صفدر حسین ،ایبٹ آباد

پاکستان مادہ اور امریکی نر کے اختلاط سے تیار کی جانیوالی رمغانی نسل جو مویشی کی صنعت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے
پاکستان کے شمالی علاقہ جات بالخصوص وادئ کاغان اور ناران اپنے قدرتی محل وقوع اور سرد آب و ہوا کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں ،لیکن ان علاقوں کی ساخت اور سطح زمین کے خدوخال کی وجہ سے یہ علاقے کھیتی باڑی اور مال مویشیوں کی پرورش کافی مشکل اور محدود پیمانے پر ہے

 

تاہم اس علاقے میں بھیڑوں کی مخصوص نسل جسے کاغانی بھیڑ کہا جاتا ہے کی پرورش اور افزائش کا عمل زمانہ قدیم سے جاری ہے اور آج بھی ہزاروں لوگ بھیڑیں پال کر اپنا گزر اوقات کرتے ہیں ،البتہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ کاغانی بھیڑ کے جسمانی خدوخال اور خصوصیات میں کمی آنے لگی ،جس سے ان کی بڑھوتری ،وزن اور شرح افزائش کا عمل متاثر ہوا ۔اس کے علاوہ صدیوں قدیم طریقہ کار کے استعمال سے ان بھیڑوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات مثلاً اون ،دودھ ،پنیر کا معیار بھی ختم ہو کر رہ گیا تھا

البتہ قیام پاکستان کے بعد 1954 میں امریکہ کے تعاون سے ضلع مانسہرہ میں جابہ کے مقام پر امریکی ریاست میں پائی جانے والی مخصوص نسل ریمبولے کی افزائش گاہ بنانے کے منصوبے پر کام شروع ہوا ۔1957 میں اس تجرباتی سٹیشن نے باقاعدگی سے کام شروع کردیا جہاں یوایس ایڈ کے تعاون سے 80 بھیڑیں اور پانچ مینڈھے لائے گئے ۔جبکہ 1992 میں مزید 300بھیڑیں اور 21 مینڈھے منگوائے گئے

لیکن موسمیاتی ردوبدل کے باعث امریکی بھیڑوں کی افزائش کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوسکے ،البتہ اس دوران مقامی سطح پر ایک نیا تجربہ کیا گیا جس کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے

رمغانی بھیڑ کی خصوصیات کے حوالے سے آویزاں بورڈ ،لائیوسٹاک خیبرپختونخواہ کے مطابق مقامی نسل 80 فیصد تک رمغانی بھیڑ کی نسل میں تبدیل ہوچکی ہے (تصویر واصب علی )

اس منصوبے کے تحت امریکی مینڈھوں کا مقامی نسل کی کاغانی بھیڑ کےسا تھ اختلاط کرواتے ہوئے ،بھیڑوں کی ایک نئی نسل تیار کی گئی ۔جسے رمغانی کا نام دیا گیا ،جو ریمبلے اور کاغانی کے ناموں کا مجموعہ ہے
جابہ تجرباتی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سہراب احمد ملک کے بقول یہ تجربہ انتہائی کامیاب رہا کیوں کہ اس سے حاصل ہونے والی نسل یعنی رمغانی نہ صرف مقامی ماحول سے مطابقت رکھتی تھی بلکہ اس کی جسمانی ساخت اور پیدواری صلاحیت بھی بڑھی ہے

یہ بھی پڑھیں

 

انہی نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے رمغانی کی نسل کشی کو بطور پائیلٹ پروجیکٹ اپنا لیا گیا ،اوراگلے سالوں کے دوران مقامی سطح پر گلہ بانوں کو نر رمغانی بھیڑوں کی فراہمی کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر شروع کردیا گیا ۔تاکہ کاغانی بھیڑوں کیساتھ اختلاط کے ذریعے رمغانی نسل کو ترویج دی جاسکے ، کیوں کہ رمغانی قدکاٹھ ،وزن اور اون کے معیار و پیدوار ہر لحاظ سے کاغانی بھیڑ سے کئی سو گنا بہتر نتائج دے رہی تھی ۔جس سے مقامی بھیڑپال گلہ بانوں کے معاشی فوائد بھی بڑھے ہیں

ڈاکٹر ملک سہراب احمد کے مطابق اب تک اس ساڑھے 6 ہزار کے قریب نررمغانی مینڈھے مویشی پال حضرات کو فراہم کئے جاچکے ہیں ۔اور ہر سال مقررہ طریقہ کار کے تحت باقاعدہ نیلامی کے ذریعے مینڈھے رعایتی نرخوں پر فروخت کئے جاتے ہیں ،لیکن اس سلسلے میں باقاعدہ چھان بین اور سخت قواعد ضوابط وضع کیئے گئے ہیں ،کیوں کہ ان مینڈھوں کی فراہمی گوشت کیلئے نہیں بلکہ نسل بڑھانے کی غرض سے کی جاتی ہے اس لئے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ صرف وہی لوگ اسے حاصل کرسکیں جو باقاعدہ طور پر بھیڑیں پال رہے ہیں ،اور وہ مقامی نسل کو بہتر نسل میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں

رمغانی کی خصوصیات کیا ہیں ؟

امریکی ریمبولے بھیڑ اور پاکستان کی کاغانی بھیڑ کے اختلاط سے وجود میں آنے والی رمغانی نسل مقامی کاغانی بھیڑ کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بہتر کارکردگی کی حامل ہے ۔اس کا قداور وزن مقامی بھیڑ کے مقابلے میں 30 سے 40 گنا زیادہ ہےیعنی ریمبولے کا وزن اگر 60 سے 80 کلو جبکہ کاغانی بھیڑ کا وزن 30 سے 40 تھا ،تاہم دونوں کے اختلاط سے وجود میں آنے والی نسل رمغانی کا وزن 50 سے 70 کلوگرام تک ہوتا ہے ،اسی طرح کاغانی کی سالانہ اون کی پیدوار 1 سے ڈیڑھ کلوگرام فی بھیڑ تھی جو روغانی کی صورت میں 2 سے 4 کلوگرام تک پہنچ چکا ہےجبکہ معیار میں بھی یہ کاغانی کے مقابلہ میں کہیں بہتر ہے ۔جس سے مقامی گلہ بان کی مجموعی سالانہ آمدنی میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ۔

2005ء کے تباہ کن زلزلہ نے جہاں بہت کچھ تہہ و بالا کیا وہیں جابہ تحقیقاتی مرکز کو بھی شدید نقصان پہنچا ،اس کی عمارات اور ڈھانچہ تباہ ہوگیا ،اور اگلے سالوں کے دوران بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہونے کی وجہ سے ابھی تک پوری طرح فعال نہیں ہوسکا کیوں کہ اس وقت اس فارم میں صرف 450 کے قریب بھیڑیں موجود ہیں ،جس کی وجہ سے تقسیم کی شرح میں کمی آئی ہے ۔

جابہ تجرباتی مرکز برائے حیوانات

ضلع مانسہرہ کے مرکز سے تقریباً22 کلومیٹر دوری پرجابہ کے پرفضا مقام پر تجرباتی مرکز کا قیام 1954 میں امریکہ کے تعاون سے کیا گیا ، ،جس کا مقصد امریکی نسل کی بھیڑ ریمبولے کی افزائش کر کے اس کی نسل کو بڑھانا تھا ،اس مقصد کیلئے 1957 میں پہلی بار 85 مادہ اور نر بھیڑیں جبکہ 1992 میں مزید 321 بھیڑیں لائی گئیں

ڈائریکٹر جابہ تجرباتی مرکز ڈاکٹر سہراب احمد ملک نئی سہولیات کے حوالے سے بریفنگ کے بعد (تصویر :واصب علی )

گذشتہ 67 سالوں کے دوران یہ تحقیقاتی مرکز بھیڑوں کی افزائش اور بالخصوص رمغانی نسل کی افزائش و بڑھوتری میں مصروف رہا ،جبکہ اس عرصہ کے دوران ساڑھے چھ ہزار مینڈھے مقامی مویشی پالوں کو تقسیم کئے جا چکے ہیں ۔

رقبہ اور سہولیات

جابہ تحقیقاتی مرکز کا مجموعی رقبہ 551 ایکڑ پر مشتمل ہے ،جس میں انتظامی عمارات ،جانوروں کیلئے شیڈز ،پناہ گاہیں ،چارہ کیلئے زرعی زمینیں ،اور بھیڑوں کیلئے چراہ گاہیں شامل ہیں ،جس میں نومولود بچوں اور ان کی مائوں کی بہتر نگہداشت اور حفاظت کی سہولیات بھی موجود ہیں
تاہم حالیہ عرصہ کے دوران ساڑھے آٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے ٹیوب ویل ،نئے شیڈز ،سولر سسٹم اور کھلی پناہ گاہیں تعمیر کی گئی ہیں جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ،جن کے مکمل ہونے سے فارم کی کارکردگی میں مزید بہتری کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے

مقامی نسل 80 فیصد سے زائد رمغانی میں بدل چکی ہے ،ڈاکٹر ناصر عباس تنولی

محکمہ لائیو سٹاک خیبر پختونخواہ پشاور ڈائریکٹوریٹ میں فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹر ناصر عباس تنولی کے مطابق رمغانی نسل کی تیاری جاربہ شیپ فارم کا ایک انقلابی منصوبہ ہے ،جس نے بالخصوص بھیڑ بکریوں کی صنعت سے وابستہ لوگوں کو زبردست فائدہ پہنچایا ہے

ان کے بقول یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جابہ بھیڑ بکریاں پالنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک تجرباتی مرکز ہے اور کسی بھی نئی نسل کو تیار کرنے میں عشروں وقت لگ جاتا ہے ۔اس لحاظ سے جابہ شیپ فارم کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس نے جمود کا شکار بھیڑ بکریوں کی صنعت کو نئی جہت عطا کی اور آنے والے دور میں یہ نسل نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی گوشت کی مارکیٹ میں جگہ بنانے میں اہم کردار ادا کریگی ۔

جابہ تجرباتی مرکز کا لائیو سٹاک کی صنعت کی تشکیل نو میں بنیادی کردار ہے ،ڈاکٹر ناصر عباس تنولی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ ڈیڑھ سے دو عشروں کے دوران ہماری مقامی بھیڑوں کی 80 فیصد سے زائد آبادی رمغانی میں بدل چکی ہے ۔جو اپنے وزن ،قد ،خوبصورتی اور اون کے معیار میں مقامی بھیڑ کے مقابلے ہر لحاظ سے بہتر ہے

بالخصوص رمغانی بھیڑ کی اون کا معیار بھی بہت بہتر ہوا جس کی قومی و بین الاقوامی منڈی میں قبولیت ہے ۔اور اس سے بھیڑ پالنے کے پیشے سے منسلک افراد کیلئے طویل المدت معاشی فوائد بھی پیدا ہوئے ۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رمغانی کی طرز پر دیگر مویشیوں پر بھی تجربات کے ذریعے بہتر نسلوں کی تیاری کے منصوبوں پر کام شروع ہونا چاہیے

کیوں کہ غیر سائنسی طریقہ کار کی وجہ سے پاکستان کو گوشت اور لائیوسٹاک کی دیگر مصنوعات کی عالمی منڈی میں جگہ بنانے میں دشواری کا سامنا ہے ،اگرچہ ہمارا ملک بنیادی طور پر زرعی ملک ہے ،لیکن روایتی اور فرسودہ طریقہ کار کی وجہ سے ہمیں وہ فائدہ حاصل نہیں ہورہا جس کی ہمارے پاس اہلیت موجود ہے ۔

جبکہ دنیا کے درجنوں ممالک کی ہمارے سامنے مثالیں موجود ہیں جو وسائل اور آب و ہوا میں پاکستان کے مقابلے کہیں زیادہ کمتر ہونے کے باوجود محض سائنس و ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا کی منڈیوں میں اجارہ داری قائم کئے ہوئے ہیں

گلہ بانی کی صنعت اور مسائل کا اجمالی جائزہ

اگرچہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور بالخصوص ہزارہ ڈویژن کے متعدد علاقے اپنے جغرافیائی خدوخال اور آب وہوا کی وجہ سے صرف چھوٹے جانوروں یعنی بھیڑ بکریوں کی پرورش کیلئے موزوں ہیں ۔جن میں کاغان ،ناران زیادہ معروف ہیں

اور یہاں کی غالب آبادی کا صدیوں سے انحصار اور ذریعہ روزگار بھیڑ بکریوں کی پرورش ہے ،لیکن حالیہ عرصہ کے دوران یہ شعبہ بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے ،کیوں جہاں ایک جانب بڑھتی ہوئی آبادی اور تعمیرات سے ان کی زمانہ دراز سے موسمیاتی ہجرت کی راہداریاں ختم ہورہی ہیں

محکمہ لائیو سٹاک کے غیر حتمی اعداد وشمار کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ میں چھوٹے جانوروں کی آبادی کا 25 فیصد حصہ خطہ ہزارہ میں پایا جاتا ہے جن کی آبادی 25 سے 30 لاکھ کے درمیان ہے (تصویر :واصب علی )

وہیں بعض حکومتی پالیسیاں بھی ان کے لئے نقصان کا سبب بن رہی ہیں ،بالخصوص گذشتہ آٹھ دس سالوں میں بلین ٹری پروجیکٹ کی وجہ سے پرانی چراہگاہوں میں گلہ بانوں کے داخلہ پر پابندی سے یہ صنعت شدید متاثر ہوئی ہے

جس کے نتیجے میں اس شعبے سے وابستہ سینکڑوں لوگ اپنا آبائی پیشہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔بالاکوٹ سے تعلق رکھنے والے سردار محمد شاہجہان کے بقول چند سال قبل میرے پاس بارہ سو سے زائد بھیڑیں اور بکریاں موجود تھیں

لیکن جب سے چراہ گاہوں میں داخلے  اور سالانہ موسمیاتی ہجرت کے مروجہ راستوں پر نقل و حرکت بند کی گئی ہے ،میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ میں اپنے باپ دادا کے پیشے کو چھوڑ کر کوئی اور کام کروں جس سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکوں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »