Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:4 Minute, 26 Second

افغان نیشنل آرمی ایک اچھی اور اعلیٰ تربیت یافتہ فوج تھی لیکن حالیہ سالوں کے دوران فوجی معاملات میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت نے مسائل پیدا کئے ،سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل شیر محمد کریمی کا ترک ٹی وی کو پہلا انٹرویو

ٹی آرٹی کو دیئے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں افغان نیشنل آرمی کی شکست کی وجوہات کے حوالے سے کھل کر بات کی اور ان وجوہات پر روشنی ڈالی جو افغان فوج کی شکست یا تحلیل کی بنیاد بنیں ۔

شیر محمد کریمی کا کہنا تھا فوج میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت ،فوج میں حد سے بڑھی کرپشن اور اقرباء پروری کیساتھ ساتھ دنیا کی متعدد دیگر افواج کی طرح افغان فوج کو سپلائی اور لاجسٹک مسائل کا بھی سامنا تھا ،کیوں کہ کسی بھی فوج کو لڑنے کیلئے ایمونیشن ،اسلحہ ،راشن کی بروقت فراہمی ضروری ہوتی ہے

لیکن ہمارےساتھ یہ مسائل درپیش رہے ،اور بالخصوص آخری ایام کے دوران فوجی معاملات میں سیاسی مداخلت حد سے زیادہ بڑھ گئی ۔کئی جگہوں پر فوج کو بتایا گیا کہ ہم مذاکرات کررہے ہیں آپ نے لڑنا نہیں ہے ۔ہم نہیں چاہتے کہ دوحہ یا دیگر عالمی برادری کی جانب سے ہم پر کوئی الزام آئے ۔

مختلف مقامات پر مختلف سیاسی قیادت کا فوج سے رابطہ تھا ،جس کی وجہ سے فوج مبہم صورتحال سے دوچار تھی ۔اور اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ انہیں کرنا کیا ہے ؟

جو کمانڈرز اپنا فرض نبھانا چاہتے تھے ہم انہیں کھو چکے تھے ۔اور نہیں معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے ۔یہی وجوہات ہیں کہ فوج لڑی نہیں ۔


یہ بھی پڑھیں


مستقبل کے منظرنامے کے حوالے سے سابق افغان آرمی چیف کا کہنا تھا ،ابھی اس مرحلے پر مستقبل کے حوالے سے کوئی اندازہ لگانا مشکل ہے کیو ں کہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ (طالبان)کس سمت میں جارہے ہیں ۔

لیکن طالبان کو چاہیے کہ وہ وسیع البنیاد حکومت کی طرف جائیں جس میں بلاتخصیص ہر ایک کو آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے ۔اور جیسا کہ انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا ہے تو یہ الفاظ تک محدود نہ ہو بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہر ہ بھی کیا جائے ۔

تمام قومی اداروں بشمول فوج ،تعلیم ،صحت کو اپنی موجودہ حالت میں کام کرنے دیا جائے ۔بالخصوص تعلیم اور صحت کے شعبہ میں بہت سی خواتین بطور ڈاکٹر ،نرس اور ٹیچر کام کررہی ہیں ،لیکن اگر انہیں کام کا موقع نہیں دیا جاتا تو ان سکولوں اور ہسپتالوں کو ن چلائے گا ۔اسی لئے انسانی حقوق اور بالخصوص خواتین کے حقوق کا تحفظ عملی معنوں میں ہونا ضروری ہے

انہوں نے کہا میرا خیال ہے اگر وہ تمام لوگوں کو حکومت میں شامل نہیں کرتے تو ابھی انہیں (طالبان )کو بہت سے مسائل کا سامنا ہوگا ۔ ابھی آپ دیکھیں تو بغلان میں عوام اور طالبان کے درمیان لڑائی چل رہی ہے ۔جہاں تین اضلاع طالبان کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں

مذاکرات نہ ہوئے تو ملک دوبارہ خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے ،سابق افغان آرمی چیف

وادی پنجشیر کا محاصرہ کیا جاچکا ہے اور ابھی تک ان لوگوں نے طالبان کو تسلیم نہیں کیا ۔اس کامطلب یہی ہے کہ اگر معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جاتا تو لڑائی چھڑ سکتی ہے اور اگر کچھ عالمی طاقتیں ان کی حمایت میں آجاتی ہیں تو حالات خانہ جنگی کی طرف جاسکتے ہیں

امریکی کردار کے حوالےسے سابق افغان آرمی چیف کا کہنا تھا پوری دنیا امریکہ کو مورد الزام ٹھہراتی ہے اور میرے خیال میں امریکی قیادت اور امریکی صدر نے سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ہے ،جنہوں نے افغان شہریوں کی زندگیوں اور مستقبل کے بارے میں سوچے بغیر اپنی فوجیں نکال لیں ۔

اگر وہ اپنی موجودگی برقراررکھتے تو معاملات کہیں زیادہ بہتر انداز میں حل ہوسکتے تھے ۔اور جب تک حالات فریقین کے مابین مذاکرات کیلئے سازگار ہوجاتے اور عالمی برادری کی نگرانی میں تمام عناصر کو مل بیٹھنے اور عبوری حکومت کے قیام کا موقع مل جاتا ۔

امریکی قیادت سنگین غلطی کی مرتکب ہوئی

افغانستان میں طالبان حکومت بناتے ہیں یا عبوری حکومت بنتی ہے انہیں اب دنیا کے ساتھ دوستانہ رویہ بڑھانے کی ضرورت ہے ،تمام ممالک سے بہتر تعلقات استوار کرتے ہوئے اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے مدد حاصل کرنی چاہیے ۔

اب وہ کسی ملک کے ساتھ دوستی اور باقی کے ساتھ مخاصمت کا رویہ اپناتے ہوئے نہیں چل سکتے ،کیوں کہ یہ ایک غریب ملک ہے جسے ہر ایک کی ضرورت ہے ۔بڑی طاقتوں اور بالخصوص پاکستان ،ترکی ،سعودی عرب اور دیگر پڑوسی ممالک کو امن عمل،ترقی اور عبوری حکومت کے قیام کیلئے کوشش کا حصہ بنانا چاہیے

افغانستان کی سیاسی قیادت کو بھی ماضی کو بھلاتے ہوئے یکجان اور متحد ہو کر طالبان کی مدد کرنی چاہیے اور اسی لئے میں طالبان سے بھی کہتا ہوں کہ وہ وسیع البنیاد حکومت کی کوشش کریں جہاں ہر کوئی خود کوحکومت کا حصہ سمجھے ،اس لئے عبوری حکومت قائم کی جائے اور تاکہ حالات بہتر ہوں اور ملک انتخابات کی طرف جاسکے

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post افغانستان میں‌نئی صورتحال اور پاکستان سے وسط ایشیا تک پھیلا نیا نقشہ
Next post دیہی علاقوں میں‌صحت کی مخدوش صورتحال ارباب کی نظروں سے اُوجھل کیوں؟
Translate »