سید عتیق


جوزجان افغانستان کا شمال مغربی صوبہ ہے جس کے مغرب میں دریائے آمو کے پار ازبکستان اور ترکمانستان ہیں ۔ صوبے کا دارلحکومت شبرغان ہے جہاں کی سب سے مشہور چیز ازبک کمانڈر فیلڈمارشل جنرل عبدالرشید دوستم ہیں ۔

اس لیئے جب شبرغان پر طالبان کا قبضہ ہوا تو ساتھ ان کا بھی ذکر آیا غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق شبر غان میں دوستم کے گھر سے ان کی وردی بھی طالبان نکال باہر لائے ایک تصویر میں ایک شخص وردی پہنے کھڑا ہے

۔ خبر ہے کہ دوستم ترکی سے واپس افغانستان آ چکے ہیں ۔ جہاں وہ اپنے اوپر لگنے والے سنگین الزامات کی تحقیقات سے بچنے کے لییے مارچ 2017 سے رہ رہے تھے ۔ پس منظر یہ تھا کہ بزکشی نامی کھیل کے مقابلے میں 24 نومبر 2016ء کو اس وقت کے نائب صدر افغانستان جنرل دوستم اور سابق گورنر جوزجان احمد ایشچی کی ٹیموں کے مابین ایک میچ تھا

جس کے بعد دوستم اپنے محافظوں سمیت احمد ایشچی کو اغواء کر اپنے گھر لے گئے۔ جہاں انہیں پانچ دن تک قید رکھا ۔ اور انہیں برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ جنسی ذیادتی بھی کی ۔ افغان حکومت نے الزامات پر تحقیقات کا اعلان کیا تو دوستم ترکی چلے گئے۔ مگر یہ پہلا الزام نہیں  اور نہ ہی اسے آخری کہا جا سکتا ہے ۔

اس سے قبل بھی وہ الزامات کی زد میں رہے ۔

سویت یونین نے جب ببرک کارمل کی پکار پر اپنی فوجیں افغانستان بھیجیں تو اس وقت مقامی جنگجوئوں نے روس کے خلاف مزاحمت شروع کر دی ۔ ان مقامی جنگجوئوں کے خلاف لڑنے کے لیئے دوستم کو روس نے میدان میں اتارا ۔

اس سے پہلے وہ مزدور پیشہ تھے ۔ یہ افغانستان میں روس نواز گروہ کے سربراہ تھے روس نے دوستم کو پچاس ہزار سپاہیوں کا لشکر دیا جسے دوستم ملیشیا کہا جاتا تھا ۔ اس گروہ پر بے شمارجنگی جرائم کا الزام عائد ہوتا رہا ۔


یہ بھی پڑھیں


روس کی واپسی کے بعد دوستم نے احمد شاہ مسعود کے ساتھ مل کر گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی سے جنگ چھیڑ دی ۔ 1989سے 95 تک وہ افغانستان میں متحارب گروہوں کا مرکزی کردار رہے کبھی وہ احمد شاہ مسعود کے ساتھ مل کر گلبدین حکمت یار کی فورسز کا مقابلہ کرتے تو کبھی گلبدین حکمت یار کے ساتھ مل کر احمد شاہ مسعود کے ساتھ لڑائی کرتے ۔

کابل پر قبضے سے متعلق وار لارڈز نے فیصلہ یہ کیا کہ سب مل کر کابل میں داخل ہوں گے سو گلبدین حکمت یار کابل کے قریب پہنچ کر رک گئے دوستم ملیشیا نے آگے بڑھ کر کابل پر قبضہ کر لیا اور لوٹ مار شروع کر دی۔ معاہدہ کی خلاف ورزی کے بعد کابل میں زبردست خون خرابہ ہوا۔

وار لارڈز کے مابین جتنی بھی لڑائیاں ہوئیں دوستم ان میں پیش پیش تھے ۔ بلکہ انہی کی فورسز سے سب کو شکایات پیدا ہوئیں ۔ ان کی فوج دوسرے وار لارڈز کے علاقوں میں زبردستی گھس جاتی ۔ یوں خانہ جنگی کا سلسلہ جاری رہا ۔

1994ء تک وار لارڈز کی لڑائیوں سے تنگ عوام میں اچانک طالبان اٹھے اور انہوں نے دو سال کے اندر کابل پر قبضہ کر لیا ۔ کابل ہاتھ سے نکلتے ہی 1996 کے بعد دوستم نے احمد شاہ مسعود کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف شمالی اتحاد بنایا اور جنگ شروع کر دی ۔

دشت لیلی کا قتل عام

اس دوران انہوں نے جوزجان میں اپنی ریاست بھی قائم کر لی جس کی اپنی کرنسی دوستمی تھی ۔ نومبر 2001 میں افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد انہوں نے قندوز میں قید ہزاروں طالبان سپاہیوں کو شبر غان منتقل کرنے کے لیئے کینٹینروں میں ٹھونسا اور پھر دشت لیلی میں لے جا کر کینٹینروں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔

بعد میں جو زندہ بچ گئے انہیں وہیں زندہ دفن کر دیا۔ جرمنی کا ایک رپورٹر قافلے کے پیچھے موجود تھا جس نے یہ خون آشام واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے مقتولین کی تعداد اڑھائی ہزار بتائی جب کہ طالبان کا کہنا ہے کہ مقتولین دس ہزار تھے ۔

جنرل دوستم نے گزشتہ سال کہا تھا کہ نیٹو فوج انہیں چھ مہینے کے لیئے افغانستان دے دے میں افغانستان سے طالبان کا صفایا کر  دوں گا ۔ مگر ایک سال بعد صورت حال یہ ہے کہ ان کا اپنا گھر اور وردی تک طالبان لے گئے ۔

جنرل دوستم کو اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے مابین معاہدے کے بعد فیلڈ مارشل کا خطاب دیا گیا بی بی سی کے مطابق دوستم کو فیلڈ مارشل بنانے کی شرط عبداللہ عبداللہ کی جانب سے معاہدے میں شامل تھی ۔ جنرل دوستم پر اس دوران اغواء ، تشدد ، اور جنسی زیادتی کے متعدد الزامات لگتے رہے ہیں ۔

اب چونکہ وہ خود افغانستان میں واپس آ چکے ہیں لہذا حکومت کو ان کے خلاف تحقیقات دوبارہ سے شروع کر کے اپنی ساکھ بہتر بنانا ہو گی ۔ مگر حکومت کو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں ایسے میں وہ شائد دوستم کے خلاف کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ اگر ایسا ہوا تو موجودہ حالات اور طالبان کی تیزرفتار پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہین کہ کل کلاں اگر کابل طالبان کے زیرقبضہ آجاتا ہے تو فیلڈ مارشل جنرل عبدالرشید دوستم کہاں اور کس حالت میں ہوں گے ؟

Translate »