Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:5 Minute, 51 Second

  مسرت اللہ جان


سرکاری خزانے سے نکلنے والے فنڈز پر کسی کا دل نہیں دکھتا ‘ خصوصا اس صورت میں جب سرکاری خزانے سے فیض یاب ہونیوالا کنٹریکٹر یا ٹھیکیدار ہو.لیکن ٹھیکیدار یا کنٹریکٹر یہ بھی نہیں سمجھتا کہ یہ مال سرکار کا نہیں بلکہ اس کا اور اس کے ساتھ کام کرنے والے غریب عوام کے جیبوں سے نکلنے والے ٹیکس کا پیسہ ہے جس سے سرکاری دفاتر بنائے جاتے ہیں

لیکن انہیں سمجھائے کون!ہمارے ہاں پشتو زبان کی ایک مثل مشہور ہے کہ جن کی آنکھیں بھوکی ہوں دنیا کی کوئی طاقت سیر نہیں کرسکتی ‘ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ کھیلوں کی وزارت کے انچارج بھی وزیراعلی خیبر پختونخواہ ہوں ‘ وہ بھی کھیلوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہوں

اور پھر ان کی وزارت میں ایسا ناقص کام ہو جس سے سب پر سوال اٹھتا ہو ایسے معاملات میں سستی ابھی تک برداشت ہو جاتی ہے لیکن کرسی سے اترنے کے بعد "غیر معیاری ” تعمیر پر فائلیں کھل جاتی ہیں اور پھر وزیر اور سرکاری افسران تو خوار ہوتے ہیں لیکن کنٹریکٹر اور ٹھیکیدار آرام سے نکل جاتے ہیں.

اتنی لمبی تمہید پشاور سپورٹس کمپلیکس میں کم و بیش ایک ماہ قبل چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ ڈاکٹر کاظم نیاز کے ہاتھوں افتتاح ہونیوالے بیڈمنٹن کورٹ کی طرف توجہ دلانا ہے ‘ خیبر پختونخواہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے زیر انتظام اس بیڈمنٹن ہال کا نام سابق کھلاڑی ودود بیڈمنٹن ہال ہے اور یہاں پر ووڈ کا بہترین بیڈمنٹن کورٹ تھا ‘

سپورٹس ڈائریکٹوریٹ نے اس بیڈمنٹن کورٹ کو نئے طرز پر بنانے کیلئے اس کی اپ گریڈیشن کی منظوری دی اور یوں پشاور سپورٹس کمپلیکس میں واقع ودود بیڈمنٹن ہال اور قمر زمان سکواش کمپیکس پر کم و بیش نوے لاکھ روپے کی لاگت سے نیا سٹرکچر بنایا گیا .

مارچ 2021 میں کام شروع کیا گیا اور سنتیٹھک کورٹ کے نام سے بننے والے اس بیڈمنٹن ہال کا افتتاح کم و بیش ایک ماہ پہلے چیف سیکرٹری نے کردیا تھا .


یہ بھی پڑھیں 


افتتاح کے بعد ودود ہال میں کھلاڑیوں کی ٹریننگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور تقریبا بیس دن بعد ہی اس کورٹ کے مختلف جگہیں ہوا آنے کے بعد ابھرنا شروع ہوگئی جنہیں ابتدائی طور پر کوچز اور کھلاڑیوں نے بلیڈ سے کاٹ کر اس میں ٹیپ لگا دی

تاہم پھر بھی خرابی کاعمل جاری رہا ‘ راقم نے اس کی نشاندہی کردی تو کھیلوں کے ایک ہزار سہولیات پراجیکٹ ڈائریکٹر مراد علی مہمند نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ کنٹریکٹرز کو اسے ٹھیک کرنے کیلئے کہہ دیا اور کنٹریکٹر نے رنگ و روغن لگا کر اسے دوبارہ ٹھیک کردیا اور یوں ڈیپارٹمنٹ کے آنکھوں میں دھول جھونک دی گئی

تاہم ایک ہفتے بعد دوبارہ بیڈمنٹن کورٹ میں ہوا کے باعث مختلف جگہیں ابھرنا شروع ہوگئی ہیں اس دفعہ اطلاع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر نے انجنیئرنگ ونگ خیبر پختونخواہ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کو کال ڈیپازٹ سمیت دیگر ادائیگیاں روکنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور کہاہے کہ جب تک ودود بیڈمنٹن ہال کو ٹھیک نہیں کیا جائے اس وقت تک ادائیگی کنٹریکٹر کو نہیں کی جائیگی.

اس بارے میں مراسلہ متعلقہ انجئینئرز کو بھی بھیج دیا گیا ہے . پراجیکٹ ڈائریکٹر کی کاوشیں اپنی جگہ ‘ لیکن کیا سپورٹس ڈائریکٹریٹ میں نیا بننے والا سنتٹھیک کورٹ صرف سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی ذمہ داری ہے کیا کنٹریکٹر کو علم نہیں کہ اسے جو پیسہ مل رہا ہے وہ قوم کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے.

اوریہاں پر کھیلنے اور پریکٹس کیلئے آنیوالے اس قوم کے بچے ہیں اور ان کے اپنے ہی بچے ہیں جنہوں نے کل کلاں پاکستان کا نام روشن کرناہے. اور کیا بیڈمنٹن ایسوسی ایشن اس معاملے میں لاعلم ہے ؟

دنیا بھر میں بیڈمنٹن کورٹ کیلئے جو طریقہ رائج ہے اور پروفیشنل کھلاڑی جس کورٹ میں کھیلتے ہیں اس میں کورٹ میں مخصوص لکڑی لگائی جاتی ہے اور پھر اسی لکڑی کے اوپر میٹ لگا کر کھلاڑیوں کو کھیلنے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں

چین سے لیکر یورپ کے تمام کورٹ میں یہی طریقہ رائج ہے تاہم پتہ نہیں کیوں خیبر پختونخواہ میں ہر چیز پر تجربے کرنے کی عادت ہے اس تجربوں کی عادت نے اس صوبے کو تجربہ گاہ بنا دیا ہے ‘

صحت کے شعبے سے لیکر محکمہ تعلیم اور کھیل سمیت سیاست کے میدان میں سب سے پہلے اور انوکھے تجربے اسی صوبے میں کئے گئے ‘ خیر آتے ہیں سنتیھٹک کورٹ کی طرف ‘ سنتیٹھک کورٹ مخصوص کلر یعنی پینٹ لگا کر فرش پر کھلاڑیوں کو کھیلنے کیلئے جگہ فراہم کی جاتی ہیں.اور اس میں میٹ کا استعمال نہیں ہوتا .

بیڈمنٹن کے ماہر کوچز کے مطابق سنتٹھیک کورٹ اس صورت میں ٹھیک ہے جب کھیلنے کیلئے آنیوالے افراد صرف شوق کی خاطر آتے ہوں اور ایک گھنٹہ آدھ گھنٹے کی پریکٹس کرکے جانے والے افراد ہوں

بیڈمنٹن میں پروفیشنل افراد کیلئے سنتھیٹک کورٹ کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ مسلسل چار سے چھ گھنٹے کی پریکٹس ہر کوئی کرتا ہے اور وہ یہ پریکٹس سنتھیٹک کورٹ برداشت نہیں کرسکتی اور یوں مختلف جگہوں سے اکھڑ جاتی ہیں

جیسا کہ پشاور سپورٹس کمپلیکس کے ودود ہال میں ہوا ہے اسی طرح کا کورٹ سول آفیسرز میس میں بھی بنایا گیا ہے جہاں پر کام معیاری بتایا جارہا ہے اور ابھی تک اس کی کوئی شکایت نہیں آئی ‘

شائد اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ سول آفیسرز میس میں افسران کے پاس پریکٹس کیلئے اتنا وقت بھی نہیں ہوتا جتنا پروفیشنل کھلاڑی لیتے ہیں او ردوسری شائد اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سول آفیسرز میس میں ” ایلیٹ کلاس ” والے افسران آتے ہیں جنکی طبعیت پر بہت ساری چیزیں ناگوار گزرتی ہیں

کھیل کی سہولتیں اور ڈانگ ٹپائو پالیسیاں

جبکہ پشاور سپورٹس کمپلیکس آنیوالے ” ٹٹ پونجیوں” کی کوئی اوقات تو نہیں ہوتی اس لئے کنٹریکٹر نے جان چھڑانے والا عمل دو سری مرتبہ بھی کردیا ہے .

ڈنگ ٹپائو پالیسی کے تحت بننے اس کورٹ سے کیسے کھلاڑی پیدا ہونگے اس کا اندازہ حال ہی میں اولمپک میں ہونیوالے بیڈمنٹن کے کھلاڑی کی پرفارمنس ہے ‘ جس کی خاطر بیڈمنٹن فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری کوچ بن کر ٹوکیو گئے ‘

ٹھیک ہے واجد بین الاقوامی کھلاڑی رہے ہیں لیکن ان کی موجودگی میں اگر اولمپکس میں یہ حال ہوتا ہے تو پھر سنتیٹھک کورٹ پر کھیل کر سیکھنے والے پختونخواہ کے کھلاڑیوں کی پرفارمنس کیسے ہوگی یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں.

وزیراعلی خیبر پختونخواہ جو کھیلوں کے نگران وزیر بھی ہیں کی وزارت میں ہونیوالی اس غیر معیاری کام پر نوٹس تو سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے نشاندہی ہونے پر لے لیا ہے اور اس بارے میں کال ڈیپازٹ سمیت ادائیگی روکنے کیلئے احکامات تو جاری ہوگئے ہیں

اور ابھی امکان ہے کہ کنٹریکٹر اپنی ادئیگی کی وجہ سے اسے دوبارہ ٹھیک بھی کردے گا مگر کیا وزیراعلی ایسے نااہل کنٹریکٹر کو مستقل طور پر بین نہیں کرسکتے جو کھیلوں کے میدان میں کھلاڑیوں کی زندگی سے کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں.

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post پشاوربم حملے میں‌ شہید پولیس اہلکارکی مانسہرہ میں‌ سرکاری اعزاز کیساتھ تدفین
Next post نور مقدم کیس کی تفتیش میں‌ کن پہلوئوں‌ کو نظر انداز کیا جارہا ہے ؟
Translate »