آزادی ڈیسک


بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ میں واقع ایک فیکٹر ی میں آگ بھڑکنے کے نتیجے میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 60 کے قریب ہو چکی ہے ،جبکہ 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے

پولیس کے مطابق کھانے پینے کے اشیاء کی فیکٹری میں جمعرات کے روز آگ بھڑک اٹھی تھی ،ابتدائی طور پر فائربریگیڈ اور پولیس نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ۔

تاہم مقامی ٹی وی چینل نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ چھ منزلہ عمارت میں آگ پر 24 گھنٹے بعد بھی قابو نہیں پایا جاسکا ہے ،جس کے نتیجے میں اموات میں اضافے کا خدشہ ہے
کیوں کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آگ لگنے کے وقت فیکٹری میں کتنے لوگ موجود تھے

فیکٹری کے دروازے اندرسے بند ہونے کی وجہ امدادی کارکنوں کو عمارت تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہا


یہ بھی پڑھیں

  1. ہندوستان کشمیریوں کےخلاف ریاستی جبر کا سلسلہ بند کرے ،میرواعظ عمر فاروق
  2. الوداع …….افغانستان کو فوج سے فتح نہیں‌کرسکتے ،جوبائیڈن
  3. افغانستان کی مائوں کا دکھ
  4. افغان فوج کے سپاہی فرار ہونے لگے ،بعض‌ شہروں‌ میں‌ صرف پولیس مزاحمت کررہی ہے

ابتدائی طور پر پولیس نے 3 اموات کی تصدیق کی ،تاہم امدادی کارکنوں کی دوسری اور تیسری منزل تک رسائی کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی گئی ،جہاں آگ لگنے کے نتیجے میں بہت سے فیکٹری مزدور جمع تھے ،جبکہ 17 کے قریب لاشوں کو نکال کر ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے

پولیس افسر شیخ کبیرالاسلام نے میڈیا کو بتایا کہ بالائی منزلوں سے چھلانگ لگانے کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں

بند دروازے امدادی کاموں میں رکاوٹ

فیکٹری کی چھت پر موجود 25 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا،دوسری جانب محکمہ شہری دفاع کے حکام نے کہا ہے کہ جب تک آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جاتا ،اموات اور زخمیوں کی حقیقی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا

حادثہ میں بچ نکلنے والے ایک کارکن محمد سیف نے میڈیا کو بتایا کہ تیسری منزل پر دروازے اور سیڑھیوں بند تھیں ،جبکہ لوگ بتارہے تھے وہاں 48 لوگ موجود تھے ،مجھے نہیں معلوم کہ ان کیساتھ کیا ہوا ہوگا؟

دوسری جانب متاثرہ فیکٹری کے باہر مزدوروں کے عزیز واقارب اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہونے کی وجہ سے امدادی کاروائیوں میں بھی رکاوٹ پیش آرہی تھی ،جبکہ بعض مقامات پر ہجوم پر قابو پانے کیلئے پولیس کو لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا

Translate »