0 0
Read Time:10 Minute, 46 Second

حور بانو

اور آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور”رنگوں کا مختلف ہونا بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے، علم رکھنے والوں کے لیے یقینا اس میں نشانیاں ہیں.” سورہ روم آیت نمبر:22

زبان انسان کی بقا و ارتقا کے لیے ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔زبان کے ذریعے انسان اپنی سوچ ،جذبات اور احساسات سے دوسروں کو آگاہ کرتا ہے اور دوسروں کے خیالات سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ تمھاری زبانوں کے ایک دوسرے سے مختلف ہونے میں بھی تمھارے لیے نشانیاں ہیں۔
دنیا میں مختلف زبانوں کے ہونے سے ہی لوگوں میں زبان کا امتیاز پیدا ہوتا ہے جیسے دنیا میں بسنے والے لوگوں کے مختلف رنگ اُن میں امتیاز پیدا کرتے ہیں ،اُن کا مختلف رنگ اور مختلف زبانیں ان کے مختلف علاقوں سے ہونے کا ،اور ان کی روایات کا پتہ دیتے ہیں۔

دنیا میں بسنے والی تمام اقوام اپنی زبان پر فخر محسوس کرتی ہیں اور اس کی اشاعت اور ترویج کے لیے بھی کوشاں دکھائی دیتی ہیں۔
پاکستان کے آزاد ہونے کے بعد اس کی قومی زبان اردو قرار دی گئی اور اسے دستور کا حصہ بھی بنایا گیا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہو گی۔
دستور پاکستان اور عدالت عظمیٰ/سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ملک پاکستان کا سارا نظام قومی زبان اردو میں چلایا جانا چاہیے۔ قائد اعظم نے قیام پاکستان سے پہلے یہ فیصلہ کردیا تھا اور 25 فروری 1948 کو اس کو دستوری حیثیت دی گئی تھی۔
کئی ایک بار اردو کو دستور کے مطابق نافذ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں مگر یہ عمل صرف کوششوں تک ہی محدود رہا ،اس عمل کو پایہ تکمیل تک نا پہنچایا جا سکا۔
ایک تحقیق کے مطابق یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اگر کسی معاشرے کو جانچنا ہو یا اس کی روایات کو پرکھنا ہو تو اس معاثرے کے تعلیمی نصاب کو دیکھ لیا جائے،کہ اسی سے ہی معاشرے کی اقدار کا پتہ چلتا ہے۔۔
مگر افسوس صد افسوس کہ جب ہم اپنے تعلیمی نصاب پر نظر دوڑاتے ہیں تو اِسے اپنی اقدار کے بالکل برعکس پاتے ہیں ،اور غلامیت کا رنگ ہمارے نصاب میں خوب جھلکتا ہے۔۔
قومی زبان اُردو کو محض اردو کی کتاب میں ہی پڑھنا نصیب ہوتا ہے۔۔اردو کا نفاذ تو زرا دیکھیے کہ سارا سال انگریزی میں پڑھائے جانے والے نصاب (بیالوجی،فزکس،ریاضی،کیمیا وغیرہ وغیرہ)کے امتحانی پرچہ جات میں انگریزی کے ساتھ اردو میں سوال چھاپ کر خانہ پوری کر دی جاتی ہے۔

اب ایک اور تازہ خبر سنیے کہ اُردو کے نفاذ کے لیے تعلیمی نصاب پانچویں جماعت تک اردو زبان میں کر دیا گیا ہے۔اب طالب علم اپنی قومی زبان میں بنیادی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔۔مگر اب یہاں ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ اِس خبر کو سن کر خوشی کا اظہار کیا جائے یا پھرغم کے مارے گریباں چاک کیا جائے کہ کیا طالب علم نے صرف پانچویں تک ہی تعلیم حاصل کرنی ہے ،یا پھر پانچویں کہ بعد پھر وہی جبراً غیر زبان میں تعلیم حاصل کی جائے۔

قائد اعظم کا فرمان تھا کہ اردو اس ملکِ پاکستان کی سرکاری زبان ہو گی مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا ،چاہے اس ملک کا تعلیمی نظام دیکھ لیں یا معاشی ،سیاسی نظام اردو کی حیثیت مخمل میں ٹاٹ کا پیوند کی سی ہو گئی ہے،جبکہ مخمل اردو کو ہونا چاہیے تھا۔
اب اِس بات پر بھی یقین کر لیتے ہیں کہ طالب علم نے اُردو زبان میں ہی اپنی تعلیم مکمل کر لی۔آگے اب کسی پیشے کو اختیار کرنے کے لیے ،لیے جانے والا قابلیتی امتحان پھر دردِسر بن کر غیر زبان میں سامنے آ جاتا ہے۔۔

یہ بھی پڑھیں

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا کہ:میں آپ کو واضح کردینا چا ہتا ہو ں کہ پاکستان کی سر کاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو اور اردو کے سوا اور کچھ نہیں ۔جو آپ کو گمراہ کر نے کی کو شش کر تا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی ہے۔ (21 مارچ 1948 ڈھاکہ)
کیا قائد اعظم نے ایک ایسا ملک بنانا چاہا تھا کہ جس کے باسی آنے والے وقت میں اپنی قدروں سے ہی واقف نا ہوں۔۔یا ایسا پاکستان کہ جس کے نوجوانوں کو ان کی اپنی قومی زبان اردو کو محض امتحانی پرچوں میں پاس کروانے کے لیے پڑھایا جاتا ہو۔۔اب زرا حالتِ زار امتحانی نظام کی دیکھیے جہاں طالب علم کی بہتر اردو کا اندازہ معروضی سوالات دے کر لگایا جاتا ہے.
اور پھر وہ طالب علم سابقہ پرچوں کو دیکھ کر وہی رٹے رٹائے معروضی سوالات کوپرچوں میں حل کرلیتا ہے۔۔لیں جناب طالبِ علم کی اردو کا اندازہ ہو گیا۔ایسے حالات میں مجھے علامہ اقبال کا وہ شعر یاد آ جاتا ہے کہ:
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
ملکی سطح پر لیے جانے والے سب سے بڑے مقابلے کے امتحان کو ہی لے لیجئے جو غیر زبان کی ترقی و ترویج کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔اور اردو کو برائے نام اختیاری مضامین میں شامل کر دیا گیا ہے.
سی_ ایس _ایس کے امتحان میں چھ لازمی مضامین میں سے دو مضامین خالص انگریزی کے ہیں، جبکہ اردو زبان کو اختیاری مضامین کی فہرست میں شامل کر کے تعلیمی ادارے نے اپنی نام نہاد قومیت کا حق ادا کر دیا ہے اور ملک کے روشن معماروں کی قابلیت کا اندازہ بھی اسی سے لگایا جا رہا ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے ڈھاکہ میں 1948 ء میں فرمایا تھا کہ:
"اگر پاکستان کے مختلف حصّے متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا چاہتے ہیں تو انہیں ایک سرکاری زبان اپنانا ہوگی اور میرے نزدیک وہ زبان اردو اور صرف اردو ہے”

یہ قوم جو کہ بانی پاکستان کو اپنا قائد کہتی اور مانتی ہے مگر قائد کے فرامین پر عمل نہیں کر پاتی ،پھر یہ قوم کیونکر ترقی کی خواہاں ہے،کہ جو قوم اپنے رہبر اور قائد کے فرامین پر ہی عمل نا کر پائے وہ کیسے کامیاب ہو سکتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ کسی قوم نے بھی کسی غیر زبان کے ذریعے ترقی حاصل نہیں کی،بلکہ ایسی کئی زبانیں تنزلی کی گہرائیوں میں چلی گئیں ایسی کئی زبانیں بے نام ہو گئیں جن سے راہ فرار اختیار کی گئی۔۔اب بھی دنیا میں کچھ زبانیں ایسی ہیں جن کو سمجھنے والا اِس دنیا میں صرف ایک ایک فرد بچ گیا ہے۔

دنیا میں اپنی اپنی قومی زبان کو اپنانے والے ممالک کا اگرتذکرہ کریں تو جاپان میں جاپانی زبان رائج ہے،جرمنی میں جرمن زبان رائج ہے ،روس میں روسی اور چین میں چینی زبان رائج ہے،اور حال ہی میں حالتِ جنگ سے نکلنےوالے ملک افغانستان میں طالبانوں کی حکومت کے آتے ساتھ ہی پش٘تو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا ہے ،اُن کا یہ اقدام ان کے لیے کافی معاون و مددگار ثابت ہو گا کیونکہ وہاں کہ عام عوام اِس زبان کو بخوبی سمجھتی ہے اور پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ قوم غلامیت کے پردوں سے نہیں نکل پا رہی ۔
قومی زبان سے غفلت محض تعلیمی نظام تک ہی محدود نہیں بلکہ ملکی سطح پر بھی اِس اہم موضوع پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔عدالتی حکم کے جاری ہونے کے باوجود اردو کو سرکاری زبان کےطور پر نافذ نہیں کیا جا پا رہا.
اسی طرح سیاسی میدان میں اگر دیکھیں تو اعلیٰ عہدے داران غیروں کے سامنے اُن ہی کی غیر زبان فَر فَر بول کر فخر محسوس کرتے ہیں ۔
قائد اعظم خود ایک اعلیٰ پائے کے سیاستدان تھے اور آپ کی اکثر و بیشتر تقاریر بھی اردو زبان میں ہی تھیں لیکن آج کل اگر ہم سیاسی میدان سے تعلق رکھنے والے وزیرجو کہ حال ہی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں انگریزی زبان میں بتاتے ہوئے خود الجھن کا شکار ہو گئے جب لہسن کو انگریزی میں ادرک اور ادرک کو انگریزی میں لہسن بتا گئے۔
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اب جو نگاہیں اپنے معاشرے میں،گلی کوچوں اور چوک چوراہوں پر پڑتی ہیں تو ایسے اشتہارات کی بھرمار نظر آتی ہے جو انگریزی سیکنے اور سیکھانے کے متعلق ہوتے ہیں۔
اب وہ دور تو تیزی سے گزر رہا کے جب اردو زبان کے فروغ کے لیے اردو خطاطی کے مقابلے ہوتے تھے سکولوں کالجوں میں اردو تقاریر ہوتی تھیں ،اب تو اردو زبان میں تقریر کرنے کا نوٹس بھی انگریزی زبان میں جاری ہوتا ہے۔
اِس تیز دور میں سڑکوں پر اور گلی کوچوں میں بڑے بڑے بینروں پر جو اشتہار ہوتے ہیں وہ بھی انگریزی زبان میں ہی ہوتے ہیں۔
"افسوس صد افسوس کہ ہمارے ملک میں اعلٰی تعلیم کا نام محض اور محض انگریزی ہے۔”
اور والدین اپنے بچوں کے منہ میں زبردستی انگریزی زبان ٹھونسنے کےلیے انہیں انگریزی میڈیم مدرسوں میں بھیجتے ہیں.
کالجوں اور یونیورسٹیوں کے حال پر نظر دوڑائی جائے تو بمشکل ایک چھوٹے سے کمرے ہر مشتمل اردوکا شعبہ (ڈیپارٹمنٹ) نظر آتا ہے.ایسے میں اگر قائد کے پاکستان ہر دھیان نا دیا گیا تواللہ نا کرے یہ تباہ ہو جائے گا اب بھی وقت ہے کہ اِس پر خاص توجہ دی جائے ،نوجوانوں کو قومی زبان سے آگاہ کیا جائے۔

زردار ہی ہیں کونپلیں کوئی سحاب سوچ
آئندہ نسل کے لیے تازہ نصاب سوچ

اردو ٹائپ کاروں کی تعداد بھی دن بدن کم ہو رہی ہے۔سرکاری محکموں میں کلرکوں کی بھرتی ،انگریزی میں ٹائپ کرنے کی رفتار کو دیکھ کر کی جاتی ہے۔اور اب تو اردو سمجھنے والے اکثر لوگ بھی وہی رومن جوکہ انگریزی کا ہی دوسرا نام ہے اس میں اردو لکھ بیٹھتے ہیں۔
ایسے دور میں دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اگر اردو زبان سے کہ دیا جائے کہ اپنی آپ بیتی لکھو تو وہ خود اپنی اس تیزی سے زوال پزیر ہوتی زندگی پر غمِ ماتم منا بیٹھے۔

اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ اردو کو قومی زبان کی حیثیت سے ملکی سطح پر لاگو کروانے کے لیے کوشاں ہیں تو ان کے برعکس ایسے لوگوں کی بھی وسیع تعداد موجود ہے جو کہ انگریزی زبان کے تسلط سے باہر نہیں نکل پا رہے اور اِسے بین الاقوامی زبان گردانتے نہیں تھکتے،لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر ہم نے اپنی قومی زبان اردو کو پس پشت ڈال دیا تو ترکی کی طرح برصغیر کے مسلمان بھی اپنے تہذیبی ورثے سے تیزی سے محروم ہوتے چلے جائیں گے،جس میں ہمارے دینی تصورات،اقدار ،روایات کے ساتھ ساتھ اپنی قومی روایات و اقدار بھی شامل ہیں۔سب سے بڑا سرمایہ اردو میں موجود اسلامی لٹریچر کا ہے۔تفسیر اور حدیث پر جتنا کام اردو زبان میں ہوا ہے ،وہ کسی دوسری زبان میں میسر نہیں۔

اس دور میں جہاں اردو زبان تیزی سے زوال پذیر ہو رہی ہیں ہمیں قائداعظم کے نظریے کو دوبارہ تازہ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ ملک اور یہ قوم اپنی روایات،اقدار ،تہذیب و تمدن سب سے یک لخت ہاتھ دھو بیٹھے گی.
اب ایک طالب علم سےلےکر کسان تک اور مزدور سے وائس چانسلر تک سب کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ قومی زبان کو نافذ کروائے تاکہ انگریزی لازمی مضمون، ذریعہ تعلیم اور دفتری و عدالتی زبان کے طور حائل رکاوٹ ختم کرکے قوم کو اعلیٰ تعلیم کا حصول آسان بنایا جائے تا کہ وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار کرکے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرسکیں۔
قائد نے پاکستان بنا کر جو خواب شرمندہ تعبیر کیا ، اب اس ملک کی آبیاری اِس قوم نے کرنی ہے جو محض پچیس دسمبر پر اکیس توپوں کی سلامی دینے اور گارڈز کی تبدیلی سے پوری نہیں ہوتی۔۔ایسے میں اب یہ اس قوم کا فرض ہے کہ ایک عظیم خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے جو ادھورا رہ گیا تھا۔۔قائد اعظم کے فرمان کے مطابق اور آئین و دستور کے مطابق اردو زبان کو ہی قومی اور سرکاری زبان کے طور پر لاگو کیا جائے اور ترقی کے سفر پر گامزن ہوا جائے۔
5/10

https://youtu.be/USLWUZ2PCCQ

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »