سعدیہ رحمان ۔ایم فل اردو ۔بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، ڈیرہ اسماعیل خان

کوئی بھی زبان پو وہ معاشرے میں افراد کے جذبات کی ترسیل کا بہترین وسیلہ تصور کی جاتی ہے اور صحیح معنوں میں اس لیے اس کی تراش خراش کے ساتھ ہی ساتھ اسے قومی وجود کا حصہ بنانے کے لیے حالات سازگار کیے جاتے ہیں کیوں کہ قومی زبان ہی اس ملک و شہر کی معاشرتی, تہذیبی اور ثقافتی اقتدار کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ کسی بھی قوم کی زبان کا علمی و ادبی سرمایہ اس قوم کی ثقافتی, تہذیبی اور کُلی امنگوں اور کامیابیوں کا عکاس ہوتا ہے اور رہی بات اردو زبان کی قدرو قیمتیا قائد اعظم محمد علی جناح کا تصور قومی زبان تو قائد اعظم اردو کو بحثیت قومی زبان رائج کرنا چاہتے تھے کیوں کہ وہ اردو کی تہذیبی اور فکری اہمیت سے آگاہ تھے یہی وجہ ہے یہ موضوع اپنے اندر تاریخی وسعت سمیٹے ہوئے ہے.

قائد اعظم محمد علی جناح کے ارشادات میں نہایت واضح طور پر اردو زبان کی اہمیت اور پاکستان کی قومی اور سرکاری سطح پر ترویج اور اشاعت کا حکم موجود ہے مگر ہم اپنی نااہلی کی بناء پر اور بہت سے قوانین کی طرح اس حکم نامے کو بھی ایک عام سا حکم نامہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا ہے اور قومی زبان کا نفاذ کیوں ضروری ہے

اس کا جواب ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح ہی کی ایک تقریر کے اقتباس سے ملتا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ کوئ بھی قوم زبان ایک قومی زبان کے بغیر ملکی سالمیت اور فکرییکجہتی تک رسائ حاصل نہیں کرسکتی,,اپنی زندگی کے آخری دور میں یعنی ء1934سےء1948 تک وہ مسلسل اردو زبان کی وکالت کرتے رہے

1949 میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ  پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی کیوں کہ اردو ہی برصغیر کی واحد زبان ہے جس میں نہ صرف مذہب ثقافت اور ادب کے حوالے سے مسلمانان برصغیر کا عظیم علمی سرمایہ محفوظ ہے بلکہ یہ رابطے کی زبان ہے اس لئے ضروری ہوگا کہ اسے پاکستان کی قومی زبان کی حیثیت دی جائے

اس لئے قائد اعظم محمد علی جناح نے 19اپریل 1935ء کو اخباری بیان میں کہا کہ  اگر ہم اردو زبان کے تحفظ کے لئے سینہ سپر نہیں ہوں گے تو ہندی کو بطور قومی زبان ہم پر مسلط کر دیا جائے گا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے اس بیان کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر اب اردو زبان کے تحفظ کے لئے کوئی اقدام نہ کئے گئے تو انگریزی کو ہم پر مسلط کر دیا جائے گا

اور اردو پاکستان کے اتحاد و سالمیت اور یکجہتی کی ضمانت ہے اور قومی تشخص کے احیاء کے لئے بحیثیت قومی زبان اردو کا عملی نفاز بہت ضروری ہے کیوں کہ یہ زبان ہماری قلی تاریخ کی ایک قابل فخر میراثیے اسی لئے جلسہ عام میں 21مارچ 1948ء کو بہت صاف صاف لفظوں میں قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ،بالآخر اس صوبے کے لوگوں کو ہی حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس صوبے کی زبان کیا ہوگی؟

لیکن میں آپ کو واضح طور پر بتانا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی اور صرف اردو, اردو کے سوا کوئ اور زبان نہیں جو کوئ آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئ قوم متحد نہیں ہوسکتی اور نہ کوئ کام کر سکتی ہے دوسرے ملکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے بس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ اردو ہی ہوگی.

قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے خیالات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ مسلماناں برصغیر کے لئے ایک نعمت عظمی کی حسین شکل تھے ہمیں ان کی بنائ ریاست کو ان کے فرمودات اور ارشادات کے مطابق آگے بڑھانا ہےآپ نے مملکت خداداد کے ہر اہم معاملے پر بڑا واضح مؤقف اختیار کیا جیسے پاکستان کو اسلامی جمہوری ریاست قرار دیا


یہ بھی پڑھیں


اس طرح پاکستان کی قومی زبان کے بارے میں واشگاف الفاظ میں مسلم لیگ کونسل اور پھر پہلی قانون ساز اسمبلی کے فیصلوں کے مطابق اردو ہی کو قومی زبان بنانے پر زور دیا کیوں کہ آپ نے تحریک آزادی کے دوران محسوس کر لیا تھا کہ مسلمانوں کو متحد کرنے میں اردو ہی ایک زریعہ اور مؤثر ہتھیار ہے.

قائد اعظم محمد علی جناح اردو زبان پر دسترس نہ رکھنے کے باوجود انتخابی مہم کے دوران اپنی تقاریر کے آغاز اور اختتام پر چند جملے ضرور اردو زبان میں ادا کیا کرتے تھے آزادی سے قبل جب کانگریس نے ہندی ہندوستان کی مہم چلائ تو تب بھی ء1935 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے برملا اعلان کیا کہ اس منصوبے  کا اصل مقصد اردو کا گلا دبانا ہے

اس طرح آپ نے 1938 میں پنڈت جواہر لال نہرو کو کسی بات پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اردو ہماری عملا زبان ہے ہم آئینی ضمانت چاہتے ہیں کہ اردو کے دامن کو کسی طریقے سے متاثر نہ کیا جائے قائد اعظم محمد علی جناح کے ارشادات میں دور اندیشی چھپی ہوئی تھی جو اب ظاہر ہو رہی ہے

یعنی ان کا یہ کہنا کہ مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئ کام کرسکتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے فرامین کی روشنی میں اس زبان کو اس کے جائز مقام کے اعتبار سے اہمیت دی جائے

اس کے علاوہ پاکستان کا پہلا آئین 23مارچء1956 کو نافذ ہوا اس آئین میں اردو اور بنگلہ دونوں زبانوں کو قومی زبان قرار دیا گیا لیکن آئین سازوں کو گوارہ نہ تھا کہ آئین اردو یا بنگلہ میں لکھا جائے یہ انگریزی زبان میں تھا قوم کو یہ بات انگریزی میں لکھ کر بتائی گئی کہ تمہاری قومی زبان اردو اور بنگلہ ہوگی بعد کے دونوں آئین بھی قومی زبان کے بجائے انگریزی میں لکھے گئے  حتی کہ آئین پامال کرنے کے حکم نامے بھی انگریزی میں ہی جاری کئے جاتے رہے.

قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کی ریاست کے حوالے سے افکار روز روشن کی طرح عیاں ہیں ان کے افکار سے خلوص نیت کے ساتھ استنباط کیا جائے تو پاکستان حقیقی معنوں میں ایک جدید قومی ریاست بن سکتا ہے بہ صورت دیگر ہم مختلف دائروں میں بھٹکے رہیں گے اور ذہنی و فکری خلفشار ہمیں ایک قوم بننے سے باز رکھے گا اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نئی نسل کو اردو کی جانب راغب کرنے کے لئے اردو کو حصول روزگار کی زبان بنایا جائے

اس کے علاوہ حکومت میڈیا اور عوام کا باشعور طبقہ قومی زبان کی اہمیت کا ادارک کرے اور اسے زندہ رکھنے اس اس کا اصل مقام دلوانے کی مخلصانہ کوشش کریں تاکہ ہم صحیح معنوں میں ایک مستحکم پاکستانی ہونے کا ثبوت دے سکیں!!

کیوں کہ قائد اعظم محمد علی جناح فرما گئے ہیں کہ,, اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم مضبوط ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو اس کی سرکاری زبان ایک ہی ہوسکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو ہے

One thought on “دنیا کی کوئی قوم اپنی زبان کے بغیرترقی نہیں‌کرسکتی تو پاکستان کیلئے یہ کیسے ممکن؟”

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »