حالانکہ محفوظ کون ہیں یہ تو اللہ جانتا ہے ویسے دوسروں کے بچوں کی گردن پراپنے بچوں کو آسمان تک چڑھانا بہادری نہیں ‘ لیکن خیر بقول ایک صحافی کے بارے میں ڈیپارٹمنٹ میں کہا جاتا ہے کہ ” دا دے سپگے نوم ھم یاسمین خان وی” یعنی جب ان کے اپنے ہوں تو پھر وہ آسمان سے اتری مخلوق ہیں او ر اگر باہر کا کوئی بندہ آسمان سے اترا ہوا بھی ہوں تو اس کی اوقات چیونٹی جتنی ہوتی ہے.

تقریبا یہی صورتحال گریڈ سترہ میں بھرتی ہوکر پروموٹ ہونے والوں کی بھی ہوتی ہے وہ اپنے علاوہ کسی کو برداشت کرنے کے عادی بھی نہیں ہوتے کیونکہ سرکار بہادر کی نوکری کرنے والے یہی سمجھتے ہیں کہ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم ہیں اور پوری کمیونٹی اور لوگ ان صاحبان کے سامنے سربسجود ہونگے اور ان سے کوئی پوچھ گچھ بھی نہیں ہوگی

اوگے خو مڑیگی جو چہ دا سترگے اوگے وی ھغہ دے خدائے ماڑہ کڑی

اور پوچھ گچھ کو بھی یہ اپنی شان کے مطابق برا سمجھتے ہیں نہ عوام کی نہ صحافیوں کی اور نہ ہی کسی صحافی کے سوال کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور اگر سوال بھی کرنے ہی ہیں تو پھر ان کے مرضی کے مطابق سوال کرنے ہونگے – اور مرضی کے سوال صرف سرکار کے زیر انتظام چلنے والے تنخواہ ادار بابوہی کرتے ہیںجن کا کام صاحب بہادر لوگوں کی چاپلوسی کرکے اپنے کام بھی نکلوانا ہی ہیں.

ویسے paid madia یا زر خرید صحافی یہ سوال نہیں کرسکتے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ اینڈ کوچنگ سنٹرکس حیثیت میں صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی مدد کررہا ہے ہمارے ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ مدد کررہا ہے بس یہی خبر ہے ‘ وفاق کے زیر انتظام پی ایس بی جس کا بنیادی کام کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی ہے کے اپنے سنٹرز میں کیا ہورہا ہے ‘ کوئی یہ پوچھ سکتا ہے کہ مامے چاچے کے ذریعے بھرتی ہونیوالوںکی اصلی اوقات کیا ہے ؟

یہاں پر تو حال یہ ہے کہ اس ادارے میں سیکورٹی انچارج ڈائریکٹر ہے اور پورے سنٹر کو چلا رہا ہے ‘ سکواش کا کوچ جس کے پاس مینجمنٹ کا کوئی تجربہ بھی نہیں وہ بھی پورے سنٹر کا ڈائریکٹر ہے اس ادارے میں کام کرنے کیلئے یہی ضروری ہے کہ اوپر کی کمائی کس طرح سے حاصل ہو ‘ پرائیویٹائزیشن کے ذریعے ڈیپارٹمنٹ کے کھلاڑیوں کو کس طرح سرکار کے ادارے کم ریٹس پردئیے جائیں بھلے سے کھلاڑی اور کھیل بھاڑ میں جائے

لیکن ان کی موٹی پیٹیں بھرتی رہی جو انشاء اللہ قیامت تک نہیں بھرنے والی ‘ کیونکہ ” اوگے خو مڑیگی جو چہ دا سترگے اوگے وی ھغہ دے خدائے ماڑہ کڑی” یعنی بھوکا تو سیر ہوسکتا ہے لیکن جن کی آنکھیں بھوکی ہوں انہیں دنیا جہاں کی دولت سیر نہیں کرسکتی.اسی پی ایس بی پشاور سنٹر کی انتظامیہ نے والی بال کے کھلاڑیوں پر کھیلنے کے دروازے بند کردئیے ‘

اسی پی ایس بی نے ٹیبل ٹینس کے کھلاڑیوں پر کھیلنے کے دروازے بند کردئیے اسی پی ایس بی نے آرچری کے کھیل پر دروازے بند کردئیے .کیونکہ یہ لوگ اور کھلاڑی ” لینے اور دینے ” کے قائل نہیں تھے.اب ایسے میں سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ پی ایس بی جو سہولیات کی فراہمی کا دعویدار ادارہ ہے اپنے سنٹرز میں کھلاڑیوں پر کھیل بند کررہا ہے اور صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی مدد کررہا ہے ایسا کیوں ہے. ویسے سکواش کے کھلاڑیوں کو ملنے والی سکالرشپ کی بندش میں پی ایس بی کی انتظامیہ کا ہی ہاتھ ہے.وجوہات بہت ساری ہیں.

پی ایس بی نے ابھی تک صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے زیر انتظام لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم میںنئے لگانے والے آسٹرو ٹرف کا آرڈر بھی نہیں دیا ‘ یہ بھی نہیں پتہ کہ کس معیار کا آسٹرو ٹرف لگایا جائیگا ‘اور کب تک لگایا جائیگا- نہ ہی ان کے پاس کوئی منصوبہ ہے کہ کب تک یہ مکمل ہوگا بس کنٹریکٹربھیج دیا کہ آسٹروٹرف اکھاڑ کر لے آئو ‘ بھائی میرے ایک سو سے زائد کھلاڑی روزانہ یہاں پر کھیلنے کیلئے آتے ہیں وہ کہاں پر جائینگے ویسے بھی قومی کھیل ہاکی کا جو حال ہے وہ سب بہتر جانتے ہیں اگر ایسے میں پشاور جیسے شہر میں آسٹرو ٹرف نہ رہا او ر پھر نامعلوم مدت کیلئے غائب رہا تو پھر رہی سہی کسر بھی ہاکی کی بھی پوری ہو جائیگی –

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »