داسو ڈیم پر کام کرنیوالی چینی کمپنی کی گاڑی پر حملے کے بعد سیکیورٹی انتظامات پاک فوج کے حوالے کردئیے گئے ہیں

14 جولائی کو ہونے والے خودکش دھماکہ میں ملوث ملزمان کی نشاندہی ،اگرچہ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے

داسو بم دھماکے میں نو چینی شہریوں سمیت 12 افراد مارے گئے تھے ،حملے میں استعمال ہونے والی سلور رنگ کی ٹویوٹا کرولا گاڑی اور اس میں سوار دو افراد کی تلاش جاری ہے

جن کے بارے میں گمان کیا جارہا ہے کہ مذکورہ گاڑی میں سوار دونوں افراد 14 جولائی کو ہونے والے حملے میں ملوث شخص کے ساتھ رابطے میں تھے جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری کار کو بس سے اس وقت ٹکرا دیا تھا جب یہ گاڑیاں کیمپ سے مزدوروں اور انجنیئروں کو لیکر ڈیم کی سائیٹ پر جارہی تھیں

چینی اخبار سائوتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز لاہور میں کائونٹر ٹیررازم پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے داسوحملے میں ملوث ہونے پر بلوچستان سے دو بھائیوں کو گرفتار کیا ہے ،جبکہ آئی ایس آئی اور کائونٹرٹیررازم محکمہ کے اہلکار داسو سے گرفتار ہونے والے افراد سے بھی تفتیش کررہے ہیں ،داسو سے گرفتار ہونے والے دو افراد میں ایک شخص چینی کمپنی کا ملازم ہے جسے تفتیش کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے ،جبکہ دوسرا شخص ایک افغان شہری ہے جسے حملے سے چند روز قبل داسو میں بھیک مانگتے ہوئے دیکھا گیا اور یہ شخص ابھی بھی حراست میں ہے

سیکورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ تصویروں اور تفصیلات کے مطابق دونوں مشکوک گاڑیوں کو حملے سے تین روزقبل داسو کے علاقے میں دیکھا گیا تھا

تفتیش کاروں کی جانب سے علاقے میں ہوٹلوں ،بینکوں اور عوام کیلئے جاری کردہ دونوں گاڑیوں کی تصاویر میں سفید لباس پہنے ایک شخص گاڑی چلاتا نظر آرہا ہے


یہ بھی پڑھیں:


اخبار نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی ہنڈا سٹی کار14 جولائی کو برسین کیمپ کے گیٹ کے باہر کھڑی کئے جانے سے پہلے داسو ہائیڈروپاور پروجیکٹ کے مختلف حصوں کے قریب بھی دیکھی گئی

تاہم جہاں مذکورہ گاڑی کھڑی کی گئی اس جگہ پر 100 سے دو سو کے درمیان کارکنان اور انجنیئر جمع تھے جو کام پر جانے کیلئے اپنی بس کی بارے کے منتظر تھے

دھماکے کے بعد پولیس کو ہنڈا گاڑی کے انجن کا بڑا حصہ سلامت حالت میں ملا تھا ،لیکن اس کا اصل نمبر مٹا کر اس کی جگہ جعلی نمبر لگایا گیا جس کی وجہ سے سیکورٹی حکام کو اصل مالک تک پہنچنے میں دشواری پیش آئی

سخت سیکورٹی انتظامات

گذشتہ اتوار کو پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں چینی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کیلئے انتظامات کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق ہوا تھا ،کیوں کہ بیجنگ کے نزدیک یہ اس کے شہریوں پر بدترین حملہ تھا

اخبار کے مطابق 26 جولائی کو اس کے نمائندوں نے علاقے کا دورہ کیا تو وہاں حالات معمول کے مطابق تھے اور اجنبی لوگوں سے بھی کوئی خاص پوچھ تاچھ نہیں ہورہی تھی ۔لیکن اگلے ہی روز حالات یکسر بدل گئی اور پاک فوج کے دستوں کی علاقے میں آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا جنہوں اہم مقامات کا انتظام سنبھال لیا

جبکہ بدھ کے روز داسو کے کمیلہ بازار میں فوجی جوانوں کو دیکھا گیا ۔یہ وہ جوان تھے جنہوں نے تحریک طالبان کے خلاف 2007 سے 2015 کے درمیان ان علاقوں میں جنگ لڑی جن کے جغرافیائی خدوخال بڑی حد تک کوہستان سے مماثلت رکھتے ہیں

پاک فوج کی ایک پلاٹون کو پہاڑی چوٹیوں پر تعینات کیا گیا ہے جہاں سے وہ داسو ڈیم کی جگہ پر بھرپور اور مکمل نظر رکھ سکتے ہیں


یہ بھی پڑھیں:

جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کی جانب سے کوہستان اور گلگت بلتستان سے چینی سرحد تک شاہراہ قراقرم پر خصوصی سیکورٹی اقدامات کا بھی تذکرہ کیا گیا

دوسری جانب اخبار کی رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو علاقے میں تمام مدارس اور بالخصوص افغانستان سے سمگل ہو کر آنے والی گاڑیوں کی چیکنگ و رجسٹریشن کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں اس کے ساتھ داسو سے 70 کلومیٹر دوری پر واقع دیامیر بھاشا ڈیم پر بھی سیکورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں ۔کیوں کہ یہ منصوبہ بھی چین کے مالی و تکنیکی تعاون سے تعمیر ہورہا ہے ۔

مقامی ضلعی حکام کے مطابق حکومت ہائیڈروپروجیکٹس کی حفاظت فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے اور اس مقصد کیلئے 18 سو سے 27 سو فوجی اہلکارتعینات کئے جاسکتے ہیں

اس کے علاوہ حکومت نے حکومت نے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو بھی سہولتیں بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے ،کیوں کہ مواصلات کا ناقص نظام ضلعی انتظامیہ ،پولیس اور فوج کے مابین رابطہ کاری اور ہم آہنگی میں بڑی رکاوٹ ہے

البتہ مقامی حکام کے مطابق فوج کو مکمل طور پر انتظام سنبھالنے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں ،کیوں کہ پہلے مرحلے میں چھائونی کا قیام ہوگا جس کے بعد پہاڑی علاقوں میں چوکیاں قائم ہوں گی اس کیساتھ ساتھ شاہراہ قراقرم پر پرانی چیک پوسٹوں کیساتھ نئی چوکیاں بنائی جائیں گی

حکام کے مطابق گذشتہ دنوں کے دوران ہونے والی نقل حرکت پہلا قدم ہے جس کا مقصد چینی کمپنیوں اور ان کے ملازمین کی چارتہی سیکورٹی حصار کو یقینی بنانا تھا

کوہستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ

اگرچہ پاکستان میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں اور ان کے اہلکاروں پر طالبان اور دیگر علیحدگی پسند گروپوں کی جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں لیکن کوہستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا

اخبار کے ساتھ بات چیت کرنے والے حکام کے خیال میں اس کی بڑی وجہ کوہستان کی مقامی ثقافت اور ماحول ہے ،یہاں کے لوگ انتہائی قدامت پسند ،مسلح اور خونی دشمنیاں پالتے ہیں ،لیکن جب ان کا معاملہ باہر کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ یکجان ہوجاتے ہیں ۔چاہے وہ پاکستانی ہوں یا غیرملکی ہوں

ان کے نمائندوں کا داسو ڈیم کیلئے زمینوں کی قیمتوں اور ملازمتوں کے حوالے سخت موقف رہا ان کے ساتھ مذاکرات کا عمل طویل اور مشکل رہا ،انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں شاہراہ قراقرم پر دھرنے دیئے ۔کئی مواقع پر چینی حکام کے ساتھ بھی سختی سے پیش آئے لیکن بات کبھی بھی ایک حد سے آگے نہیں بڑھی

حکام کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی ان لوگوں کا معاملہ مالی مفادات تک تھا ،انہوں نے کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے حکومت سختی پر مجبور ہو اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی انتظامات کرنے پڑے ہوں

اس کے علاوہ تحریک طالبان یا دیگر کوئی بھی شدت پسند گروہ اس علاقے میں کبھی اپنے قدم نہیں جماسکا ۔2007-8 کے دوران سوات سے ٹی ٹی پی کی کوہستان میں داخلے کی کوشش کو مقامی قبائل نے ناکام بنا دیا اور انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی

اعلیٰ ضلعی اہلکار کے مطابق داسو حملے کی کئی پہلوئوں سے تحقیقات ہوں گی ،جن میں کوہستان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدت پسند گروہوں کا ڈھانچہ ختم کرنا اور مشرقی افغانستان میں ان کی قیادت کا سراغ لگانا ہے جہاں ٹی ٹی پی اور داعش کی قیادت موجود ہے

اگرچہ حال ہی میں ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی نے داسو حملہ میں کسی کردار کی تردید کی تھی ۔تاہم پاکستانی انتظامیہ کے ایک ذمہ دار کے مطابق حملے کے طریقہ کار اور داعش و ٹی ٹی پی کے طریقہ واردات میں بڑی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے

Translate »