ڈاکٹر عارف علوی 

صدرمملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان 


5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے یکطرفہ فیصلے کو دوسال مکمل ہوگئے ،یہ دوسال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آج کی جدید دنیا میں بھی ہمارے کشمیر بھائی اور بہنیں بدترین فوجی استبداد تلے دبے ہوئے ہیں ،لیکن ہمیں یہ دن یہ بھی یاددہانی کرواتا ہے کہ ڈوگرہ راج کے خلاف کشمیریوں کے آبائو اجداد کی مزاحمت اور آزادی کی روایت اور جدوجہد کو آج بھی غیر متزلزل انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں

ستر سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیری اپنے حق خودارادیت اور اپنے مستقبل کے فیصلے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی جبر انہیں اپنی راہ سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوسکا

پاکستانی عوام کے دل و دماغ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ متحد ہیں ،ہم ہمیشہ سے اقوام متحدہ کی قراردادو ں کی روشنی میں کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں ۔
عالمی سیاست کے اتار چڑھائو کے باوجود پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا تھا اور جب تک انہیں ان کا حق خودارادیت اور آزادی کا حق نہیں مل جاتا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا رہے گا

حکومت پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ۔عشروں میں پہلی بار مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں بات ہوئی ۔اور کئی بین الاقوامی رہنمائوں اور صحافیوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کی

مجھ سمیت وزیر اعظم ،ان کی کابینہ اور ہماری پارلیمنٹ نے 5 اگست 2019 کے بعدمقبوضہ کشمیر میں روا رکھے جانے والے ظالمانہ اقدامات پر متعدد بار تشویش کا اظہار کیا ۔

مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات اور غاصب قوت کے مظالم کے بعد کشمیریوں کی شناخت بدلنے کے منصوبے پر کام ہورہا ہے ،جس میں صدی سے زیادہ قدیم ڈومیسائل نظام میں تبدیلی کے ذریعے آبادی کا تناسب بدلا جارہا ہے ،اور جب کبھی بھی ایسا کیا گیاغاصب قوتوں اور مقامی آبادی کے درمیان تلخیاں بڑھی


یہ بھی پڑھیں:


کشمیریوں کیلئے یہ بھارتی ہتھکنڈا کوئی نیا نہیں ،تقسیم کے وقت نومبر 1947 میں مہاراجہ کی ڈوگرا فوج انتہاپسند ہندوئوں نے جموں میں تین لاکھ کے قریب مسلمانوں کا قتل عام کیا ۔جبری انخلاء اور نسل کشی کے واقعہ کے نتیجہ میں جموں سے 10 لاکھ مسلمانوں کو ہجرت کرنا پڑی

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ خطے کا آبادیاتی تناسب بدلنے کیلئے ریاستی شہہ پر کی گئی دہشت گردی تھی ۔کیوں کہ جموں کی 60 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی

لیکن قتل عام اور جبری انخلاء کے نتیجے میں وہاں مسلمان اقلیت بن کر رہ گئے ۔آج مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو ایک بار پھر اسی عمل کے دوہرائے جانے کا خطرہ ہے

آبادیاتی تناسب بدلنے کے ساتھ بھارتی حکومت نے قانون سازی کے ذریعے اردو زبان کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے جو کہ 131 سال سے ریاست کی سرکاری زبان ہے ۔مسلمانوں کی آبادی کم ظاہر کرنے کیلئے

مسلمانوں کے نام سے موسوم عوامی مقامات کے نام تبدیل کئے جارہے ہیں،جبری حلقہ بندیاں کشمیریوں کی شناخت کو بدلنے کی ایک اور کوشش ہےیہ سب کچھ کشمیری عوام کی خواہشات کے برعکس آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کےبعد کیا گیا ۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 کو کبھی تسلیم نہیں کیا لیکن اس کے خاتمے سے زمینی حقائق تبدیل ہوئے جو دوطرفہ معاہدوں اور عالمی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے

مزاحمتی تحریک کو دبانے اور اپنے غاصبانہ قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے بھارتی قابض افواج نے کشمیر کو عملی طور پر جیل بنا کررکھ دیا جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔وہاں آج بھی ہر آٹھ کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی مسلط ہے ۔ظالمانہ قوانین کے تحت گرفتار ہونے والے ہزاروں سیاست دان ،اساتذہ ،کارکنان ،صحافی اور طلباء بھارت کی مختلف جیلوں میں محبوس ہیں

کئی حریت قائدین صحت کے مسائل سے دوچار اور ان کے عزیزواقارب ان کی سلامتی کیلئے فکرمند ہیں
ہندوتوا نظریات کی حامل بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقدامات سے صرف کشمیریوں کی تاریخی و ثقافتی حیثیت کو ہی خطرہ نہیں بلکہ اس نے علاقائی امن اور حق خودارادیت اور آزادی کی عالمی مسلمہ روایات کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔

بی جے پی کے زیر اثربھارت ایک رجعت پسند اور جابرانہ ملک بن رہا ہے جو فوجی مہم جوئی اور طاقت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے

کشمیر میں روا رکھے جانے والے مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے بھارت نے پاکستان کے خلاف منظم انداز میں بین الاقوامی سطح پر پروپیگنڈا مہم شروع کی ،جو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی بھارتی معاونت کے ثبوتوں کیساتھ بے نقاب ہوئی ۔

معروف یورپی ڈی انفولیب نے بھارت کی جانب سے جعلی این جی اوز اور جعلی نیوز ویب سائٹس کے ذریعے اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارتی کوشش کو بے نقاب کرکے رکھ دیا
حال ہی میں ایک اعلیٰ بھارتی اہلکار ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بھارت کی سیاسی چال بازی کا اعتراف کرچکا ہے جس کا مقصد پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنا ہے ۔

اٹھائے جانے والے تمام نکات کے بعد ہم خود سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ پاکستان اور خطے کیلئے بھارتی حکومت کا کردار عقلمندانہ ہے یا وہ انتہاپسندانہ نظریات سے متاثر ناقابل اعتبار ملک ہے

فوجی اور زبردستی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کوعوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل رہی ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت اپنی تھوڑی بہت حمایت رکھنےکا جو دعویٰ کرتا تھا وہ حالیہ اقدامات کے نتیجے میں ختم ہوچکی ہے

کشمیریوں نے ریاستی جبر اور ناانصافی کے خلاف ہمیشہ استقامت اور بہادری کا مظاہرہ کیا ،اور وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں عالمی برادری کی جانب سے وعدہ کردہ اپنے سیاسی حق کیلئے بھرپور مزاحمت جاری رکھیں گے

پاکستان عالمی برادری کا ضمیر جگانے اور انہیں کشمیر یوں کی حالت زار کے بارے میں آگاہ رکھنے کیلئے اپنا فرض نبھاتا رہے گا ۔میں دنیا کی تمام اقوام کو یاد دلاتا ہوں کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرنا ان پر قرض ہے ۔کشمیر عالمی ضمیر کا ایک ادھورا وعدہ ہے ۔

وہ دن دور نہیں جب کشمیر کے عوام بھارتی استبداد سے آزاد ہوں گے
انشاء اللہ

Translate »