سید عتیق


کابل ایئرپورٹ پر خود کش حملوں میں ہونے والی اموات کی تعداد اب دو سو کے قریب پہنچ چکی ہے ۔ اتنی ہی تعداد زخمیوں کی ہے ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ نے کابل میں موجود ہسپتال ذرائع سے جو خبر دی گئی ہے اس کے مطابق ہسپتال لائے جانیوالے زخمیوں کے جسموں پر گولیاں لگی ہوئی ہیں ۔ کابل ایئرپورٹ پر دھماکہ امریکی فوج کے زیرانتظام مقام پر ہوا تھا اس لیئے یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ امریکی فوجیوں کی فائرنگ سے اموات کی تعداد بڑھی ۔

شدت پسند گروہ کی مبینہ ویب سائیٹ پر جاری کردہ بیان جس میں اس نے کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی۔یہ گروپ ماضی میں طالبان پر حملوں میں ملوث بتایا جاتا ہے

مغربی ذرائع ابلاغ نے دھماکے میں صرف تیرہ امریکی فوجیوں کے مرنے کو نمایاں کیا گیا اگرچہ طالبان ترجمان کی طرف سے اٹھائیس طالبان کے بھی مارے جانے کی تصدیق کی گئی ۔ جب کہ دیگر ڈیڑھ سو سے زائد افغانیوں کا ذکر تو صرف دولت اسلامیہ خراساں کی پریس ریلیز میں ہی تھا ۔

دھماکے کے بعد داعش نے اعماق نیوز پر پریس ریلیز جاری کر کے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ داعش خراساں کے حملہ آور نے ایئرپورٹ پر فرار ہونے والے امریکیوں ، ان کے آلہ کاروں ، کانٹریکٹروں اور طالبان کو نشانہ بنایا ہے ۔ ساتھ حملہ اور کی تصویر بھی جاری کی گئی

داعش خراساں کا نام نیا نہیں ہے اگرچہ بہت سے لوگوں کے لیئے یہ ابھی نیا ہے ۔ عراق اور شام میں سرگرم دولت اسلامیہ العراق و الشام کا نام عراق پر امریکی قبضے کے بعد سامنے آیا تھا ۔ اور ایسے شواہد موجود ہیں جو یہ ثابت کرنے کے لیئے کافی ہیں کہ داعش امریکہ کی تخلیق ہے ۔


یہ بھی پڑھیں


جسے امریکہ نے شام اور عراق کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیئے بنایا تھا ۔ اس وقت داعش کے قیام کو القاعدہ کی شکست و ریخت سے تعبیر کیا جاتا رہا ۔ اس کے بعد وہاں داعش نے ایسے ایسے مظالم ڈھائے کہ انسان کہ روح کانپ جاتی ہے ۔

داعش خراساں کی بنیاد 2014 میں رکھی گئی

اسی گروہ نے 2014ء میں افغانستان میں اپنا نیٹ ورک قائم کر لیا ۔ یہاں اس تنظیم نے اپنا نام دولت اسلامیہ خراساں رکھا ۔ طورخم سے متصل افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی یہ گروہ موجود ہے ۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کو حملے کا جواب دینے کا اعلان کیا اور ہفتے کی صبح ننگر ہار میں جلال آباد کے قریب پاکستان کے سرحدی علاقے میں ڈرون حملہ ہوا ۔

امریکہ کی طرف سے بتایا گیا کہ کابل ایئرپورٹ پر حملے کے دو منصوبہ سازوں کو ڈرون حملے میں اس وقت مار دیا جس وقت وہ ایک اور حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تا ہم آزادانہ ذرائع سے تاحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔ نہ یہ معلوم ہوا کہ مرنے والے کون اور کیا تھے؟

مبصرین کے نزدیک آنے والے دنوں میں طالبان کو ملک کی مخدوش صورتحال کے ساتھ ساتھ داعش کے خطرے جیسے امتحانات کا سامنا ہوسکتا ہے

ایک برطانوی نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ داعش خراساں ان لوگوں نے بنائی جن کے خلاف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آپریشن ہوا اور وہ پاکستان سے بھاگ کر افغانستان چلے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق داعش خراساں نے گزشتہ چھ سالوں کے دوران متعدد خود کش حملے کییے

ریڈ کراس کے دو ورکرز قتل کرنے سمیت ہجوم میں دھماکے کرنے کی بھی ذمہ داری قبول کی ۔

اپریل 2017 میں داعش خراساں کے خلاف ہی امریکہ نے بیس ہزار پونڈ وزنی وہ بم بھی استعمال کیا جسے مدر آف آل بمز کہا جاتا ہے یہ بم طورخم کے قریب افغان صوبے ننگر ہار کے علاقے اچین میں ہوا تھا جہاں اس تنظیم کے ممبران نے پہاڑوں میں بنائے گئے زیر زمین غاروں میں پناہ لے رکھی تھی ۔

داعش خراساں نے امریکہ اور افغان حکومت سمیت طالبان کے خلاف بھی پرتشدد حملے کئیے ۔ اس گروہ کی جانب سے اب تک کیئے جانیوالے حملوں کا ہدف صوفیاء کے مزار ، مساجد ، امام بارگاہیں ، اہل تشیع ، اور بطور خاص ہزارہ کمیونٹی بھی بنتی رہی ہے ۔

یہ سخت گیر گروہ اس وقت جن علاقوں میں سرگرم ہے وہاں عام طور پر حقانی نیٹ ورک بہت مضبوط سمجھا جاتا ہے مگر طالبان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ معاہدے اور دوحہ مذاکرات پر حقانی گروپ طالبان کے ساتھ تھا ۔

البتہ دوحہ مذاکرات کے بعد داعش نے طالبان کو بھی امریکہ کی صف میں شمار کر رکھا ہے اور یوں اب اس گروہ نے انخلاء کے آخری ایام میں خونی دھماکے کر کے اپنی موجودگی کا ثبوت دیا ہے ۔

امریکہ کیساتھ معاہدہ اور طالبان کی مخالفت

ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر طالبان نے اعلان کیا کہ ایک آپریشن کے دوران طالبان کی بدری یونٹ نے داعش خراساں کے تین جنگجوئوں کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ کابل میں مذید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ امارت اسلامی افغانستان نامی ٹوئیٹر ہینڈلر نے ان تین مبینہ دہشتگردوں کی تصاویر بھی جاری کیں ۔

کابل ایئرپورٹ دھماکے کی رپورٹنگ کے حوالے سے مغربی میڈیا کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ،جہاں دھماکوں میں مارے جانے والے افغان شہریوں کا تذکرہ ثانوی سطروں میں ہوا

ایسے میں جب کہ برطانیہ سمیت بہت سے ممالک اپنا انخلاء آپریشن ختم کر چکے ہیں اور 31 اگست تک امریکہ بھی نکل جائے گا اب مستقبل میں طالبان کے سامنے افغانستان کی ترقی اور تعمیر نو کے ساتھ ساتھ افغان سرزمین پر کام کرنے والی وہ دہشت گرد تنظیمیں بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہوں گی جن سے طالبان سمیت دیگر ممالک کو بھی خطرہ ہے ۔

اگرچہ طالبان کی طرف سے ان تنظیموں کو سختی سے وارننگ جاری ہو چکی ہے کہ وہ دہشت گردی چھوڑ دیں لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ داعش یا ٹی ٹی پی وغیرہ کیا طرز عمل اختیار کرتی ہیں

Translate »