0 0
Read Time:7 Minute, 33 Second

عینی ملک

کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی
(اقبال)

2021ء میں کی گئی تحقیق کے مطابق اردو دنیا کی اکیسویں سب سے زیادہ بولی جانے والی پہلی زبان ہے۔ جس میں تقریباً 61.9 لاکھ لوگ اسے اپنی مادری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ ایتھنولوگ کے 2018ء کے تخمینے کے مطابق، اردو دنیا کی دسویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ 230 لاکھ کل بولنے والوں کے ساتھ بشمول وہ لوگ جو اسے دوسری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔

دنیا کے جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک دیکھ لیں انھوں نے اپنی زبان کے بل بوتے پر ترقی کی چائینہ اور فرانس کی زندہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ فرانس میں کوئی بھی دوسری زبان کا استعمال %3 کے برابر ہے اور ملک میں %88 لوگ اپنی قومی زبان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی دفتری زبان بھی قومی زبان فرانسیسی ہے۔
چین کی قومی زبان کی اہمیت کا اندازہ چینی صدر کی اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے سامنے سپاس نامہ انگریزی زبان میں پیش کیا گیا آپ نے بہت فخریہ انداز سے اپنی زبان کی اہمیت کو دنیا کے سامنے روشناس کرایا اور کہا کہ:
”چین ابھی گونگا نہیں ہوا“
مگر ہمارے ملک میں جس کی بنیاد بھی اردو زبان پر رکھی گئی جہاں 73 سال گزرنے کے بعد بھی ہم انگریز کی غلامی سے نکل نہیں سکے اور ابھی تک ہمارے سکولوں اور دفتری زبان انگریزی ہے۔ ہمارا ان پڑھ اور کم پڑھا طبقہ اپنے بلز ،خطوط اور بچوں کے داخلہ فارم پر کرانے کے لیے انگریزی جاننے والے طبقے کے محتاج نظر آتے ہیں اور ہمارا اشرفیہ طبقہ اپنی تہذیب و تمدن کی عکاس زبان کو فراموش کر رہا ہے۔
بقول خفیظ تائب:
کام ہم نے رکھا صرف اذکار سے
تیری تعلیم اپنائی اغیار نے
اردو کا اصل گلا گھونٹنے والوں میں سابق وزیراعلی شہباز شریف کا نام آج کے دور میں سرفہرست ہے ۔ جس نے اپنے دور حکومت 2008 سے 2013 تک تمام سرکاری سکولوں میں معاشرتی علوم , ریاضی اور سانٸس کو انگریزی زبان میں منتقل کرادیا اور انگلش میڈیم کو فروغ دیا۔ جس سے اردو کی ساکھ کو خاصہ نقصان پہنچا۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کو اس کی وجہ معیاری گھریلو توجہ نہ دے اسکے نتائج بھی خاطر خواہ سامنے نہ سکے اور بہت سے بچوں نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں

قائداعظم نے الگ ملک پاکستان اس لیے بنایا جس میں پاکستان کے لوگ اپنے مذہب , تہذیب اور زبان کی مکمل آزادی حاصل کر سکیں اور ہم اردو زبان کو قومی طور پر کو منتحب کریں۔ اردو بہت ہی میٹھی زبان ہے لیکن پاکستان کے کچھ نااہل حکمرانوں نے اردو کے ساتھ وہ سلوک کیا جو ہندوؤں نے بھی نہیں کیا تھا۔ اگر غیر ملکی لوگوں کو ہماری اردو زبان سمجھ آجائے تو غیر ملکی لوگ اس اردو زبان کے دیوانے ہوجائیں۔
ہندوستان اور پاکستان کی تاریخیں بھرپور ہیں اردو سیکھنے سے دلکش، صوفیانہ اور دلچسپ ثقافتوں کے دروازے کھلتے ہیں۔
داغ دہلوی نے کیا خوب کہا:
اردو ہے جس کا نام ہم جانتے ہیں داغ
سارے جہان میں دھوم ہماری زبان کی ہے
بنارس کا اردو ہندی تنازع 1867 کون نہیں جانتا ، جب بھی کہی اردو زبان کی بات کی جاۓ تو اردو زبان کے لیے سر سید احمد خاں کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا آپ نے ہر طرح سے قربانیاں دی مسلمانوں کے لیے الگ ادرے قاٸم کیے اور اردو فروغ زبان کو اس دور میں بھی قائم رکھا جب ہر طرف سے مخالفین اس کو ختم کرنے کے درپے تھے۔
مولانا الطاف حسین حالی کہتے ہیں:
شہد و شکر سے شیریں اردو زبان ہماری
ہوتی ہے جس کے بولے میٹھی زبان ہماری
قومی زبان کے سوال پر 1935 میں جب کانگریس نے قانون پاس کرنا چاہا۔ تب حضرت قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کہا:
"ہم ان کا اصل مقصد جانتے ہیں۔ اسکیم اردو کو گلا گھونٹنے کی ہے۔”
1938 میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پنڈت جواہر لال نہرو کو قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”مسلمانوں کا ایک اور مطالبہ ہے۔ زبان کے بارے میں اور اردو عملی طور پر ہماری قومی زبان ہے۔ ہم چاہتے ہیں آئین کا تحفظ اردو زبان کرے گی تاکہ یہ منفی طور پر متاثر نہ ہو یا کسی بھی طرح سے تباہ کر نہ کی جاسکے ہے۔“
1941 میں علی گڑھ جامع میں خطاب کے دوران حضرت قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ فرمایا : ”اللہ تعالیٰ ہمیں پاکستان میں رہنے کی توفقیق دے جہاں اسلامی تاریخ کی روشنی میں زندگیاں بسر کر سکیں اور اپنی ثقافت کے مطابق اپنی روایات اور اپنی اردو زبان کو برقرار رکھ سکیں۔“
بقول شاعر بشیر بدر کے:
وہ عطردان سا لہجہ میرے بزرگوں کا
رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو

1946 میں جب سر فیروز خان نون (سابق وزیراعظم) چاہتے تھے۔ انگریزی میں تقریر کرتے ہیں، حضرت قائداعظم (علیہ السلام) نے مداخلت کی۔ اور کہا کہ ”سرکاری زبان پاکستان اردو ہی رہے گی“۔
اردو زبان کی اہمیت قائد کی نظر میں کیا مقام رکھتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے باخوبی لگایاجا سکتا ہے۔1948 میں ڈھاکہ ائیرپورٹ پر حضرت قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
”کہ قومی اور سرکاری زبان پاکستان صرف اردو ہی رہے گی۔“
اس سب کا مقصد یہ تھا۔ مسلمان کی حیثیت سے اپنی شناخت برقرار رکھیں۔

پاکستان کی قومی زبان کے بارے میں آئین کے اندر آرٹیکل 251 اسلامی جمہوریہ پاکستان، 1973کے اندر ہے۔ کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، اور انگریزی زبان سرکاری دفتری امور کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ جب تک سارا انتظامی امور اردو میں منتقل نہیں ہو جاتے مگر افسوس کہ سیاست دان اپنی دھن میں مگن رہے اوراس بات پر عمل تا حال نہیں ہو سکا۔
افسوس امر تو یہ ہے کہ اب تلک پاکستان میں اشرفیہ طبقہ انگریزی زبان کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑے ہوئے ہے ۔
مگر ان سب حالات میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی اردو کے فروغ کے لیے کاوشوں کو قطعا فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
11 جولائی 2015 کو ہونے والی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کو سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ صدر، وزیراعظم، وفاقی وزراء اور دیگر سرکاری نمائندوں کے لیے ملک کے اندر رہتے ہوئے اردو میں تقریر کرنے کو لازمی قرار دینے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا گیا۔حکومت کے محکموں سے کہا گیا کہ وہ تین ماہ میں اپنی پالیسیوں اور قواعد کا اردو میں ترجمہ کریں۔
تمام سرکاری اور نیم سرکاری اداروں سے متعلق فارم اردو میں ہوں گے اور اہم عوامی مقامات جیسے عدالتوں، تھانوں، ہسپتالوں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور بینکوں پر معلوماتی نشان انگریزی کے علاوہ اردو میں ہوں گے۔ اسی طرح یوٹیلیٹی بلز، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور آڈیٹر جنرل آفس، اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مختلف دستاویزات بھی قومی زبان میں ہوں گے۔
ان سب کے باجود ہم قائد کے تصور قومی زبان کو بھول کر انگریزی زبان کے دلدادہ بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے آج ہم احساس کم تری کا شکار بن کر انگریزی سیکھنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔
بقول انور مسعود:
ہر شخص کو زبان فرنگی کے باٹ سے
جو شخص تولتا ہے تو ہے وہ بھی آدمی
افسر کو آج تک یہ خبر ہی نہیں ہوئی
اردو جو بولتا ہے تو ہے وہ بھی آدمی
اس وقت کی اہم ضرورت ہے ، کہ ہمیں خود کو انگریزی زبان کی ذہنی غلامی سے نکالنا ہوگا اور اپنے بچوں کو بھاری رقومات جمع کرا کر انگریزی زبان میں پڑھانے کی بجائے اپنی اردو زبان پرعبور حاصل کر کے اس کو عالمی سطح تک دنیا کی کامیاب ترین زبان بنانا ہوگا۔ قائد اعظم کے تصور زبان جس کی بنیاد اسلام کی روح ہے جس کے ترجمہ کے زریعے سے ہم اللہ اور اس کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم کے احکام کو سمجھنے کے قابل ہوۓ اردو زبان کے عزت و وقار کو مزید بڑھانا ہوگا
اس سلسلے میں حکومت پاکستان کو چاہئے کہ قائد کے تصور اردو قومی زبان کو فروغ دینے اور اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرنے کے لیے عالمی سطح پر تقریبات شروع کی جائے اور اس کے سلسلے میں جو لوگ بھی اردو کو فروغ دینے میں سرگرم ہیں ان کی کارکردگی پر حوصلہ افزاٸ کی جاۓ۔
وحشت رضا علی کلکتوی نے میرے دل کی آواز اس شعر میں بیان کی ہے:
کس طرح حسن زباں کی ہو ترقی وحشت
میں اگر خدمت اردوئے معلی نہ کروں
5/5

https://youtu.be/n6ekm6J2XdY

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »