نعمان خان


حادثے سے بچنے کی کوشش کرنا بری بات تو نہیں

کہیں نہ کہیں سے تو انسان آغاز کرتا ہے ، کوئی سلسلہ شروع کرنا ہی پڑتا ہے۔ انسان کا بھی تو آغاز ہوا تھا۔۔۔ انسان تخلیقی مراحل سے گزر کر یا روح ۔۔۔۔۔۔ کئی مراحل سے گزر کر کسی "مقام ” پر پہنچی ہو گی تو اس وقت اس سے عہد لیا گیا ہو۔۔ "الست بربکم” ۔۔۔ اور جو اس کو نہیں مانتے آغاز کو تو مانتے ہی ہیں۔۔۔

میرا آج کا دن بھی معمول کے دنوں کی طرح تھا۔جس طرح پاکستان کے ملازمت پیشہ لوگوں کا ہوتا ہے۔ مہینے کی 10 تاریخ کے بعد ہی آتی یکم کے انتظاری ہو جاتے ہیں۔ جون صاحب نے کیا خوب کہا
اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں

رات دن تیری انتظاری ہے

خیر۔۔۔۔۔ میں روزانہ صبح جب موٹر سائکل کو کک لگاتا ہوں تو مجھے میری امی کی ایک نصیحت اور ایک دعا ملتی ہے۔
(پتر ہوشاں واں نال پولیوں چلاویں)
بیٹا دھیان سے آہستہ آہستہ چلانا
جل اللہ سوہنے دے حوالے۔۔۔

اور میں نصیحت پہ تقریباً مکمل عمل پیرا رہتا ہوں۔ سپیڈ سے احتراز کرتا ہوں۔ کوشش ہوتی ہے کہ روڈ پہ بھی کسی قسم کی بدنظمی کا سبب نہ بنوں۔ باقی میں ہوتا بھی اللہ کے حوالے ہوں۔۔۔

میں کل شام گھر لوٹ رہا تھا تو ایک ایکسیڈینٹ ہوا۔جس میں صد شکر جانی نقصان نہیں ہوا تاہم وہ دونوں ڈرائیورز ایک دوسرے کو مغلظات اور مار پیٹ کر رہے تھے۔۔۔


یہ بھی پڑھیں


کچھ روز قبل ایک حادثے میں دو  نوجوان جائے حادثہ پر ہی جاں کی بازی ہار گئے۔ الغرض ٹریفک حادثات میں شدید اضافہ ہو رہا ہے۔ چونکہ میرے اپنے سگے بھائی اور میرے محبوب کا انتقال بھی ٹریفک حادثے میں ہوا ہے، اس لیے میں ان معاملات میں ایک ذاتی دلچسپی رکھتا ہوں۔اور ان پہ میرا دل شدید کڑھتا ہے۔ میری خواہش ، میری دعا ہے کہ انسانی جانوں کا ضیاع اور زیاں نہ ہو۔

ہم جتنے بھی حادثات دیکھیں تو ان میں اکثر ہم لوگ کہیں نہ کہیں غلطی کرتے ہیں۔ وہ غلطی جب ایسے ماحول میں ہو تو وہ بلنڈر کا روپ دھارنے میں دیر نہیں کرتی ۔

غلط یوٹرن لینا، (یو ٹرن سے جو آپ کے ذہن میں آیا غلط وہ بھی نہیں)
انڈی کیٹرز کا استعمال نہ کرنا
حد رفتار سے تجاوز،
اوور ٹیکنگ
اور
سیفٹی میئرز کو فالو نہ کرنا
روڈ سائنز پہ عمل نہ کرنا
گاڑی / بائیک کی مکینیکل چیکنگ نہ کرنا ، اس کی اوور ہالنگ نہ کرنا
ٹریفک کے حادثات کی یہی بڑی وجوہات ہیں ۔۔۔۔۔۔؛

میں مانتا ہوں کہ روڈز کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ روڈ سائنز کا نہ ہونا بھی وجہ ہے، مکمل چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔

روڈز پر گنجائش سے زیادہ ٹریفک ہے

روڈز کشادہ نہیں ہیں۔ ون وے ٹو وے کے مسائل ہے۔ تجاوزات ہیں۔۔ یہ بھی بہت بڑی وجوہات ہیں تاہم ہم اپنے طور پر احتیاط سے بچ سکتے ہیں حادثات کی تعداد کم کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔
یاد یاد آیا۔۔۔۔اگر ہم ڈیپریشن سے نکل جائیں تو حادثے 40 فی صد کم ہو سکتے ہیں

لیکن ایک اہم بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ہم لوگ یعنی برصغیر کے لوگ اجتماعی طور پر مہم جو نہیں ہیں بلکہ سہل پسند اور زندہ لوگ ہیں۔ ہم زندگی کے موجود و میسر میں خوش ہیں۔۔

آپ ہمارے تہوار دیکھ لیں ، کم خرچ بالا نشین والا حساب ہے۔ مگر اب ہم لوگ ڈی پریس ہونے لگے ہیں بلکہ ہو چکے ہیں بالخصوص ہم پاکستانی لوگ اکثریت ڈیپریشن کا شکار ہیں۔

ڈیپریشن معروضی حالات کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن ہوتا یہ دماغی لوچا ہے۔ معروضی حالات نہیں بدل سکتے تو سافٹ وئیر ہی اپ ڈیٹ پر لگا دیجیے۔

یہ مسائل خواہ مخواہ اور خود رو نہیں ہیں۔ یہ سب ہم نے بنائے ہیں۔۔۔
میں قطعا کسی کی برائی نہیں کرتا لیکن ایک مثال دوں گا۔۔۔
دیکھیے سماج ایک کشتی ہے یہ ڈوبے تو ساری ڈوبتی ہے۔۔۔

اشفاق احمد صاحب سے سلسلہ شروع ہوتا ہوا قاسم علی شاہ صاحب تک پہنچ آیا ہے۔

یہ دونوں ہماری اس کمی کو پورا کرنے کو تھے اور ہیں کہ اب نصیحتیں کرنے والے کم رہ گئے ہیں ، اور سننے والے انتہائی کم ۔۔۔۔۔

یاد رکھیے جو نعمت مفت میسر ہو اس کی قدر نہ ہو تو وہ قیمتاً چائنہ کاپی میں لینی پڑتی ہے۔۔۔

آخر میں ریاض ساغر صاحب کے دو شعر پڑھیے

اب ساری عمر کرتے رہو گے تلاش دن
دہلیز شب پہ ہو گیا کل پاش پاش دن

اس شہر کی تو آب و ہوا ہی بدل گئی
عصمت فروش رات ہے اور بدمعاش دن

نعمان خان

Translate »