آزادی نیوز
سینیٹ انتخابات میں‌حکومتی امیدوار کی شکست کے بعد دارلحکومت اسلام آباد کے ایوانوں‌میں‌ہلچل دکھائی دے رہی ہے ،وزیر اعظم عمران خان آج شام قوم سے خطاب کرینگے ،جبکہ اس سے قبل انہوں‌نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے بھی اہم ملاقاتیں‌کی ہیں‌. صدر مملکت ڈاکٹر علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے جس سے وزیر اعظم عمران خان اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے اپنے ایک ٹویئٹ میں‌بتایا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو دن سوا 12 بارہ منعقد ہوگا .جبکہ چیئرمین سینیٹ کے لئے پاکستان تحریک انصاف نے صادق سنجرانی کے نام کا اعلان کردیا ہے


حکومت کو پہلا بڑا دھچکا ،سینیٹ انتخابات میں‌یوسف رضاگیلانی فاتح

سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کے تحت ہونگے ،عدالت عظمیٰ

مزاحمت یا سیاسی مزاحمت؟


ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان آج شام اپنے خطاب میں‌ قوم کو موجودہ سیاسی صورتحال سے آگاہ کرینگے .سینیٹ انتخابات میں‌ناکامی کے بعد گذشتہ شام میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھاکہ سینیٹ انتخابات میں‌شکست کے بعد وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ دوبارہ حاصل کرینگے ،کیونکہ ایوان بالا کے انتخاب میں‌حکومتی امیدوار کو اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کے ہاتھوں‌شکست کے بعد اپنی اخلاقی برتری کو ثابت کرنے کے حوالے سے ماہرین کی جانب سے سوالات اٹھائے جارہے تھے .انہوں نے اپنے کارکنوں‌پر زور دیا کہ وہ اپنی جماعت اور قائد کے نظریہ پر اعتماد رکھیں اور ہم حزب اختلاف کے اتحاد کا ہر حال میں‌ڈٹ کر مقابلہ کرینگے .

اپوزیشن تحریک اعتماد نہیں‌لائے گی
اپوزیشن جماعتوں‌کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات میں‌پی ڈی ایم قائد نے سابق وزیر اعظم میاں‌نواز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ،جس میں‌اتفاق رائے سے طے پایا کہ پی ڈی ایم وزیر اعظم کے اعتماد کے ووٹ لینے کے عمل کا حصہ نہیں‌بنے گی اور آئندہ ہفتے ہونے والے سربراہی اجلاس میں‌حتمی فیصلے کئے جائیں‌گے

وزیر اعظم کا اعلان اور ماہرین کی آراء
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں‌شکست کے بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے اعلان کے حوالے سے مختلف آراء‌پائی جاتی ہیں‌
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ یہ بات تو واضح ہوچکی ہے کہ وزیر اعظم ہار گئے ہیں‌کیوں‌کہ اپنے امیدوار کی مہم انہوں نے خود چلائی تھی لیکن ان کی جماعت کے اراکین نے ہی ان پر عدم اعتماد کردیا ہے .تاہم ان کا موقف تھا کہ وزیر اعظم خود اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان نہیں‌کرسکتے بلکہ آئین و قانون کے مطابق صرف صدر ہی انہیں‌اعتماد کا ووٹ‌حاصل کرنے کا کہہ سکتے ہیں‌

تاہم وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری پرامید ہیں‌کہ وزیر اعظم کو اس فیصلے سے کوئی ڈر نہیں‌بلکہ اس سے سینیٹ میں‌ہونے والی شکست کے اثرات کو کم کرنے میں‌مدد ملے گی
تاہم سینئر صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق قومی اسمبلی میں‌سینیٹ کے برعکس شو آف ہینڈ کے زریعے ووٹ کا فیصلہ ہونا ہے تواس میں‌کسی کے لئے شاید ممکن نہ ہو کہ ان کے اپنے اراکین کھل کر مخالفت نہ کرسکیں‌،یہ وزیر اعظم کو اپنی اخلاقی پوزیشن بہتر بنانے میں‌مدد دے گا ،کیوں‌کہ وزیر اعظم اگر خود ووٹ نہ لیتے تو اس صورت میں‌اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کردینی تھی جس سے حکومت اور ملک کےلئے مزید مشکلات پید ا ہوسکتی تھیں‌
معروف صحافی سید طلعت حسین وزیر اعظم کے فیصلے کو سیاسی جوا قرار دیتے ہیں‌جو اگر ایک صورت میں‌سینیٹ شکست کے اثرات کو کم کرسکتا ہے تو دوسری صورت میں‌ان ہائوس تبدیلی کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے

Translate »