آزادی ڈیسک
الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کامیاب ہونے والے 48 سینیٹرز کے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیے .3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں‌یوسف رضا گیلانی کی کامیابی سے حکومت کو زبردست دھچکا پہنچاتھا اور وزیر اعظم عمران خان اس کے بعد متعدد مواقع پر الیکشن کمیشن کے کردار پر اعتراض‌کرچکے ہیں‌
اور اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو دھاندلی اور ووٹ کی خریداری کا نتیجہ قرار دے چکے ہیں‌.وزیر اعظم عمران خان کے الزامات پر اگلے روز الیکشن کمیشن کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ،جس کے بعد جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں‌وزیر اعظم کے بیان کو مسترد کیا گیا .


پی ڈی ایم کے فیصلوں‌کے پابند ،حکومتی پیشکش بے وقعت ہے ،عبدالغفور حیدری

یوسف رضاگیلانی چیئرمین سینیٹ کےلئے اپوزیشن کے متفقہ امیدوارنامزد

حکومت کو پہلا بڑا دھچکا ،سینیٹ انتخابات میں‌یوسف رضاگیلانی فاتح

‌شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے ،الیکشن کمیشن

عمران خان کا اپوزیشن پر دوبارہ ووٹ خریدنے کا الزام


الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ کامیابی کا نوٹیفکیشن

قبل ازیں الیکشن کمیشن نے اپنے تحریری بیان میں‌کہا تھا کہ کمیشن ایک آئینی اور آزاد ادارہ ہے اور اس کو ہی دیکھنا ہے کہ آئین اور قانون میں‌اس کی کیا اجازت ہے .اور وہی اس کا معیار ہے ،ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظر انداز کرسکتے ہیں اور نہ ترمیم .اگر کسی کو الیکشن کمیشن کے فیصلوں یا احکامات پر اعتراض‌ہے تو وہ آئینی راستہ اختیار کریں‌،ہمیں‌آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے،ادارہ کسی کے دبائو میں‌نہیں‌آئے گا .
بیان میں‌وزیر اعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کے بیانات کو افسوسناک قرار دیا گیا اور کہا یہ بات حیران کن ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی مقام پر ایک ہی الیکٹرول عملہ کی موجودگی میں‌جو ہار گئے وہ نامنظور اور جو جیت گئے وہ منظور کیا یہ کھلا تضاد نہیں‌؟؟جبکہ باقی تمام صوبوں‌کے نتائج قبول ،جس نتیجہ پر تبصرہ اور ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے الیکشن کمیشن اسے مسترد کرتا ہے ،یہی جمہوریت اور آزادانہ انتخابات اور خفیہ بیلٹ کا حسن ہے جو پوری قوم نے دیکھا اور یہی آئین کے مطابق ہے .بیان میں مزید لکھا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں‌بلکہ قانون کی پاسبانی ہے ،جن خیالات کا اظہار کیا گیا وہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں‌کیا امر مانع ہے

یاد رہے کہ جمعرات کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا اپوزیشن کا مقصد یہ تھا کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج کو استعمال کرتے ہوئے اُن کی حکومت پر ’عدم اعتماد کی تلوار لٹکا دیں۔‘اُنھوں نے کہا کہ اپوزیشن اس سے ’مجھے بلیک میل کرنا چاہتی تھی تا کہ میں انھیں این آر او دوں۔‘اپنے خطاب میں انھوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سیکریٹ بیلٹ کروا کر ’مجرموں کو بچا لیا ہے۔‘
عدالت میں‌کیا ہوا ؟
پی ٹی آئی کی رکن عالیہ حمزہ کی جانب سے بھی یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، ان دونوں درخواستوں پر الیکشن کمیشن کے رکنِ پنجاب کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے سماعت کی۔

سماعت میں فرخ حبیب کے وکیل علی ظفر اور ملیکہ بخاری کے علاوہ عالیہ حمزہ کے وکیل عامر عباس نے دلائل دیے، جنہیں سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

سماعت کا احوال
ڈان نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن میں پہلے عالیہ حمزہ کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی جس کے بعد دیگر درخواستیں بھی یکجا کردی گئیں۔
عالیہ حمزہ کی پیروی کرنے والے وکیل عامر عباس نے مؤقف اختیار کیا گزشتہ دو ماہ میں قوم نے الیکشن کمیشن کے اختیارات کا استعمال دیکھا ہے، الیکشن کمیشن کا کام شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانا ہے، عفیصلے بھی ایماندارنہ، منصفانہ ہونے چاہیے۔
عامر عباس نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ میں میں دوبارہ پولنگ کا حکم دستیاب ریکارڈ پر دیا گیا، ڈسکہ معاملے میں بھی ویڈیوز پیش کی گئی تھیں اور ان ویڈیوز کا بھی فرانزک نہیں ہوا تھا۔
وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے قرار دیا تھا کہ ڈسکہ میں قتل ہوئے لیکن ابھی تک کسی کو سزا نہیں ملی، کمیشن کے فیصلے تک قتل کرنے والوں کا کچھ پتا نہیں تھا۔

عامر عباس نے کہا کہ امیدوار، الیکشن ایجنٹ یا ان کی جانب سے کوئی بدعنوانی کرے تو الیکشن کالعدم ہوگا، انتخابی بدعنوانی میں رشوت ستانی اور ووٹر پر اثرانداز ہونا شامل ہے۔

عالیہ حمزہ کے وکیل نے قانون شہادت کا حوالہ دیا تو رکن پنجاب نے کہا کہ آپ حقائق پر بات کریں، قانون کا ہمیں پتا ہے، قانون شہادت اور ضابطہ دیوانی مخصوص مقدمات کے لیے ہوتے ہیں۔

اس موقع پر الیکشن کمیشن کے رکنِ خیبر پختونخوا ارشاد قیصر نے کہا کہ اس کیس میں ملک کے مستقبل کا سوال ہے، سب اس ملک کی وجہ سے ہی آباد ہیں، حساس معاملہ ہے جو بھی فیصلہ کریں گے آزادانہ طور پر کریں گے۔

عامر عباس نے اعتراض کیا کہ ڈسکہ والے کیس میں بھی ویڈیوز اور شواہد کو پرکھا نہیں گیا، جس پر الیکشن کمیشن کے رکنِ پنجاب الطاف قریشی نے کہا کہ ڈسکہ والا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس فیصلے پر انحصار نہ کریں وہ چیلنج ہوُچکا ہے۔

عامر عباس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شفاف اور منصفانہ انتخابات کی ہدایت کی تھی، میرا کیس یہ نہیں کہ رشوت دینے والے کو جہنم میں بھیجنا ہے، سزا اور جزا کا فیصلہ فوجداری کیس میں ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے صرف انتخابی عمل کی شفافیت کو دیکھنا ہے، الیکشن سے پہلے ہی کمیشن کو درخواست مل چکی تھی، مریم نواز نے کہا میرا ٹکٹ چلا۔

عامر عباس نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے نے ٹی وی پر ویڈیو کو تسلیم کیا تھا، کرپٹ لوگوں کو پارلیمان میں داخلے سے روکنا الیکشن کمیشن کا کام ہے اور اس کے سامنے بولیاں لگتی رہی ہیں، پورے پاکستان کی نظریں الیکشن کمیشن پر ہیں۔

عامر عباس کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپر قابل شناخت نہیں تو کیا کرپشن کی اجازت دے دیں؟ میڈیا پر کوئی اعتراف کرے تو اسے بطور ثبوت قبول کیا جاتا ہے، چار چار سال ٹربیونلز کے فیصلے نہیں ہوتے۔

رکن پنجاب الطاف قریشی نے کہا کہ فیصلوں میں تاخیر کی ذمہ دار ہمیشہ عدالت نہیں ہوتی۔

جس پر وکیل نے کہا کہ جب حقائق تسلیم شدہ ہوں تو فرانزک کی ضرورت نہیں ہوتی، فوزیہ ارشد کو حفیظ شیخ سے زیادہ ووٹ پڑے، جس پر رکن پنجاب بولے کہ یہی تو جمہوریت اور خفیہ ووٹنگ کا حسن ہے، عامر عباس نے جواب دیا کہ جمہوریت کے اسی حسن کی وجہ سے پیسوں کے بریف کیس چلے۔

الطاف قریشی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم اپنے ہی بندوں کو کہہ رہے ہیں کہ بک گئے، کل بھی حیدر گیلانی کی ویڈیو دیکھی اور پوچھا تھا نظر آنے والے کون ہیں؟ رشوت سے مستفید ہونے والے اصل ملزم ہیں علی حیدر گیلانی کی ویڈیو میں نوٹوں کی چمک نہیں تھی۔ عامر عباس نے کہا کہ جس کو اپ حُسن کہ رہے ہیں وہ وہ مطلق نہیں، رکن پنجاب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ہی خفیہ ووٹنگ کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اعتراض ہے تو چیلنج کر دیں۔

بعدازاں کمیشن نے یوسف رضا گیلانی کے خلاف فرخ حبیب اور دیگر کی درخواست پر بھی سماعت کی جس میں بیرسٹر علی ظفر نے جمیل احمد اور فہیم خان کے بیان حلفی جمع کروائے۔

فرخ حبیب کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں موجود افراد کو فریق نہیں بنانا چاہتے، علی حیدر گیلانی کی ویڈیو میں جمیل احمد اور فہیم خان موجود ہیں۔

رکن پنجاب الطاف قریشی نے استفسار کیا کہ یہ کیسے ثابت کریں گے کہ وہ دونوں ہی ہیں ویڈیو میں؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ ان کے بیان حلفی جمع کروا دیے ہیں جس میں دونوں نے اعتراف کیا ہے۔

رکن خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم نے کہا تھا ترمیم شدہ درخواست میں جمیل احمد اور فہیم خان کو فریق بنایا جائے۔

جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے فریق نہیں بنایا، ان کے بیان حلفی دیے ہیں، ان دونوں نے ویڈیو میں کی جانے والی پیش کش قبول نہیں کی اور جمیل احمد نے بیان حلفی میں کہا ہے کہ ویڈیو اس نے بنائی۔

رکن خیبرپختونخوا نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بیان حلفی پر اوتھ کمشنر کی مہر نہیں لگی، کیسے درست مان لیں ساتھ ہی رکن پنجاب نے کہا کہ بیان حلفی کے ساتھ شناختی کارڈ کی کاپی ہے نہ اوتھ کمشنر کی تصدیق ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو شک ہے تو انکوائری کروا لے، ویڈیو بنانے والے کمیشن میں گواہ بننا چاہتے ہیں۔

رکن پنجاب نے استفسار کیا کہ رشوت لینے والا ملزم ہوتا ہے یا گواہ؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر بولے کہ ویڈیو میں موجود اراکین اسمبلی ہماری نظر میں ملزم نہیں، علی حیدر گیلانی کی پیشکش مسترد کی گئی تھی، ہمارا کیس رشوت کی پیشکش کرنے کو ثابت کرنا ہے۔

رکن سندھ نثار درانی نے دریافت کیا کہ کیا یہ ویڈیو اسٹنگ آپریشن ہے؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ ویڈیو خود بنائی گئی اسے اسٹنگ آپریشن نہیں کہا جا سکتا، اسٹنگ آپریشن میڈیا والے اپنی کارروائی کو کہتے ہیں۔

رکن خیبر پختونخوا نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں یہ ویڈیو مکمل ثبوت نہیں ہے، یہ ویڈیو ثبوت کا حصہ ہے، مکمل ثبوت نہیں۔

بیان حلفی میں پی ٹی آئی رکن جمیل احمد نے کہا کہ علی حیدر گیلانی نے مجھے ملنے کے لیے بلایا، تھا اور میں نے ملاقات کی ویڈیو بنائی۔ جمیل احمد کا کہنا تھا کہ علی حیدر گیلانی نے اپنے والد کی ایما پر ایسا کیا۔

ملیکہ بخاری نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ علی حیدر گیلانی نے ایم این ایز کو پیکج دینے کی بات کی، الطاف قریشی نے سوال کیا کہ جس پیکج کی بات ہو رہی ہے وہ کیا ہے؟ جس پر ملیکہ بخاری نے بتایا کہ 10، 10 کروڑ کے ترقیاتی کاموں اور 5 سے 6 کروڑ روپے کی آفر کی گئی۔

رکن خیبر پختونخوا ارشاد قیصر نے کہا کہ کیا جمیل احمد اور فہیم خان نے آفر قبول کی؟

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ دونوں کو پیشکش کی گئی تھی جو جرم ہے، جیسا کہ قتل کرنے کی کوشش کرنا بھی جرم ہے صرف قتل ہونا نہیں اور علی حیدر گیلانی نے اپنی ویڈیو بھی تسلیم کر لی ہے۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ویڈیو میں موجود افراد کی 2 مارچ کو شناخت نہیں ہوسکی تھی، جمیل احمد اور فہیم خان الیکشن کمیشن میں پیش ہونے کو تیار ہیں، جمیل احمد کا بیان حلفی ہے کہ ووٹ کیلئے علی حیدر گیلانی نے ملاقات کی اور ساری گفتگو ریکارڈ کر لی۔

دلائل جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایم این اے فہیم خان بھی موجود تھے لیکن انہوں نے ویڈیو نہیں بنائی، بینظیر بھٹو کے خلاف کیس میں جج کی آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی تھی، اور سپریم کورٹ نے آڈیو سننے کے بعد فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا، علی ظفر انہوں نے کہا کہ آڈیو کی تردید نہ آنے پر سپریم کورٹ نے فیصلہ کالعدم کیا، جب یوسف رضا گیلانی نے تردید نہیں کی تو کمیشن کیسے ویڈیو کو مسترد کر سکتا ہے؟

علی ظفر کا کہنا تھا کہ ڈسکہ کیس میں کمیشن نے کہا ہم جمہوریت کے محافظ ہیں، کمیشن نے ڈسکہ میں سوموٹو لیا اور نتائج روک دیے، اس وقت کمیشن نے ٹی وی دیکھ کر ہی فیصلے کیے تھے۔

جس پر رکن خیبر پختونخوا نے کہا کہ کلمہ پڑھ کر کہتے ہیں کہ ہم نیوٹرل ہیں جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میرا نقطہ یہ نہیں کہ کمیشن نیوٹرل نہیں ہے۔

ارشاد قیصر نے کہا کہ ڈسکہ میں تو پریذائڈنگ افسران لاپتہ ہوگئے تھے جس پر علی ظفر نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے 20 اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی سفارش کی تھی۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ڈسکہ کیس کی سماعت میں کمیشن نے ویڈیوز دیکھ کر فیصلہ کیا تھا اور کسی ویڈیو کی تصدیق نہیں کرائی تھی جس پر ارشاد قیصر نے کہا کہ آر او اور ڈی آر او کی بات ہمارے لیے براہ راست ثبوت ہوتا ہے۔

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن شواہد سامنے آنے پر تحقیقات کر سکتا ہیں، رکن پنجاب الطاف قریشی نے کہا کہ کسی ویڈیو کو غلط نہیں کہا، جائزہ لیں گے آج فیصل واڈا کا نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا بھی کی گئی تھی، ہمارے پاس تو بہت درخواستیں آئیں کیا تمام سینیٹرز کے نوٹیفکیشن روک لیں؟

Translate »