Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:4 Minute, 56 Second

لطیف اللہ داودزئی

پشاور


جمہوری ریاستوں میں اقتدار کی کر سی تک پہنچنے کے لئے عوام کی کمزوریوں کو ڈھال بنا کر کامیابی سے ہمکنار ہو نے کا ہنر تو کوئی سیاست دانوں سے سیکھے کوئی روٹی کپڑا مکان کی لایچ میں عوام کو بے وقوف بنا کر اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں کچھ کشکول ہاتھ میں لئے ملک کو قر ضوں کی دلدل سے نکالنے کے نعروں پراقتدار میں آتے ہیں اور مزید قرض لیتے ہیں

کوئی اسلام کے نام پر ووٹ لے کر اسلام کی بجائے اسلام اباد کے ہو جاتے پہیں ۔ بے چارے عوام ہیں جو ہر بار نئے آنے والے کے فریب میں جان بوچھ کر اس لئے آجاتے ہیں کہ قسمت اب بدلی کہ تب بدلی

،اور پھر سب سے بڑھ تبدیلی کے دعویدار میدان میں آئے تو ان کی چلت پھرت دیکھتے ہوئے عوام کو پختہ یقین تھا کہ پچھلے سارے تو کرپٹ ،نااہل اور چور اچکے ہمارے متھے مار دیئے گئے تھے ،اب اصل ایماندار اور مخلص لوگ ہمارے نصیب میں لکھ دیئے گئے ہیں ،اور اب ہماری تقدیر کو بدلنے سے کوئی نہیں مائی کا لعل روکنے کی جرات نہیں کرسکتا

بسا کہ آروز خاک شد

لیکن عملی طور پر ایک بار پھر ہمارے ساتھ وہی ہوا جو اس سے قبل ہوتا آیا ہے ۔کیوں کہ  پی ٹی ائی ماضی کے تمام نااہلوں اور چوروں سب پر بازی لے گئی اور چور آیا ڈاکو آیا کا انکھیں بند کر کے  ورد کرتے کرتے گذشتہ سات آٹھ سال میں ملک کو وہاں پہنچادیاکہ اب تو بھی پریشاں ہیں کہ وہ حیران ہوں یا پریشاں ؟

باقی شعبوں کا حال بھی کچھ اتنا متاثر کن نہیں لیکن موجودہ حکومت کا صحت ایمرجنسی پروگرام ہر گزرتے دن کیساتھ بد سے بدتر ہو تا گیا اور اس میں بہتری کے تمام تر دعوے وعدے صرف میڈیا کی حد تک محدود رہے یا سوشل میڈیا کی زینت بنتے رہے


یہ بھی پڑھیں


خیبرپختونخواہ کے تمام بڑے شہروں کی سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کے حوالے سے ہر روز اخباروں کے صفحے کالے ہوتے رہتے ہیں ،جب بڑے شہروں کی یہ حالت ہو جہاں تمام تر سرکاری مشینری ،وسائل اور عمال ہر وقت موجود ہوں تو ان حالات میں چھوٹے اور دیہی علاقوں کی کیا صورتحال ہوسکتی ہے اس کا اندازہ ہر ذی شعور گھر بیٹھے بھی کرسکتا ہے

پشاور سے شمال کی طر ف محض  9 کلو میٹر کے فاصلے پر یونین کونسل کانیزہ بی ایچ یو چارپریزہ کی حالت دعوئوں اور حقیقت کے درمیان فرق کو زبان حال سے بیان کرتی دکھائی دیتی ہے۔

بی ایچ یو چارپریزہ 80 کی دہائی میں بنی تھی ۔ جسکا کل رقبہ 5 کنال پرمحیط ہے جس میں چار چھوٹے کمرے ہیں 2 کمرے خستہ حالی کی وجہ سے بوسیدہ حآلت میں بند پڑے ہیں جو کسی وقت بھی زمین بوس ہوسکتے ہیں

ایک کمرہ ڈاکٹر اور ایک میں میڈیسن سٹور بنا ہوا ہے جسکی چھت بھی اتنی خراب حالت میں ہے کہ وہ کسی وقت بھی کسی حادثہ کا سبب بن سکتی ہے ۔اس وقت  بی ایچ یو چارپریزہ کا سٹاف عمارت گرنے کے خوف سے ڈاکٹر کے بنگلہ میں شفٹ ہو گیا ہے ۔

جو نام کا تو بنگلہ ہے لیکن اپنی حالت سے بھوت بنگلہ ہونے کا اعلان کرتا ہے ۔ایک بڑے علاقے کی واحدطبی سہولت ہونے کی وجہ سے بی ایچ یو چارپریزہ میں روزانہ سینکڑوں مریض علاج  کے لئے اتے ہیں لیکن سہولیات نہ ہو نے کی وجہ سے اکثریت بغیرعلاج کئے واپس چلے جاتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے بی ایچ یو چاپریزہ اس علاقے میں بننے والا پہلا بی ایچ یو تھا ۔اس کے بعد دیگر مقامات پر بننے والے بی ایچ یوز اپ گریڈ ہوچکے ہیں ،لیکن اس بی ایچ یو کی اپ گریڈیشن تو دور کی بات ہے کئی سالوں کی اس کی مینٹننس کا تکلف بھی چھوڑ دیا گیا ہے

جس طرح اس بی ایچ یو کی عمارت ہے وہی حال اس میں موجود بنیادی ضروری طبی آلات ،دوائوں اور ڈاکٹرز کی دستیابی کا بھی ہے جن کی عدم دستیابی کے باعث زیادہ تر مریض یا تو پرائیویٹ ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہیں یا غریب اور لاچار لوگ بغیر علاج اور دوائوں کے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں

80 کی دہائی میں بننے والی طبی سہولت بدتر حالت میں

جہاں ڈاکٹرز اپنی مرضی سے آئیں اور جہاں وہاں کسی سیکورٹی گارڈ کی موجودگی کا سوال ہی بے معنی ہے جو کہ موجودہ حالات میں کسی حادثہ کا سبب بن سکتا ہے جبکہ سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے موجود عملہ بھی عدم تحفظ کا شکار رہتا ہے

اگر اینٹ اور ہتھر کے ڈھیر کو ہسپتال کا نام دیا جائے تو ٹھیک ہے ورنہ مذکورہ بی ایچ یو کسی صورت ہسپتال کی تعریف پر پورا نہیں اترتا کیوں کہ جہاں مریض کو دوا اور ڈاکٹر نہ ملے ،ڈاکٹر کو سہولت نہ ملے اور عملے کو سیکورٹی میسر نہ ہو وہاں پینے کا صاف پانی ملنا تھوڑا مشکل کام ہے ۔

80 کی دہائی میں قائم ہونے والا بی ایچ یو پاکستان کی تقریباً تمام پارٹیوں کا دور حکومت دیکھ چکا ہے ،اس کے نام پر کئی لوگوں کو سیاست کرتے اور سیاست سے اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتے اور مال دولت سمیٹ کر واپس آتے دیکھنے والے بی ایچ یو کی حالت ویسی کی ویسی بلکہ پہلے سے بدتر ہورہی ہے

اگرچہ حال ہی میں صوبائی وزیر خزانہ و صحت تیمورجھگڑا نے پشاور کے 44 بی ایچ یوز کو اپ گریڈ کرنے کی نوید تو ضرور سنائی ہے لیکن نہیں معلوم کہ ان میں بی ایچ یو چارپریزہ بھی شامل ہے کہ نہیں ۔جو اپنے قیام کے وقت 20 ہزار کی آبادی کیلئے بنایا گیا تھا لیکن اس کے اردگرد اب ووٹروں کی تعداد لاکھوں کو پہنچ چکی ہے

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post جنرل شیرمحمد کریمی ،سیاسی مداخلت،اقرباپروری اور کرپشن افغان فوج کی شکست کا سبب بنی
Next post 1923، برطانوی ہند کی ماتحت دو ریاستوں تناول اورسوات کے درمیان خونی تصادم کی وجوہات کیا تھیں؟
Translate »