Spread the love

آزادی نیوز


بھارتی وزیر اعظم نریندرامودی آج مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی سیاسی قیادت کے ساتھ ملاقات کرنے جار ہے ،تاہم اس ملاقات کے حوالے سے علیحدگی پسند قیادت کے ساتھ نہ تو کوئی رابطہ کیا گیا ہے اور نہ انہیں اعتماد میں لیا گیا ۔اگرچہ دو روز قبل بھارت نواز سیاسی قیادت کی جانب سے واضح طور پر یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ان کی مودی سے ملاقات کا مقصد صرف اور صرف ریاست کی پرانی آئینی حیثیت کو بحال کروانا ہے

گپکار کا امتحان ،یا پرانی تنخواہ پر کام کرنا ہوگا

تاہم عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق نریندرا مودی اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کی اس ملاقات کا مقصد وادی اور لداخ کے علاقوں میں سیاسی عمل کو دوبارہ بحال کرنا ہوسکتا ہے
اس حوالے سےسب سے اہم سوال پاکستان کیلئے ہے جو کشمیر کی سابقہ حیثیت کو بحال کرنے کا مطالبہ رکھتا ہے اور کشمیر میں استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کے مستقبل کے فیصلے کے حوالے سے اہم فریق ہے

اور اسی کشمیر کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اب تک تین بڑی جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔بھارتی وزیر اعظم سے مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کے ساتھ خطے کی آئینی حیثیت میں ردوبدل کے بعد پہلی ملاقات ہورہی ہے

اگرچہ اس ملاقات کے بار ے میں یہ قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سیاسی عمل کو دوبارہ فعال کرکے اپنے یکطرفہ اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرنے کا خواہاں ہے ،لیکن دو روز قبل مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کی جانب سے جانب سے قائم ہونے والے گپکار اتحاد کی جانب سے واضح طور پر یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ان کی ملاقات کاصرف ایک نکاتی ایجنڈا یعنی کشمیر کی آئینی حیثیت کی بحالی ہے

اس ملاقات کے حوالے سے کسی بڑے بریک تھرو کی امید ظاہر نہیں کی جارہی ،کیوں کہ اگر فاروق عبداللہ ،محبوبہ مفتی اور دیگر کشمیر نواز قیادت اپنے اس مطالبہ پر اڑی رہتی ہے تو دوسری جانب مودی سرکاری کیلئے بھی ان کے اس مطالبہ پر فوری عمل درآمد کا کوئی امکان موجود نہیں


یہ بھی پڑھیں

  1. مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کی مودی سے ملاقات کا ایجنڈا کیا ہے ؟
  2. عمران خان،موجودہ حالات میں بھارت سے تعلقات کشمیریوں سے غداری ہوگی
  3. ٹوئٹرپر بھارت نوازی کا الزام،کشمیریوں کی آواز متعدد اکائونٹس معطل
  4. غلام مصطفی شاہ ،تحریک آزادی کشمیر کا اہم کردار،جو اپنوں‌بیگانوں‌کی بے اعتنائی کا شکار ہوا

کیوں کہ ایسی صورت میں انہیں خود اپنے ملک کے اندر دائیں بازو کی شدت پسند اور سخت گیر سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو کشمیر کے معاملہ پر حالیہ اقدامات کے بعد ان کے ساتھ غیر مشروط طور پر کھڑی ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قوتیں

مقبوضہ کشمیر میں اس وقت تین بڑی اور واضح سیاسی قوتیں موجود ہیں جن میں جموں لداخ میں بھارت نواز سیاسی جماعتیں جن میں بی جے پی سرفہرست ہے ،جو کشمیر کو بھارت کا غیرمتنازعہ حصہ سمجھتے ہیں اوروہ ہر سیاسی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں

بھارت نواز کشمیر نواز قیادت

اس طبقے میں محبوبہ مفتی ،شیخ عبداللہ ،حسنین مسعودی ،فیصل گیلانی وغیرہ نمایاں ہیں ،جو کشمیر کی نیم خودمختارانہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے کشمیر کو بھارتی وفاق کا حصہ ماننے پر رضامند ہیں ،اور یہ جماعتیں اور قائدین مختلف اوقات میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کا حصہ رہے ہیں تاہم 5 اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد یہ قیادت بھی معتوب اور نظر بند رہی ،البتہ خیال یہی ہے کہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر یہ قیادت سابق تنخواہ پر ایک بار پھر کام کرنے پر راضی ہو جائے گی۔

پاکستان کی حامی قیادت

آل پارٹیز حریت کانفرنس اگرچہ بھارت کے انتظام کسی بھی سیاسی نظام کا کبھی حصہ نہیں بنی لیکن اس اتحاد میں شامل تقریبا تمام ترجماعتیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا حل اور پاکستان کیساتھ الحاق کی حامی ہیں ۔جبکہ اس اتحاد میں شامل ایک محدود طبقہ پاکستان اور بھارت دونوں کے بجائے خودمختار کشمیر کے نظریہ کا حامی ہے
حریت پسند اتحاد میں سید علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق ،یاسین ملک نمایاں ترین رہنما ہیں ،جو اپنے اٹل اور غیر متزلزل موقف کی وجہ سے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں

اجلاس میں کس کس کو بلایا گیا؟

نریندرا مودی کیساتھ ملاقات کیلئے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ ،عمرعبداللہ ،محبوبہ مفتی ،غلام نبی آزاد نمایاں ہیں ،جبکہ دیگر رہنما ئوں میں سجاد لون ،الطاف بخاری ،یوسف تاریگامی ،بھیم سنگ ،تاراچند ودیگر شامل ہیں

واضح رہے کہ حالیہ عرصہ کے دوران بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں متعدد بار شائع ہوچکی ہیں جن کے مطابق دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک کے درمیان متعدد بارخفیہ رابطے ہوچکے ہیں ،

جن میں پاکستا ن کی جانب سے سب سے اہم مطالبہ یہی رہا ہے کہ بھارت کشمیر کے حوالے سے آئین میں ردوبدل کا فیصلہ واپس لے ،نظربند سیاسی قیادت کو رہا کرے اور کشمیری شہریوں پر عائد پابندی کا خاتمہ کرے

تاہم اس حوالے سے تاحال بھارت کی جانب سے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا گہ جس سے ظاہر ہو کہ اس نے یہ فیصلہ پاکستان کے مطالبہ یا دبائو کے تحت کیا ہے

اگرچہ اس وقت ملاقات کا بظاہر مقصد تو یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی سیاسی صورتحال کاجائزہ لیا جائے گا تاہم ذرائع کے مطابق اصل ایجنڈا اگلے ریاستی انتخابات کی راہ ہموار کرنا ہے ۔

پاکستان کا موقف

پاکستان کی جانب سے ابھی تک اس ملاقات کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا تاہم حکام کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے بغیر بھارت کا کوئی بھی قدم پاکستان کیلئے قابل قبول نہ ہوگا

Translate »