Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:2 Minute, 36 Second

آزادی ڈیسک
جانوروں کے حقوق کی عالمی تنظیم "پیپل فار دی ایتھیکل ٹریٹمنٹ آف اینیمل” کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے تھاٸی لینڈ کے بعض علاقوں میں آج بھی سدھاۓ گٸے بندروں سے بطور مزدور کام لیا جا رہا ہے اور کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے والے بندر کو مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔جس جانوروں کے حقوق کیلیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔
عالمی مارکیٹ تک ناریل کی تجارت کے لئے تھائی لینڈ میں بندر آج بھی بہترین مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
مسجد میں جنات کی موجودگی سے نمازی خوفزدہ، مدد طلب
تنظیم نے 2019 میں خفیہ طریقہ سے رپورٹ تیار کی جس کی تفصیلات اب جاری کی گئیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ناریل تیار کرنے والی کمپنیوں، سپر مارکیٹ چینز اور تھائی لینڈ کی حکومت نے جانوروں کے حقوق کی عالمی تنظیم کو یقین دہانی کروائی ہے کہ آئندہ سے بندروں کو ناریل کی تجارت میں مزدور کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا اور فلپائن کے بعد تھائی لینڈ ناریل کا تیسرا بڑا برآمد کنندہ ملک ہے اور 2019 میں تھائی لینڈ سے 5 لاکھ ٹن ناریل برآمد کیا گیا تھا۔ حالیہ کچھ برسوں میں کوکونٹ مِلک یا ناریل کا دودھ کا ڈیری ملک کے متبادل کے طور پر دنیا بھر میں استعمال بڑھ گیا ہے۔ ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں کوکونٹ دودھ کی انڈسٹری کا حجم دگنا ہو جائے گا۔
کچھ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ کے ان تاجروں سے مال خریندنا بند کر دیا گیا ہے جو بندروں کو مزدور کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
تھائی لینڈ میں کئی کسان بندروں کو درختوں سے ناریل توڑ کر لانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اگر کوئی بندر درختوں کی اونچائی سے ناریل توڑ کر نہیں لاتے انہیں سزا کے طور پر زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض کو سزا کے طور پر چھوٹے پنجروں میں بند کر کے دوسرے علاقوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔
جانوروں کے حقوق کی عالمی تنظیم نے جو خفیہ فوٹیج بنائی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جن بندروں کو سزا دی جاتی ہے وہ چیخ و پکار کرتے رہتے ہیں اور انہیں دیگر بندروں سے علیحدہ پنجروں میں بند کر کے رکھا جاتا ہے۔
تنظیم کی رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ کے جنوبی علاقے میں 3000 سے زائد بندر ناریل کے فارمز میں مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
تھائی لینڈ کے قانون کے مطابق سوْر کی دم والے بندروں کو پکڑ کر قید کرنا قانونی طور پر جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کو نہ صرف جرمانہ عائد کیا جاتا ہے بلکہ انہیں دو سال قید کی سزا بھی دی جاتی ہے۔
جانوروں کے حقوق کی عالمی تنظیم کے مطابق تھائی حکومت نے مونکی اسکول (بندروں کے اسکول) بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے تاکہ کسان ان بندروں کو تربیت دے کر لیبر کے طور پر استعمال نہ کریں لیکن اس قانون پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Previous post کانگو میں اطالوی سفیر کو گولی مار کر قتل کردیا گیا
Next post ملا کی دوڑ اب مسجد سے بھی آگے
Translate »