Spread the love

 سدھیر احمد آفریدی


پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے سینکڑوں اشیاء کی قیمتوں میں براہ راست اور فوری طور پر اضافہ ہو جاتا ہے جس کیوجہ سے غریب لوگوں کی گھریلو زندگی سخت متاثر ہوتی ہے پہلے مہینے میں ایک بار حکومت اور اوگرا کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا اب مہینے میں دو بار یہ کام کیا جاتا ہے لگتا تو یہی ہے کہ حکومت پاکستان پیٹرولیم مصنوعات کے سہارے ہی زندہ ہے باقی ہر طرف سے مایوسی، ناکامی اور تاریکی ہے عام غریب لوگوں کا اس سے کوئی سروکار نہیں کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کتنی ہیں

لیکن ملک کے اندر باخبر سیاسی قائدین اور ماہرین معاشیات کے مطابق جب دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی فی بیرل قیمت کم ہونے لگتی ہے تب بھی پاکستان میں تیل کی قیمتیں کم نہیں کی جاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمران ملک چلانے کے لئے مختصر ترین طریقہ یہ اپناتے ہیں کہ بس تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ محصولات زیادہ سے زیادہ جمع ہوں اور حکمران طبقات کی عیاشیاں متاثر نہ ہوں

اب پاکستان کے اندر عام اور خاص لوگ اس بات کو سمجھنے لگے ہیں کہ جب تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو ان سے صرف مزدور اور غریب طبقہ ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے غریب، مجبور اور مزدور کار لوگ اس قابل نہیں رہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں کے چولہے جلا سکے

غریب اور خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے پاکستانی بدترین مہنگائی کے اس دور میں دالیں، گھی، چینی،چاول، مصالحے، انڈے اور سبزیاں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں کسی غریب پاکستانی کے لئے تو یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ کبھی چھوٹا یا بڑا گوشت خرید کر گھر لے جائیں اور بچوں کو کھلائیں

اسی طرح عمران خان کی موجودہ حکومت میں معمولی نجی تعلیمی اداروں میں کوئی غریب انسان اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتا مہنگائی اور گرانفروشی میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہو جانے سے غریب پاکستانیوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئی ہیں جو عالمی معیار قائم ہیں اس کے مطابق بھی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں موجودہ حکومت میں کروڑوں کے حساب سے اضافہ ہو چکا ہے جو کہ بہت تشویش ناک پہلو ہے


یہ بھی پڑھیں


یہی عمران خان جب 126 دن ڈی چوک اسلام آباد میں کنٹینر پر سوار تھے تو کہا کرتے تھے کہ جو حکمران تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں اور محصولات بڑھاتے ہیں وہ  چور اور کرپٹ ہوتے ہیں عمران خان کی تقاریر کی وہ ساری ویڈیوز سوشل میڈیا کی زینت روز بنتی ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والے حکمران چور، کرپٹ اور نااہل ہوتے ہیں

آج اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کی حکومت میں مہنگائی، گرانفروشی، غربت، بے روزگاری اور لاقانونیت کو جو پر لگے ہیں اس کی مثال ماضی کی حکومتوں میں نہیں ملتی جو انسان وعدے کا پابند نہیں اور جو جھوٹ بولتا ہے اس کا کوئی ایمان نہیں ہوتا ہے

قرآن میں اللہ تبارک و تعالٰی صاف فرماتے ہیں کہ مت کرو وہ باتیں جن پر عمل نہیں کر سکتے مطلب وہ شخص منافق ہوتا ہے جس کے قول و فعل میں تضاد ہو احتساب کے نام پر وزیر اعظم بننے والے عمران خان نے ثابت کر دیا کہ وہ کسی بڑے آدمی کا احتساب نہیں کر سکتا اور جو لوگ ان کے گرد جمع ہیں وہ زیادہ تر لوٹے اور کرپٹ ہیں صرف اقتدار کے مزے لینے کے لئے ان کے گرد جمع ہیں

ریاست مدینہ قائم کرنے والے کے لئے سیرت رسول اللہ اور سیرت صحابہ کرام سے آگاہی حاصل کرنا اولین ضرورت ہے اور ان کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ تو رات بھر مدینہ کی گلیوں میں پھرتے تھے اور چوکیداری کرکے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کیا کرتے تھے کیا موجودہ وزیر اعظم اور ان کے وزراء ایسا کر سکتے ہیں؟

ریاست مدینہ کے حکمران کسی دریا کے کنارے پیاس سے مرنے والے کتے کی موت کی ذمہ داری اپنے اوپر ڈالتے اور کہتے تھے کہ روز قیامت اللہ ان سے کتے کی پیاس کے باعث موت کی بابت ان کا احتساب کرینگے

وزیر اعظم صاحب آج حال یہ ہے کہ آپ کی حکومت میں لوگ غربت اور افلاس کی وجہ سے خود کشیاں کر رہے ہیں لاکھوں لوگ کچھ کھائے پئے بغیر فٹ پاتھوں پر سونے پر مجبور ہیں آپ نے تو کہا تھا کہ گورنر ہاؤسز  کو گرادونگا یا ان کو، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کر دونگا

آپ ہی کہا کرتے تھے کہ ان بڑی بڑی عمارتوں میں ہزاروں لوگ ویسے تنخواہیں لیتے ہیں جو اس غریب ملک پر بوجھ ہیں اب کونسی رکاوٹ ہے جو آپ کی راہ میں حائل ہے احتساب تو آپ نہیں کر سکے آپ کا نیب کا ادارہ بھی پلی بارگین کی شکل میں کرپشن کرتا ہے کسی ظالم اور کرپٹ کو کوئی سزا نہیں ملی

خدارا کم از کم پروٹوکول کلچر اور سرکاری دفاتر کے شاہانہ اخراجات تو کم یا ختم کر سکتے ہیں جی ہاں آپ نے ملک میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کی طرف قدم بڑھایا ہے بڑا اچھا قدم ہے لیکن اس کو یونیورسٹی لیول تک پہنچائیں اور ادھورا نہ چھوڑیں اور کسی نجی تعلیمی ادارے کو اس سے مستثنٰی نہ کریں تاکہ پوری قوم کے بچے ایک ہی نصاب پڑھ سکیں اور انہیں برابری کے مواقع میسر آسکیں اور جو طبقاتی نظام رائج ہے اس کو جڑ سے اکھاڑ سکیں

اسی طرح رحمت العالمین اتھارٹی کا قیام اچھی پیش رفت ہے لیکن آپ کے جو ساتھی پارلیمنٹ کے اندر غیر اسلامی یا اسلام اور شریعت سے متصادم بل لاتے ہیں ان کا راستہ تو روک سکتے ہیں اور یہ اس لئے ضروری ہے کہ یہ ملک اسلام اور کلمہ توحید کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اور جب اپنے مقصد سے دور جائیگا تو اللہ کا عذاب نازل ہوگا

اپوزیشن اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے باری کی منتظر ہے

موجودہ پریشان کن حالات میں جب ملک مشکلات سے دوچار ہے اور عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بد امنی کے شکار ہیں کسی کو روزگار نہیں مل رہا تو سچی بات یہ ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی اس کی برابر ذمہ دار ہے اور خاص کر اپوزیشن کی وہ جماعتیں جن کی پارلیمنٹ میں ایک خاص تعداد موجود ہے حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو اپنی باری کا انتظار ہے

اور عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات سے ان کو کوئی سروکار نہیں اپوزیشن جب تگڑی، بیدار اور متحرک ہوتی ہے تو پھر حکومت کوئی غلط فیصلہ اور اقدام نہیں کر سکتی آج عوام ظلم اور جبر کے شکار ہیں لیکن اپوزیشن خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو اپنی کرپشن کی فکر دامن گیر رہتی ہے اور چاہتے ہیں کہ بے شک حکومت مدت پوری کریں اور عوام پر ظلم کریں لیکن ان کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کرکے نااہل نہ کریں

اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ حکومت اگر اناڑی اور نااہل ہے تو اپوزیشن بھی بہت بیکار اور فضول ہے جو کہ اپنا آئینی اور قانونی کردار بطریق احسن ادا نہیں کر رہی ہے اب صورتحال یہ ہے کہ عام عوام حکومت اور اپوزیشن دونوں سے بیزار اور مایوس ہو چکے ہیں عوام الیکشن کے نتائج پر اعتماد کھو چکے ہیں

اب ہوگا یہ کہ چونکہ متوسط طبقہ بیچ میں سے نکل چکا ہے صرف دو طبقات ہیں ایک انتہائی سرمایہ دار اور دوسرا انتہائی غریب تو اس صورتحال میں انقلاب کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے مگر پاکستان میں منظم انقلاب کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے کیونکہ یہ قوم تو ہے ہی نہیں ایک ہجوم ہے

اس لئے خدشہ یہی ہے کہ غربت اور افلاس کے مارے لوگ بپھر ہو کر قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کرینگے افراتفری پھیلائیں گے اور سٹریٹ کرائمز میں تو پہلے ہی اضافہ ہو چکا ہے اس لئے اب بھی موقع ہے کہ پرائم منسٹر باعزت طریقے سے اقتدار چھوڑ دیں اور ڈیلیور نہ کرنے پر قوم سے معافی مانگیں تاکہ حالات کنٹرول میں رہے اور عوام کے دکھوں کا مداوا ہو سکے

سب سے زیادہ غلطی تو خود عوام کی ہے کہ ابھی تک انہوں نے پارلیمنٹ میں ایسے نمائندوں کو منتخب کرکے نہیں بھیجا جو حقیقی معنوں میں ان کے لئے قانون سازی اور کام کر سکے اگر عوام سرمایہ داروں اور مفاد پرستوں کو اوپر پہنچائیں گے تو لازمی بات ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں اپنے مفادات کے لیے کام کرکے اپنا ہی سرمایہ بڑھائیں گے اور پھر پانچ سال بعد واپس عوام کے پاس آکر سبز باغ دکھا کر ان سے ووٹ لینگے یہی کچھ ہوتا رہا تو ملک و قوم کا اللہ ہی حافظ و ناصر ہو۔

Translate »