سدھیر احمد آفریدی


پراپرٹی ڈیلرز نہ صرف خیبر پختون خواہ میں بلکہ پورے پاکستان میں اتنے بدنام ہو چکے ہیں کہ اب دو الفاظ کا یہ چھوٹا سا جملہ مختلف طبقات کے لئے استعمال ہوتا ہے پراپرٹی ڈیلرز ویسے ہی بدنام نہیں ہو ئے ہیں بلکہ اس کا ایک بیک گراؤنڈ ہے جن کے ایک ایک پہلو پر ایک نہیں سینکڑوں کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن میں اپنی تحریر میں ان پراپرٹی ڈیلرز پر فوکس کرنے کی کوشش کرونگا جن کا حقیقی تعلق ہی پراپرٹی کے لین دین سے ہے جو زمین کا کچھ ٹکڑا بیچتے ہیں، ٹاؤن، گھر بنا کر بیچتے ہیں یا پھر وہ پراپرٹی ڈیلرز جو اپنی کمیشن کے لئے کسی کا گھر یا پلاٹ کرائے پر دیتے ہیں یا کسی کے لئے گھر اور پلاٹ فروخت کرکے اپنا کمیشن وصول کرتے ہیں

میں اس کو ایک کاروبار سمجھتا ہوں اور اس کو ناجائز نہیں سمجھتا لیکن وہ پراپرٹی ڈیلرز جو کسی گھر، عمارت یا زمین کے خود مالک ہیں یا کمیشن کار ہیں جو اس دھندے کی آڑ میں کسی کو دھوکہ دیتے ہیں، جھوٹ بول کر اچھے پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہیں جن کا صرف مقصد یہ ہوتا ہے کہ خریدار یا کرائے دار کا استحصال کریں اور ان کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ لیں تو یقینآ اس فانی دنیا کے چند دن وہ سہولیات اور وسائل سے مالامال ہو کر گزاریں گے لیکن یہاں بھی ان کو سکون نصیب نہیں ہوگا اور آخرت تو ان کی ویسے بھی برباد ہوگی


یہ بھی پڑھیں


کسی ضرورت مند اور مجبور انسان کا استحصال کرنا اچھی بات ہر گز نہیں اللہ کے رسول نے واضح طور پر جھوٹ، فریب اور دھوکے سے منع فرمایا ہے لیکن مسلمان ہوتے ہوئے بھی اگر کوئی جھوٹ، ملاوٹ اور دھوکہ دہی سے باز نہیں آتا تو یقینآ وہ اپنی آخرت کی دائمی زندگی برباد کرتے ہیں اپنے بچوں کی سہولت اور خوشحال زندگی کے لئے دوسرے مجبور اور ضرورت مند لوگوں کے بچوں کے حقوق سلب کرنا اور ان کو پریشانیوں سے دوچار کرنا کسی بھی مذہب میں درست اور جائز نہیں اور یہ سب کچھ بکثرت پراپرٹی ڈیلرز میں موجود ہیں

مطلب پراپرٹی ڈیلرز کی اکثریت چاہے وہ بطور مالک کام کرتا ہو یا بطور کمیشن کار تصویر کا اصل اور حقیقی رخ اور پہلو پیش نہیں کرتے اور ناجائز کمائی اور کمیشن کی خاطر جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا اور دھوکہ دینا ان کے نزدیک کوئی برائی اور جرم نہیں یہاں اتنے ظالم لوگ ہیں کہ انہوں نے اپنی کمائی کے لئے پورے پاکستان میں اور بالخصوص خیبر پختون خواہ میں زرعی اور قابل کاشت زمینوں کو اونے پونے خرید کر ان پر ٹاؤن اور پلازے تعمیر کئے ہیں اور کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کمائی کر سکیں

بے ہنگم تعمیرات اور زرعی زمینوں کو درپیش خطرات

ان بے تحاشا ٹاؤنز اور پلازوں کی تعمیر کے نتیجے میں رہائش کی سہولیات میں تو اضافہ ہو رہا ہے لیکن ہمارے ملک کی پہچان یہ ہے کہ یہ ایک زرعی ملک ہے لیکن کچھ عرصہ بعد ہم تمام اجناس، غلہ اور خوراکی مواد باہر کے ممالک سے مہنگے داموں درآمد کرنے پر مجبور ہونگے جس کے نتیجے میں غربت اور مہنگائی میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوگا

اور یہی وجہ ہے کہ کمیشن کار اور اصل پراپرٹی ڈیلرز ایک مافیا بن چکے ہیں اور جہاں ان کو تکلیف اور نقصان کا سامنا کرنا پڑے وہاں یہ سب ایک ہو جاتے ہیں ان تمام پراپرٹی ڈیلرز کی سوچ اس ملک اور قوم کو ترقی دینے کی نہیں بلکہ غریب اور مجبوروں کا استحصال کرکے زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی ہے اور یہ وہ برائی ہے جس نے معاشرے کو اخلاقی زوال سے دوچار کر دیا ہے

جہاں محض پیسہ کمانا اگر ہدف بن جائے اور سماجی اخلاقیات پس پشت چلی جائیں تو پھر وہ جنگل کا معاشرہ بنے گا جہاں طاقتور اور زہریلے جانور راج کرتے ہیں تعلیمی نیٹ ورک سے بھی منسلک کچھ لوگ ہیں جنہوں نے تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک کے نام پر کاروبار شروع کر دیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا مقصد قوم کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانا نہیں بلکہ اپنے کاروبار کو بڑھانا ہوتا ہے

میں نے لنڈی کوتل کے آرمی پبلک سکول سے اپنے بچوں کے سرٹیفیکیٹس لینا چاہا جو جولائی میں میٹرک کا امتحان دیکر اس ادارے سے فارغ ہوئے تھے تو کہا کہ اگست اور ستمبر کے دو ماہ کی بھاری فیس بھی جمع کریں جس پر میں نے کہا کہ جب بچے آپ کے سکول میں نہیں رہے اور فارغ ہوئے تو اب کس بات کی فیس لیتے ہیں تو کہنے لگے یہ ہماری ایس او پی ہے جس کو پبلک کے ساتھ شئیر نہیں کر سکتے

اگر اس ملک میں ہر کوئی اپنی مرضی سے جو چاہے وہ کریں جن کو نہ خوف خدا کی فکر ہو اور نہ وہ قانون سے ڈرتے ہوئے اس کا احترام کرتے ہوں تو پھر اس معاشرے کا انجام کیا ہوگا؟ یقیناً اس کا نتیجہ یہی ہوگا جو آج ہم سب بھگت رہے ہیں جرائم میں اضافہ، مہنگائی اور گرانفروشی میں اضافہ ہورہا ہے غریب اور مجبور لوگوں کا ستیاناس ہوگا وہ برباد اور پریشان ہونگے

اس لئے حل صرف یہ ہے کہ اس ملک میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور سب ملکر اللہ کی طرف رجوع کریں،آخرت کی فکر کو مضبوط بنائیں، کسی انسان کو مصیبت اور تکلیف سے دوچار نہ کریں ہر انسان کے بنیادی حقوق کا احترام کریں، ایک دوسرے کو عزت دیں

مسائل کا حل ووٹ کے زریعے سافٹ انقلاب

مگر بد قسمتی سے یہ سب کچھ ممکن دکھائی نہیں دیتا تو پھر دوسرا حل یہ ہے کہ قانون کی بالادستی ہو،انصاف کی حکمرانی ہو اور یہ تب ہوگا جب اس ملک میں اچھے اوصاف کے مالک اور پاک دامن لوگوں کی حکومت قائم ہوگی جو کہ بدقسمتی سے وہ بھی دور دور تک دکھائی نہیں دیتا

کیونکہ یہی عوام ہیں جو باکردار،ایماندار، نیک، صالح اور باصلاحیت افراد کو ووٹ دیکر منتخب نہیں کرتے ہیں تو جب بدمعاش، بدکردار اور کرپٹ نمائندے پارلیمنٹ میں براجمان ہونگے تو پھر ان سے کیسے کسی اچھائی کی امید کی جا سکتی ہے؟

حالانکہ سوفٹ انقلاب کا طریقہ یہی ہے کہ پاکستان سے سارے گند، ظلم اور ناانصافی کو مٹانے اور قانون اور انصاف کی بالادستی قائم کرنے کے لئے 22 کروڑ عوام پاکستان اور اسلام سے محبت کرنے والے سیاسی اور مذہبی افراد یا جماعتوں کی پشت پر کھڑے ہو جائیں اور ان کو بلدیات اور عام انتخابات کے موقع پر سپورٹ کریں ان کو ووٹ دیں اور ان کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائیں

ووٹ کی پرچی میں بہت بڑی طاقت پوشیدہ ہے اگر ہم نے ووٹ کی پرچی کا صحیح استعمال کیا تو یہ پراپرٹی ڈیلرز،کرپٹ اور بدمعاشوں سے نجات پانے کے لئے ان کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے اور اگر یہ سوفٹ انقلاب بھی برپا نہیں کر سکتے تو پھر غریب اور مجبور پاکستانیوں کو چیخنے چلانے کی کوئی ضرورت نہیں اور سچی بات یہ ہے کہ ساری قوم سو رہی ہے،

ہر مشکل، تکلیف اور استحصال برداشت کر رہی ہے لیکن پاکستانیوں نے قسم کھائی ہے کہ وہ من حیث القوم کسی اہم مسئلے پر اٹھ کر احتجاج نہیں کرینگے اور نہ ہی پرامن تبدیلی کے لئے کوئی کردار ادا کرینگے اور جب کوئی قوم خود اپنی حالت نہیں بدلتی تو اللہ تعالٰی بھی ان کی حالت نہیں بدلتا

آج اگر ہر سوں ظلم،جبر اور استحصال کا راج قائم ہے، کرپشن اور لاقانونیت حدیں پار کر چکی ہیں،مہنگائی، غربت اور بے روزگاری عروج پر ہیں تو ان سب برائیوں کے ذمہ دار یہ لوگ بھی ہیں جو اٹھنے اور تبدیلی کا نام ہی نہیں لیتے معاشرے کو ٹھیک کرنے کے لئے اپنی ذات اور نیچلے لیول سے آغاز کرنا ہوگا ورنہ پراپرٹی ڈیلرز ہر طرف چھائے ہوئے ہیں جو آپ کا خون چوستے رہینگے۔

Translate »