راحت ملک


ٹی ایل پی کی ساخت کیسی ہے؟ اس کی پرورش و پرداخت کہاں ہوئی؟ کس نے کی؟ یہ سوالات اب تشنہ جواب نہیں رہے۔ہر باشعور شخص حقائق سے بالواسطہ طور پر آگاہ ہوچکا اور اس کا سہرا جدید ذرائع ابلاغ کے سر جاتا ہے جو قدغنوں کے برسات کے موسم میں بھی بھیگنے سے محفوظ رہے۔

جبر کی تاریک تر شپ کی سیاھی زندہ ضمیر اہل قلم و خبر کے لئے روشنائی بن رہی ہے۔چنانچہ وہ جو پردے کے عقب میں رہتا تھا جدید تیکنیکی ماحول میں طشت ازبام ہورہا ہے جبکہ بدلتی ہوئی تیکنیکی صورتحال سے اہل جبر ناخوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس مدہم لو کو بھی منہدم کردیں مگر سائنس کی ایجادات کے خلاف کون سینہ سپر ہوا ہے جو اب ہو پائے گا؟

ٹی ایل پی کو 5.8فیصد کی سالانہ شرح سے ترقی کی طرف لے جاتی حکومت کو اقتدار سنگھاسن سے باہر نکالنے کے لئے میدان میں اتارا گیا تھا اس محاذ کی اگلی لڑائی میں ٹی ایل پی 2018ءکے عام انتخابات میں پری پول ریگنگ کے لئے اپنی فتح یا کامیابی کے برعکس کسی دوسری جماعت کی فتح یا کسی جماعت کا ووٹ بینک تقسیم کرکے اسے ہرانے میں اہم کردار اور معاونت مہیا کی تھی۔

فرانس میں نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ٹی ایل پی نے اپنی جماعتی قوت متحد اور متحرک رکھنے کے لئے دھرنے دیئے تو معاملات کو درست طور پر طے کر نے کی بجائے درپیش کشیدگی ٹالنے کے لئے 16نومبر 2019 کو وفاقی وزراءاور ٹی ایل پی کے مابین ایک تحریری معاہدہ کیا گیا ۔

جس میں ناعاقبت نااندیشی کی اعلیٰ مثال قائم ہوئی، وفاقی وزیر داخلہ ریٹائرڈ بریگیڈئیر اعجاز شاہ اور وزیر مذہبی امور پیرزادہ انوارالحق قادری نے دستخط کئے جس میں وعدہ کیا گیا کہ ٹی ایل پی کے مطالبے پر عملدرآمد کے لئے پارلیمنٹ سے رجوع کیا جائے گا تاکہ فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے بیدخل کیا جاسکے

اس کے لیے تین ماہ کے اندر عمل کی یقین دھانی کرائی گئ اس معاہدے کی دستاویز نے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات کے خاتمے کو حکومتی پاکستن کے ایجنڈے میں شامل کردیا۔چنانچہ مغرب میں پاکستان کے متعلق یہ سوال اٹھاکہ یہ ملک سرکاری سطح پر مسلح تنظیموں کی سرپرستی کرتا ہے اور پھر ان کے ایجنڈے کو سرکاری طور پر اپناتا ہے ۔لہذا پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے ذریعے مانیٹر کرنے کا عمل مشکل تر بنا دیا گیا۔


یہ بھی پڑھیں


فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔دنیا میں شاید کوئی بھی ملک فرانس کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا متحمل ہو پائے ۔مگر سونامی سرکار نے ایسے تحریری معاہدے کی تائیدی دستاویز مرتب کی جس پر عمل کرنے کی اس میں استعداد تھی نہ ہی امکان۔

مگر تحریری معاہدے میں ٹی ایل پی کے مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا۔یہ معاہدہ ٹی ایل پی کے ساتھ تعاون کے لئے ہاتھ ملانے کے مترادف تھا اب وزیراعظم قائد حزب اختلاف کے ساتھ ہاتھ ملانے ( مصافحہ کرنے ) سے مسلسل اجتناب کی وضاحت کرتے ہویے غیر قانونی منطقی استد لال کا سہارا لیتے ہیں کہ قائد حزب اختلاف کے خلاف کرپشن کے مقدمات ہیں اگر ان سے ہاتھ ملاﺅں تو اس سے کرپشن کو قانونی تائید مل جائے گی۔

اس بیان سے وزیراعظم خود کو قانون کے مماثل سمجھنےکےخبط کا برملا اظہار کررہے تھے جو جمہوری پارلیمانی ریاستی ڈھانچے کے گہری تشویش کا باعث ہے۔تاہم اس ٹی ایل پی سے ماضی قریب اور حالیہ ہفتے میں تعاون پر مبنی معاہدہےکرتے ہویے انہیں کس قسم کی خجالت محسوس نہیں ہورہی جس نے  اکتوبر2021ءمیں دسیوں پولیس اہلکاروں کو قتل کیا ہے۔

مگر پارلیمان کے رکن اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف سے مصافحہ نہ کرنے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں دراصل اپنے اس موقف و اقدام سے خان صاحب بالواسطہ طور پر پارلیمانی جمہوری نظام کی بے توقیری کررہے ہیں جو ان کے لاشعور میں سرایت شدہ کجی کا اظہار ہے۔شہباز شریف کے خلاف مقدمات عدلیہ میں زیر سماعت ہیں تاحال وہ ملزم ضرور ہیں مگر مجرم تو ہرگز نہیں ۔ ایسا ہوا تو وہ رکن پارلیمنٹ بھی نا رہ پائیں گے

مگر خان صاحب سمجھتے ہیں کہ وہ ملزم نہیں مجرم ہیں اور یہ بھی کہ ان کا ددست مبارک جو کہ دیانتداری کی اعلی سند ہے دریں حالات یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا وہ اپنے رفقاءاور وزراءسے بھی مصافحہ نہیں کرتے ہونگے؟

ٹی ایل پی سے معاہدے کی تین ماہ کی معینہ مدت گزرنے کے بعد بھی جب عمل کی صورت نظر نہ آئی تو تحریک لبیک ایک بار پھر سڑکوں پر آگئی ۔2021ء میں ٹی ایل پی نے ملک بھر کو مفلوج کردیا چنانچہ گھبرائی ہوئی حکومت نے معاملہ ٹالنے کی ایک اور کوشش کے طورپر فرانسیسی سفیر کا معاملہ 20 اپریل تک پارلیمنٹ میں لانے کا وعدہ کیا۔یہ وعدہ بھی یوٹرن ہی نکلا تو ٹی ایل پی اکتوبر21میں پھر متحرک ہوگئی۔

حکومت پہلے اس تنظیم کو خلاف قانون(کالعدم) قرار دے چکی تھی اب کے اسے بھارت کی ایجنٹ بھی قرار دے دیا گیا۔وزیراطلاعات و وزیر داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریک لبیک کے دھرنے کے سامنے ریاستی رٹ قائم رکھنے کے لئے ہر ممکن ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔

حکومت نے ٹی ایل پی سے بڑھ کر جی ٹی روڈ کو بلاک کیا۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان تشدد آمیز واقعات میں طرفین کے کئی افراد جاں بحق ہوئے۔صورتحال کا بہاﺅ جب کشیدگی کی بلند سطح کو چھونے لگا تب چیف آف آرمی سٹاف نے معاملات اپنے ہاتھ میں لئے۔انہوں نے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر ٹی ایل پی سے رابطہ کیا، بات چیت ہوئی اور مذاکرات کے سہولت کاروں کی منشاء پر جو دراصل مظاہرین کی خواہش تھی کے تناظر میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو حکومتی نمائندگی کے لئے آگے بڑھایا گیا

بظاہر وفاقی وزیر علی محمد خان اور جناب اسد قیصر بھی اس بات چیت کا حصہ تھے لیکن اصل معاملات ممتاز علم دین مفتی منیب الرحمن ان کے رفقاءاور آرمی چیف کے نمائندوں کے درمیان طے پائے ایک تحریری معاہدہ ہوا، جسے نامعلوم وجوہ پر خفیہ رکھنے کافیصلہ ہوا ہے اہم نکتہ معاہدے کو برسر عام نہ لانے کا ہے،

مفی منیب صاحب نے واشگاف الفاظ میں اعلان کردیا ہےکہ ٹی ایل پی فرانسیسی سفیر کے متعلق کسی قسم کا مطالبہ نہیں کررہی تھی۔ انہوں نے پریس سے بات چیت کے دوران دو وزرا کے متعلق نازیبا جملہ بھی ارشاد فرمایا جو خود مفتی صاحب کی شخصیت کے منافی تھا معاہدے کے بعد مظاہرین نے جی ٹی روڈ خالی کردیا ہے لیکن تاحال وہ وزیر آباد کے ایک پارک میں براجمان ہیں

وزیر آباد کی شہری زندگی تجارت معطل و مفلوج ہے شہر کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہے۔ حکومت تیزی سے تنظیم کو کالعدم قرار دیے گے فیصلے کو ختم کررہی ہے، بظاہر اس اقدام کا مقصد امن وامان کی بحالی بتایا جارہا ہے لیکن معاملہ اتنا سہل و سادہ نہیں ، بلاشبہ کالعدم کی فہرست سے اخراج کے بعد ٹی ایل پی ایک قانونی مذھبی سیاسی جماعت کے طور کام کرسکے گی اور اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی مجاز ہوگی

اس بار بھی اسکا انتخابی کردار گزشتہ انتخابات جیسا ہی ہوگا چنانچہ میرا خیال ہے حالیہ مہم جوئی کے اختتام سے معلوم ہورہا ہے کہ نئے انتخابات جلد متوقع ہیں نیز پری پول دھاندلی کے لیے ضروری اقدامات شروع کردیے گے ہیں، کیا آئیندہ انتخابات 2018 کی عکس ثانی ہونگے ؟ ایسا ہوا تو کیا یہ ملک کے وسیع تر مفاد کے منافی نہیں ہوگا ؟

جناب سعد رضوی صاحب کی رہائی کے لئے بھی اقدامات ہورہے ہیں۔دیکھیے حالات کیا منظر تراشتے ہیں ؟ وزیراعظم نے کابینہ کے ارکان کو معاہدے پر گفتگو کرنے سے روک دیا تھا۔ہوسکتا ہے کہ وہ خود بھی اس کی شرائط و مندرجات سے ناواقف ہوں لہذا انہوں نے اپنی لاعلمی مخفی رکھنے کے لئے اس موضوع کو بحث سے خارج کیا ہو۔!!!

مذکورہ تمام واقعات سے چار نکات اخذ ہوتے ہیں۔

1۔ملک میں مسلح مذہبی متشدد تنظیمیں یا تنظیم بہت طاقتور ہیں اور یہ بھی کہ ان کی” توانائی “میں مقتدرہ نے مقدور بھر حصہ ڈالا ہے۔

2۔ کہا گیاکہ آرمی چیف جناب جنرل قمر باجوہ صاحب نے اپنے لوگوں کا خون بہائے جانے کو ناپسند قرار دیا اور معاملات بذریعہ بات چیت حل کرائے۔چنانچہ مجھے امید ہے کہ اب اس استدلال کو بلوچستان کے حالات پر منطبق کرنے کا لازمی امکان روشن ہوگیا ہے ۔

بشرطیکہ بلوچستان میں بہنے والے” خون” کو بھی اپنوں کے زمرے میں شمار کیا جائے۔بر سبیل تذکرہ یہاں اس سوال کا اعادہ غیر مناسب نہ ہوگا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور حکومت میں بی آر اے کے ساتھ ہوئے مذاکرات کو کیوں اور کس نے سبوتاژ کیا تھا؟۔

ان مذاکرات میں بھی تو ملک کو درپیش مسائل کے پرامن حل کی کوشش کی گئ تھی! تمام متحارب فریق بھی اپنے ہی تھے ۔سرکار یا سر مچار تھے تو اپنے ہی لوگ۔!!!

خیر کیا اب امید کی جانی چاہیےکہ بلوچستان کے سلگتے ہوئے سیاسی سوال کو حل کرنے کے لئے بھی گولی کی بجائے بولی کو اپنایا جائے گا۔

3۔جس طرح ٹی ایل پی نے جھتے کی صورت جی ٹی روڈ کو بلاک کر کے اپنے تمام مقدمات ختم کرائے گرفتار کارکنوں کی رہائی ممکن بنائی ہے اس عمل نے ملک بھر سے لاپتہ سینکڑوں افراد کے لواحقین کو ایک موثر لائحہ عمل عطا کیا ہے۔

جسے اپنا کر وہ اپنے پیارے لاپتہ (مسنگ پرسنز) کی بازیابی ممکن بناسکتے ہیں۔کیا حکومتی حلقے متذکرہ صدر اخذ شدہ تین نقاط کو غلط ثابت کرسکتے ہیں؟ شاید نہیں ۔۔۔ کیونکہ ریاست جب وہ آئین وپارلیمان کو راندہ درگاہ یا شجر ممنوع قرار دے کر ملک کے اصل وارث عوام/جمہور کو حق حکمرانی سے محروم رکھے اور ان کے قانونی حقوق کی عطائیگی وتحفظ سے منحرف ہو جائے تو کیا ٹی ایل پی کی اپنائی گئی حکمت عملی مستقبل موثر اور ثمر بار لائحہ عمل ثابت نہیں ہوتی۔؟

4:ٹی ایل پی کے پرامن مذاکرات اور طاقت کے استعمال سے گریز اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ موجودہ حالات و روش میں پی ڈی ایم کے احتجاج یا دھرنے روکنے میں طاقت کردار ادا نہیں کرے گے۔ دوئم کرونا کی شدت میں کمی بھی پی ڈی ایم تحریک کے سازگار حالات کی عکاس ہے۔

اپوزیشن تحریک عدم کی بجائے عوامی احتجاج کے ذریعے حکومت پر مستعفی ہونے کا دباؤ بڑھا یے لیکن اسمبلیوں کی تحلیل سے قبل شفاف منصفانہ مداخلت سے پاک عام انتخابات ممکن بنانے کے لیے مطلوب قوانین منظور کرایے۔

نیز انتخابی عمل میں مداخدلت کے موثر سدباب اور بعد ازاں قائم ہونے والی حکومت کو ہر نوعیت کی پالیسی بشمول ملکی دفاع ۔قومی سلامتی خارجہ حکمت عملی کے خدوخال وضع کرنے کی مکمل مجاز ہو اسکے لیے” ٹھوس ضمانت” حاصلی کی جایے

One thought on “تحریک لبیک اور حکومتی معاہدہ ،اپنوں کا خون بہانے سے گریز”

Comments are closed.

Translate »