ظہیر تاج


آجکل ایک اسائنمنٹ کے سلسلے میں کچھ عرصے کے لئے جنوبی سوڈان میں ہوں۔ یہ اس وقت دنیا کی کم عمر ترین قوم ہے، انکو معرضِ وجود میں آئے محض دس سال ہوئے ہیں۔ دو دن پہلے 9 جولائی کو انکا دسواں یوم آزادی گزرا۔

اُس دن میرے ساتھ شمالی سوڈان کے کچھ کولیگز تھے ان سے پوچھا کہ آپ اس علیحدگی کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ یہ تقسیم ہمارے آنکھوں کے سامنے ہوئی،

ہم ایک قوم ہیں لیکن اب ہمیں ویزہ لے کر اس ملک میں آنا پڑتا جو کبھی ہمارا اپنا تھا۔ یہ ہمارے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے اور زندگی کی تلخ ترین یادوں میں سے ایک ہے۔ (نجانے کیوں مجھے اس موقع پر سقوطِ ڈھاکہ یاد آیا).


یہ بھی پڑھیں 

  1. مدائن صالح کے آثارقدیمہ اورسعودی عرب میں‌نئے سیاحتی باب کا آغاز
  2. الوداع …….افغانستان کو فوج سے فتح نہیں‌کرسکتے ،جوبائیڈن
  3. پہاڑوں کی ننھی شہزادی 12 سالہ کوہ پیما سیلینہ خواجہ نیا عالمی ریکارڈ بنانے کی راہ پر گامزن
  4. 20 سال تک افغان جنگ نہ جیتنے والا امریکہ پاکستان سے افغانستان پر کیسے قابو پائے گا ،عمران خان

میں نے سرسری ان سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور جو حکومتیں گزریں انکی عاقبت نااندیشی تھی۔ خرطوم میں بیٹھے کچھ طاقتور اور ناسمجھ لوگوں نے اسلامی شریعی قانون کے ذریعے جنوبی سوڈان کو چلانے کی کوشش کی

جو یہاں کی عیسائی اکثریت کو ناقابلِ قبول تھا۔ جنوبی سوڈان میں صحت، تعلیم ،امن اور کسی قسم کا کوئی انفراسٹرکچر نہیں تھا۔ یہ تمام عوامل ان لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاوا بنتے رہے، دہائیوں پر محیط سول وار چلتی رہی اور بلاآخر عالمی طاقتیں کود پڑیں۔

جنوری 2011 میں یہاں پر ریفرنڈم ہوا جس میں 98 فیصد لوگوں نے شمالی سوڈان سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا اور یوں انکے راستے جدا ہو گئے۔ اب یہ ایک الگ ملک ہے، انکی اپنی کرنسی ہے۔ غربت ابھی تک بہت ہے لیکن اب یہاں بہت تیزی سے انفراسٹرکچر بن رہا ہے۔

یواین او اور دنیا بھر کی امداد انہیں میسر ہے

مزے کی بات عیسائی اکثریت ملک ہے (انکی آزادی کے پیچھے مسلمان اکثریت سے مسلسل ٹکراؤ کا بیک گراؤنڈ بھی موجود ہے ) لیکن یہاں پر مساجد بھی موجود ہیں ہم ہر جمعے کی نماز مسجد میں جاکر ادا کرتے ہیں ۔ کسی قسم کی پابندی یا گھٹن محسوس نہیں ہوئی۔

شمالی سوڈان کے دوستوں نے اس ساری کہانی کو ایک لفظ میں یوں بیان کیا ناانصافی۔

Translate »