لطیف اللہ داودزئی

پشاور


جون کا مہینہ شروع ہو تے ہی ہر طرف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے نفسا نفسی کے اس بدترین دور میں سر کاری ملازمین اپنے تنخواہوں میں اضافے کے لئے سڑکو ں پر نکل کر احتجا جی مظاہروں سے حکومت پر دباو ڈالنے کی کو شش کر تے ہیں

کوئی اپنی پینشن بڑھانے کی بات کر تے ہیں تو کوئی الاونسز کے لئے اس تپتی دھوپ میں سڑکوں پر ڈیرے جمائے ہو ئے نظر ارہے ہیں ہر کوئی یہی رونا روتا ہیں کہ مہنگائی کے اس دور میں ہماری تنخؤاہیں گھر کا چولہا جلانے کے لئے ناکافی ہیں

مختلف دھمکیوں سے حکومت کو تنخواہیں بڑھانے پر مجبور کرتے ہیں حکومت سے اپنی بات منوا کر جشن منا تے ہیں حکومت بھی سخی ارسلا خان بن کر انکے لئےدس سے پندرہ اور اپنے لئے 100 فی صد تنخواہیں اور مراعات بڑھا کر بے بس عوام کو انکھیں دکھانا شروع کر دیتی ہے ۔


یہ بھی پڑھیں

  1. ریلوے حادثات ،باتوں سے بڑھ کرعمل کی ضرورت
  2. پشاورمیں طویل تعطل کے بعد کھیل کی سرگرمیوں کا خوشگوارآغاز
  3. ملالہ کا بیان ، ٹورازم ڈیپارٹمنٹ اور لائسنس برانچ
  4. خیبر پختونخواہ کے “ڈمان” اور ہندوستانی فنکاروں کے گھر

ملازمین بھی اپنا نعرہ مردہ باد سے زندہ باد میں تبدیل کرکے  خوشی خوشی واپس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ اور یہاں پر کھیل ختم پیسہ ہضم۔۔ لیکن ہمارے آس پاس موجود ایک ایسا طبقہ جو نہ ڈیلی ویجز کے زمرے اتا ہیں اور نہ کنٹریکٹ ملازمین کے زمرے میں اوراگر پکا ملازم کہے تو یہ گناہ تصور ہو گا،

دیہاڑی 300 سے 700 روپے تک لیتے ہیں کام مہینے میں صرف 14 دن تک کر نے کی اجازت باقی اللہ ہی حافظ اور 14 دن بھی نصیب سے ملتے ہیں جس میں ٹیکس 20 فی صد کاٹا جاتا ہے۔آنے جانے کھانے پینے اور بینک چارجز الگ

اور تو اور اگر رجسٹر میں نام درج کرنا بھول گئے یا بابو صاحب سے اپ کی دیہاڑی کا پرچہ جمع کرنا رہ گیا تو پھر دیہاڑی نہیں ملے گی۔اور اس سے بچنے کے لئے مجبورا اپ نے بابو صاحب کا کام بھی کرنا ہے

کیونکہ حکومت نے جو اعلان کیا ہے کہ 50 فی صد حاضری پراکتفاء کیا کریں خدانخواستہ ملازمین کو کرونا نہ لگ جائے جیسا کہ یہ کرونا عام عوام کا رشتہ دار ہے جو انہیں کچھ نہیں کہتا۔

اب دیہاڑی کب ملے گی آج یا کل بالکل نہیں۔۔ پورے تین ماہ بعد اور جب دیہاڑی کراس چیک کی صورت میں ملتی ہے تو بے چارہ فنکار بھاگ بھاگ کر جب بینک پہنچ جاتا ہے تو وہاں پر پہلی فرست میں بینک چارجز 300 روپے کاٹے جاتے ہیں۔

10 دن کی دیہاڑی مہینے میں کیٹیگری کے حساب سے 3000سے لیکر7000 تک بنتے ہیں جسکے بعد ملے دیہاڑی چیک سے اور چارجز کاٹنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ، ہر چیک پر 300 روپے بینک چارجز اور 20 فیصد ٹیکس نکال کر کیا بچتا ہے؟

ماہانہ آمدن 7 ہزار تک اور اخراجات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس میں سے گھر کا کرایہ بجلی گیس اور بچوں کی سکول فیسیں کہاں سے اور کیسے پوری کریں۔ یہ وہ فنکار لوگ ہیں جو ہمیشہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہیں۔ یہ وہ فنکار ، صدا کار، اداکار اور وہ براڈکاسٹر ہیں جنہوں  نے کھبی  نہ احتجاج کیا اور نہ ڈیوٹی سے انکار

عمران خان صاحب اپ اور اپکے وزیر اعلی صاحب کہتے ہیں کہ ملازمین بچوں کی طر ح ہوتے ہیں اور حکومت ماں کی مانند توکیا حکومت صرف ملازمین کی ماں ہے جو کام ان فنکاروں سے لیا جاتا ہے انکی دادرسی حکومتی سطح پر کیوں نہیں ہو تی؟

اگر اپکے بچوں یعنی سرکاری ملازمین کی لاکھوں کی تنخواہوں پر گزارہ نہیں ہو تا تو ان غریب ارٹسٹ و براڈکاسٹرز کا گزارا اتنے کم معاوضے میں کیسے ہو گا؟

وزیر اعظم صاحب اپ کی تنخواہ بھی تو لاکھوں میں ہے اور اپ کا گزرا بھی اس پر نہیں ہو تا تو ایک فنکارکاتین ہزار رو پے سے 7000 روپے تک120 قسم کے ٹیکس کاٹ کر کیسے ہو گا؟

اوریہ کہاں کا انصاف ہے ؟

آپ کی حکومت نے وفاقی اداروں سے سینکڑوں کنٹریکٹ ملازمین کو نکال کر بہت اچھا کیا کیونکہ اس میں اپکے بچوں یعنی سرکاری ملازمین سیاسی اور بااثر افراد نے اپنے ایسے لوگوں کو بھرتی کیا تھا جن کا تنخواہ کے پیسوں کی گنتی کے سوا کوئی کام نہ تھا۔

پر ان بیچاروں کا کیا قصور تھا جنہوں نے 15 سال تک ان ادارروں کی خدمت چند روپوں کی خاطر اس لئے کی تھی کہ اس خدمت کے بدلے میں انکی نوکری مستقل ہو جائیگی انکو بھی آپ نے نکال دیا ۔

خان صاحب اپکی حکومت ظلم بھی کمال کی کرتی ہے۔ مظلوم کو ظلم کا نشانہ بنا کر خاک کر دیتے ہو اور ظالموں میں گنتی کے کچھ لوگوں پر چھری پھیر لیتے ہو باقی اللہ اللہ خیرصلا

بدقسمتی سے آپ کی حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طر ح ایک انکھ کی بینائی سے محروم ہے۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب ریڈیو،ٹی وی اور سٹیج کی فنکار برادری اپنی عزت کی خاطر آج احتجاج کر نے سڑکوں پر نہیں اسکتے

وہ پولیس کےڈنڈوں کی صورت میں حکومت کی ظلم نہیں سہ سکتے۔اگر موجودہ حکومت انکے معاوضے ذیادہ نہیں کر سکتے تو ان معاوضوں میں جو کٹوتی ہو تی اسکو تو روک سکتے ہیں

وفاقی وزیر اطلاعات صاحب کے حکم پر فنکاروں کی معاوضے کی ادائیگی کا پرانا طریقہ بحال کر کے ان پر ایک احسان تو کر سکتت ہیں تاکہ انکی مزدوری سے 300 روپے کی بینک چارجز بینک کی بجائے انکے جیب میں ائے

باقی وزیر اعلی خیبر پختونخؤا محمود خان نے دیہاڑی دار مزدور کی ماہانہ اجرت کم از کم 21000 کرنے کا اعلان پہلے سے کردیا ہے فنکار برادری کے لئے انصا ف کی حکومت نئے بجٹ میں کیا سوچ بچار کررہی ہے اس کا عملی مظاہرہ بھی چند دنوں میں دیکھنے کو مل جائے گا

 

Translate »