وقاص احمد سمیر : ایم – اے انگلش، یونیورسٹی آف اوکاڑہ

زبان کسی قوم کے لئیے اتنی ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے جتنا کہ زندہ جسم کے لئیے روح تہذیب و ثقافت اور کلچر کا سب سے اہم اور بنیادی جز زبان ہے –

روس اور فرانس کی جنگ میں جب روسی اتحادی جرمن افواج فرانس کے کچھ علاقوں پہ قابض ہوئیں اور ان علاقوں میں جرمنی زبان رائج کرنا چاہیے تو وہاں کہ ایک سکول کے استاد نے اپنے طلبا اور ان کے والدیں سے ایک بات کہی ” اگر تمہیں واپس آزادی کو حاصل کرنا ہے تو یاد رکھنا تمہیں اپنی زبان کو زندہ رکھنا ہوگا”

اور ثقافت کے بنیادی جز کی اہمیت کو جانتے ہوئے فرانسیسی لوگ دوبارہ آزادی حاصل کر پائے ، کس بھی قوم کے زندہ ہونے کا ثبوت اس کی زبان کا زندہ ہونا ہے اور جہاں زبان مر جائیں تو اس قوم کا زندہ ہونا بھی اپاہجوں جیسا ہے ۔

اردو جو کہ مملکت خداداد پاکستان کی قومی زبان ہے یہ بائیس کروڑ لوگوں کی پاکستانی ہونے کی شناخت کا سب سے اہم جز ہے۔ یہ اردو زبان الگ وطن کے حصول کے لئیے بنیادی وجہ تھی جب ہند میں صرف ایک ہی زبان کو رائج کرنے کی کوشش کی گئی تو اس زبان اردو نے اپنا زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کبھی اقبال تو کبھی جناح کی آواز میں دنیا کو بتا دیا کہ میں زندہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں

مغربی تہذیب کی یلغار سے بچنے کے لیئے اردو کا نفاذ‌ناگزیر

اردو ہزار قافلہ چہروں کی گرد ہے، اردو نوائے گل کی طرح رہ نورد ہے

اردو کو اس کا جائز مقام نہ دیا تو ہمارے قومی زوال کا سفر جاری رہیگا

پاکستان کو اگرکوئی زبان متحد رکھ سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اردو ہے ،قائداعظم

اردو،قومی زبان کی اہلیت و تعریف پر پورا اترنے والی واحد زبان 

پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے ہر خطاب میں اس کی اہمیت کے بارے میں انمول موتی ارشاد فرمائے۔ آپ نے فرمایا ” زبان کسی قوم کے زندہ و تابندہ ہونے کی علامت ہے تم پنجابی سندھی سرحدی بلوچی سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف پاکستان کا سوچو”۔ آپ زبان کی اہمیت جانتے تھے کہ زبان کسی قوم کے لئیے کس قدر اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ میں خطاب کرتے ہوئے آپؒ نے فرمایا “مجھے علم ہے کہ علاقائی زبانیں بہت اہمیت کی حامل ہیں لیکن سب سے اہم یہ ہے کہ ریاستی زبان ان تمام علاقے کے لوگوں میں امن و آشتی کی فضا برقرار رکھنے میں مددگار ہوتی ہے اور اس مملک خداداد پاکستان کی قومی زبان اردو ہے ، اور یہی زبان اس ملک کے باشندوں کی حقیقی ترجمانی کرتی ہے” ۔آپؒ کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اس نئی ریاست کو دنیا کے نقشے پر پنجے گاڑھنے کے لئیے اپنی شناخت مضبوط کرنا ہوگی اسی لئیے آپ نے فرمایا” صوبائی دفاتر میں جو مرضی زبان بولی جائے لیکن ان تمام معاملات میں جب ایک صوبے کو دوسرے صوبے کی معاونت درکار ہوگی تو صرف ایک ہی زبان ہوگی اور وہ صرف اور صرف اردو ہوگی”۔

دورہ مشرقی پاکستان ( موجودہ بنگلہ دیش) میں بنگالی اور اردو تنازعہ پہ آپ نے برملا اور صاف صاف انداز میں فرمایا” اس نوزائیدہ اسلامی ریاست کی ترجمان صرف ایک ہی زبان ہوگی اور وہ زبان ہے اردو”۔

قائداعظم نے ہر اس فورم پہ اردو زبان کی اہمیت کو اجاگر کیا جہاں آپ کا خیال تھا کہ یہ فورم اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئیے اہم ہو سکتا۔قائداعظم ، علامہ اقبال کے اسی خواب کی نمائندگی کرتے تھے جو اقبال نے الگ وطن کے حصول کا دیکھا تھا۔ اسی لئیے الگ وطن کے لوگوں کی مضبوط شناخت کے لئیے آپ نے اردو زبان کے قومی زبان ہونے کے بارے دو ٹوک موقف اپنائے رکھا۔

اگرچہ قائداعظم اکثر و بیشتر انگلش زبان کا ستعمال کرتے رہتے تھے کیونکہ آپ بیرون ملک سے اعلٰی تعلیم حاصل کرکے آئے تھے لیکن آپ نے اپنے تمام خطاب جو عام عوام سے ہوتے ان میں اردو زبان کا ہی استعمال کیا کیونکہ ان کا یقین تھا لوگ اپنے رہنماؤں کی پیروی کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اس لئیے ان کا اردو زبان بولنا پاکستانی عوام میں اردو کی اہمیت کو اجاگر کردیتا۔

قومی زبان جو مجموعہ ہی دو لفظ کا ہے ” کسی قوم کی زبان” تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی زبان ایک قوم یا ریاست کی حقیقی شناخت کی پہریدار ہوسکتی اس لئیے ہی قائداعظم نے اردو زبان کو قومی زبان کا درجہ دلوایا تاکہ اس ریاست کے لوگوں کی امنگوں کو دنیا کے سامنے انہی کی آواز میں رکھا جاسکے۔

قائداعظم نے اردو زبان کو قومی زبان کا درجہ دلوانے اور رائج کرنے کے لئیے اپنی حیات میں دو ٹوک موقف اپنائے رکھا ان حالات میں بھی آپ اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے جب اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو بھی سرکاری اور ریاستی زبان قرار دینے کے لئیے دباؤ کی منظم تحریکیں چلیں آپ کی حیات تک اردو ہی قومی زبان رہی لیکن بعد بنگالی زبان کو بھی ریاستی زبان کا درجہ دے دیا گیا جو کہ کچھ عرصہ ہی رہا اور پھر دوبارہ سے پاکستان کی سرکاری اور قومی زبان اردو ہی رائج ہوگی۔

قومیں اپنے ہیروز کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتیں ہیں لیکن کبھی کبھی گنگا الٹی بہنے لگتی ہے یوں ہوتا ہے کہ ان قربانیوں کو بھلادیا جائے جو اسلاف نے دئیں اردو کے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا وہ زبان جس کے لئیے اس مملکت کے بانی نے آخری سانس تک آواز بلند کئیے رکھی وہ آج قومی زبان تو ہے لیکن صرف آئین کی حد تک ورنہ تو جدید ازم نے اس قوم کو اتنا مفلوج اور لاچار کردیا ہے کہ وہ دوسری زبانوں کی بیساکھیاں لینے پہ مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن ایسا نہ ہو کہ یہ حال ہوجائے۔

” مغرب کو خدا کہہ بیٹھے ہیں
اپنے آباء کو گناہ کہہ بیٹھے ہیں
ان کی ثقافت میں اب ان کا کیا ہے
جو اطوار مغرب کو اپنا کہہ بیٹھے ہیں
گنوا کر حرمت و تقدسِ اسلاف سمیر
کہتے پھریں گئے اب نہتے بیٹھے ہیں”

یقینا بین الاقوامی زبان کا حصول وقت کی ضرورت ہے لیکن یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے اور یہی ہماری اصل پہچان اور شناخت ہے ۔ اپنے اسلاف کی کاوشوں پہ پانی پھیرنے کی بجائے اس بات کا اعادہ کرنا ہوگا کہ ہم اس قومی ورثے اس قومی زبان کی ترقی کے لئیے اپنے قائد کے فرمان پہ تن من دھن قربان کر دیں گئے آئیے عہد کریں ہم اردو زبان کی ترقی کے لئیے اپنا مثالی کردار ادا کریں گئے

اردو زبان ہے پہچان تمہاری
خدارہ پیچھا نہ چھڑاؤ اس سے

Translate »