0 0
Read Time:5 Minute, 49 Second

مسرت اللہ جان،پشاور


پشاور سپورٹس کمپلیکس میں کے پی نیشنل ہاکی لیگ کی آٹھ ٹیموں کی نیلامی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے اہلکاروں سمیت کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی نے بھی شرکت کی .نیلامی کی اس تقریب کیلئے پرائیویٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے مر و و خاتون اینکر کو بلایا گیا تھا جنہوں نے اپنا کام کسی حد تک بہترین انجام دیا لیکن موسیقی کی بھر مار سے لگ رہا تھا کہ یہ پروگرام کسی ٹی وی شو کا حصہ ہے

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان کا پروگرام میں پہنچنے پر ڈائریکٹر سپورٹس و دیگر حکام استقبال کررہے ہیں

پشاور سپورٹس کمپلیکس کے کرکٹ اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کی بڑی تعداد بھی یہاں موجود تھی جو زیادہ تر سابق کرکٹر عمر گل کی وجہ سے آئے تھے.ورنہ انہیں بولی اور ہاکی کی ٹیموں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی البتہ میزبان نے ان بچوں سے پروگرام کے دوران خوب تالیاں بجوائیں البتہ یہ الگ بات کہ بعض بچوں نے تالیوں کے بجائے کرسیوں پر لاتیں مار مار کر اپنی بھڑاس نکال دی.

پانچ لاکھ روپے سے شروع ہونیوالی بولی میں آٹھ ٹیموں کی بولی کا عمل شروع ہوا بولی دہندگان نے پہلی ہی اپنی رجسٹریشن کروائی تھی اور کھیلوں سے وابستہ افراد نے ہی ہاکی کی ٹیموں کی نیلامی میں دلچسپی ظاہر کی پروگرام کے دوران بعض حساس اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے جوبڈنگ کے عمل میں حصہ لینے والے افراد کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ کون کون ٹیم کو لے رہا ہے ؟

کوہاٹ اور بنوں کی ٹیموں میں انہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بولی میں حصہ لیا اور کامیاب بودلی دہندگان قرار پائے.

خاتون اینکر کی بنوں کی مخصوص زبان میں بولی جانیوالی پشتو پر کرکٹ اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے والے کھلاڑیوں نے وہ شور مچایا کہ الامان الحفیظ ‘ پروگرام میں مرد اینکر کی باتوں پر اتنی تالیاں نہیں بجتی تھی جتنی اس خاتون اینکر کی باتوں پر کرکٹ اکیڈمی کے بڑے ہی معصوم بچے شور و غل مچاتے رہے.

پانچ لاکھ سے آغاز ،ساڑھے دس لاکھ سے بات آگے نہ بڑھ سکی

نیلامی کے عمل کے دوران پشاور سپورٹس کمپلیکس کے بعض اہلکاروں نے بھی بڈنگ میں حصہ لیا اور ٹیم کی نیلامی کیلئے رقم کا اعلان کیا ‘ جس پر بولی میں تیزی آئی جس کی دیکھا دیکھی کرکٹ اکیڈمی کے کھلاڑیوں نے بھی نیلامی کے دوران آوازیں نکالنی شروع کردی ‘ یہ تو شکر ہے کہ نیلامی کے دوران بیٹھے سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے ایک اہلکار نے اینکر کے کان میں کہہ دیا کہ صرف وہی لوگ بڈنگ میں حصہ لے سکتے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو رجسٹرڈ کیا ہو

اور پھر وہ ملازم بھی خاموش ہوگیا لیکن یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ایک ڈیلی ویج ملازم کے پاس پیسہ زیادہ تھایا پھر اسے سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے اہلکاروں نے بڈنگ کو آگے لے جانے کیلئے لاکھوں کی بولی میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی .


یہ بھی پڑھیں


پروگرام کے آغاز میں سیکرٹری سپورٹس ‘ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس سمیت سپورٹس ڈائریکٹریٹ اور خیبر پختونخواہ ہاکی ایسوسی ایشن کے تمام عہدیداروں کے نام لئے گئے اور ان کا شکریہ ادا کیا گیا کہ انہوں نے ہاکی لیگ کے پروگرام کا آغاز کیا البتہ اس پروگرام میں بھی ہاکی ایسوسی ایشن کا کوئی بھی عہدیدار شامل نہیں تھا شائد وزیراعلی ہاوس میں ہونے والی بدمزگی تھی یا پھر کوئی اور وجہ ‘ لیکن ہاکی ایسوسی ایشن کے ایک اہم عہدے پر تعینات شخص کے بقول انہیں پروگرام میں مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا.

بولی میں شریک بولی دہندگان ،ٹیموں کی قیمت 5 لاکھ سے شروع ہوئی جو ساڑھے دس لاکھ روپے سے آگے نہ بڑھ سکی

پانچ لاکھ سے شروع ہونیوالی نیلامی میں تیزی لانے کیلئے مرد اینکر نے بولی دہندگان کو بولی میں زیادہ رقم دینے کیلئے مختلف طریقے اپنائے اور کہا کہ دس لاکھ میں تو ایک الٹو آتی ہے اور اس حوالے سے سوالات بھی کئے بلکہ یہا ں تک کہہ دیا کہ آپ ہاکی کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں اور آپ اربوں روپے کے مالک ہیں

 یہاں تو لاکھوں روپے کی بولی ہورہی ہیں جس پر کوہاٹ کے ممبر صوبائی اسمبلی نے سائیڈ ٹیبل پر بیٹھے صحافیوں کو مخاطب کیا کہ یہ تو ہمارے پیچھے ہی پڑے ہیں انہیں اربوں روپے والے لوگ نظر نہیں آتے.مختلف ٹیموں کی بولی مختلف لگی لیکن پشاور کی ٹیم کی بولی دس لاکھ روپے سے شروع ہوئی اور امکان تھا کہ پشاور کی ٹیم کی ڈیمانڈ زیادہ ہوگی لیکن اس بولی کو اوپر لے جانے کیلئے اینکر کی بھرپور کوشش کے باوجود صرف پچاس ہزار ہی اوپر چڑھ گئی البتہ ٹیمیں لینے والے افراد نے ہال میں بیٹھے افراد پر طنز کے تیر بھی مارے کہ

پشاوریو .. پشاور کی ہاکی ٹیم کیلئے بولی تو لگائو

لیکن خاموشی ہی رہی.بعد ازاں ایک نوجوان نے ہی ساڑعے دس لاکھ میں پشاور کی ٹیم کی بولی دی.پروگرام کے دوران سابق کرکٹر عمر گل بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا اور اس کے بعد پروگرام سے اٹھ کر باہر نکل گئے اور کرکٹ اکیڈمی کے کھلاڑیوں کی بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ باہر نکل گئی اور پھر تالیاں بجوانے والوں کی کمی ہوگئی-

ایرینا ہال میں ہونے والی اس تقریب میں گرمی اور حبس سے برا حال تھا اوپر سے موسیقی ‘ چار بجے سے شروع ہونیوالی یہ تقریب تقریبا ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی پروگرام کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس نے اس پروگرام کو بہترین قرار دیا اور کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے پروگرام جاری رکھیں جائیں گے نیلامی میں حصہ لینے والی آٹھ ٹیموں کے مالکان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ کھیلوں کے فرو غ کیلئے کوشاں ہے اور قومی کھیل ہاکی کے فروغ کیلئے وہ اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے .

پروگرام کے اختتام پر ٹیموں کے مالکان کو ان کے ناموں کی شیلڈز بھی دی گئی ‘ جن میں بیشتر نے تو اپنی شیلڈز ڈائریکٹر جنرل سپورٹس سے وصول کی البتہ بنوں سے تعلق رکھنے والے کامیاب بولی دہندہ نے خاتون اینکر کوبلا لیااور ان کے ہاتھ سے شیلڈ وصول کی – شائد بولی دہندہ کو خاتو ن اینکر کی بنوں کی مخصوص لہجے کی پشتو نے انہیں زیادہ متاثر کیا تھا واللہ اعلم ..

اور یوں آٹھ ٹیموں کی نیلامی کی تقریب اختتام پذیر ہوئی . یہ ٹیمیں تیس ستمبرسے صوبے کے مختلف اضلاع میں کھیلے جانیوالے کے نیشنل ہاکی لیگ میں کھیلیں گی جس کیلئے بڑا انعام دس لاکھ ‘ دوسرا انعام پانچ لاکھ اور تیسرا انعام تین لاکھ روپے رکھا گیا ہے ‘ جبکہ ہر کھلاڑی کو پندرہ ہزار رروپے ملیں گے-

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »