عائشہ کرامت بی اے ,ایف سیون فور پوسٹ گریجویٹ مارگلہ کالج اسلام آباد

زبان کسی بھی ملک و قوم کی پہچان ہوتی ہےاوراسکی شان ہوتی ہے۔زبان کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسان کی اپنی تاریخ۔تقریباپچاس سال قبل انسان نے اپنے وجودکےوقت سے زبان کا استعمال شروع کیا۔ہاں مگر اسکےطورطریقےالگ تھے۔پہلےانسان آواز کی زبان استعمال کرتاتھاپھراشاروں کی زبان وجود میں آئ،پھراس کے بعدتصاویرکی زبان استعمال ہوئی۔زبان شناخت کا زریعہ ہوتی ہےاوردوسری قوموں میں منفردبناتی ہے۔ہماری زبان ‌‌مسلمانان ہندکاعظیم ورثہ ہےاس میں مسلمانوں کی ہزاروں ںسالہ تاریخ،تہزیب وثقافت کےعلاوہ دینی سرمایہ محفوظ ہے۔اسلۓاردوزبان مسلمانوں کےلۓبہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت پاکستان کو بےپناہ مسائل کا سامنا تھا اسمیں ایک مسئلہ قانون سازی کا بھی تھاکہ پاکستان میں آئین کس نوعیت کا ہو گا۔اس حوالے سے قائداعظم نے فرمایا:
“مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہیکہ پاکستان کا طرزحکومت کیا ہوگا۔پاکستان کےطرزحکومت کا تعین کرنیوالامیں کون ہوتا ہوں۔مسلمانوں کا طرزحکومت آج سےتیرہ سوسال قبل قرآن کریم نےوضاحت کے ساتھ بیان کردیاتھا۔الحمداللہ قرآن مجیدہماری رہنمائ کےلۓموجودہےاورقیامت تک موجود رہےگا۔”

قائداعظم ‌نے پاکستان بننے سےپہلے ہی بتا دیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہی ہو گی۔ لیکن بدقسمتی سے انکے ارشادات صرف کتابوں کی زینت ہی بن کر رہ گۓ۔۱۸۳۵سےانگریزنے جو فارسی زبان ختم کر کے انگریزی زبان کو سرکاری زبان بنایا تھا وہی سلسلہ آج بھی چل رہا ہے۔

جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت زبان کامسئلہ سرفہرست تھا۔لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کےایک سال بعدہی قائداعظم کی وفات سے مسلمانوں کو زبردست دھچکالگا۔کیونکہ قائداعظم ہی ایک ایسی شخصیت تھے جن پرمسلمان اندھا اعتمادکرتے تھے۔


یہ بھی پڑھیں


حالانکہ قیام پاکستان سے قبل ہی قائد مسلسل فرماتے رہے تھے کہ قومی زبان صرف اورصرف اردو ہوگی۔تو پھرآج انگریزوں کےوفادار جنھوں نے پاکستان کی آزادی میں ایک تنکا برابر بھی کوئی قربانی نہیں دی وہ آج انگریزی زبان کوسرکاری زبان بناۓ ہوئے ہیں اور اس فعل پہ بلکل بھی شرمندہ نہیں ہیں۔حالانکہ وہ قائداعظم کو اپنا آئیڈیل خیال کرتے ہیں وہ انکے فرمان کو بلکل نظرانداز کررہےہیں۔

باباۓاردومولوی عبدالحق روایت کرتےہیں

مسلم لیگ کونسل کےاجلاس میں جودہلی میں ہورہاتھا۔سرفیروزخاں نون نےاپنی تقریراپنی محبوب زبان انگریزی میں شروع کی تو ہرطرف سےشوروغل ہوااردو،اردو‌۔اس سے مجبور ہو کرانھوں نے کچھ جملے اردو میں ارشاد فرماۓ اورپھرانگریزی میں بولنے لگےاس پرپھر اردواردو کا شوربلندہوا،

تب آپ نے جل کرکہاکہ”مسٹرکسی نے ہمارے حالات نہیں بدلنے۔آج ہم تباہی کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔اسکے زمہ دار ہم خود ہیں۔ہم بھٹک گۓ ہیں۔اگر ہم حقیقت میں اپنےحالات بدلنا چاہتے ہیں تو اسکے لۓہمیں عمل کی طرف بڑھنا ہوگا ۔اور حکومت وقت کی توجہ اس طرف کروانا لازم ہے کہ اردو زبان کو قومی و سرکاری زبا‌ن بنایا جاۓ۔

اگر ہم دوسری قوموں کو دیکھیں تو ایسا کسی ملک میں نہیں ہوگا کہ کسی دوسرے ملک کی زبان کو اپنایا گیا ہو۔اسکااندازااس بات سے لگایاجاسکتا ہیکہ فرانس میں تحریروتقریرمیں ایسےانگریزی الفاظ کااستعمال قا‌نون کی رو سےجرم ہے۔جنکےمتبادل الفاظ فرانسیسی زبان میں موجود ہوں۔

یہی صورتحال ہمارےپڑوسی ملک ایران میں بھی ہے۔جہاں تحریر و تقریرمیں انگریزی الفاظ کےاستعمال سے گریز کیا جاتاہے۔جاپانی اور چینی بھی اپنی اپنی قومی زبانوں کو ہی فوقیت دیتےہیں۔انگریزی زبان پر عبوررکھنے کے باوجودہی اپنی زبان بولنےمیں فخرمحسوس کرتےہیں۔اور ہم خود کو دیکھیں اپنی روایات بھولے بیٹھے ہیں ۔اب ہم انگریزی زبان بولنے میں فخر محسوس کرتےہیں اوراپنی زبان بولنے سے اکثرگریز کرتے ہیں۔

ہم صرف نظریاتی طور پر تبدیلیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔اسکے لۓ ہمیں عمل سے گزرنا ہوگا۔اسکے لۓہمیں خود ہی محنت اور کوشش کرنی ہے۔ہمیں خود آگے بڑھنا ہے۔قائداعظم نے کیا خوب فرمایاہے:بچو! مت انتظار کرو کسی قائداعظم کا۔میں ‌نہیں آسکتااب۔ہمت کرو۔آخرکب تک یونہی انتظارکرتے رہوگے۔اب تم بڑےہوگئے ۔یہ ذمہ داری تمہی کو نبھانی ہے۔صاف کرواس گھرکو ہرگندگی سے۔”تو اب جو کچھ کرنا ہے وہ ہمیں ہی کرنا ہے۔ہر بار کوئ ہمیں مشکلوں سے نکالنے کے لۓ نہیں ائیگا۔ہمیں اب خود ہی اپنے لۓ راستے ڈھونڈنے ہیں۔اسکےلۓہمیں ملجل کر کام کرنا ہوگا۔

قائداعظم نےفرمایا:
“جب کسی قوم کا بچہ بچہ ایک ہی بات سوچنے لگےتودنیاکی بڑی سے بڑی طاقت اوردنیا کابڑےسےبڑاظالم بھی اس قوم کو اسکاحق حاصل کرنے سےنہیں روک سکتا”

اگر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو ہمیں یہ دیکھنے میں ملے گا کہ جب جب قومیں متحد ہوئیں وہ ضرور اپنے مقاصد میں کامیاب و کامران ٹھریں۔اگر ہم آج ایک ہو کر اردو زبان کو قومی و سرکاری زبان بنانے کےلۓ اقدام کریں تو کیا ہم کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

۲اپریل۱۹۴۴کو لاہورمیں جلسہ عام سے خطاب کرتےہوۓ قائداعظم نےفرمایا:
یہ ہیکہ یہ وزراءآپکےخادم ہیں۔جبکہ اصل مالک آپ ہیں۔اگریہ اپنی زمہ داریوں کااحساس نہ کریں تو آپ انھیں وزارت کی گدیوں سے اتارسکتے ہیں۔”

اب اگرہمارے حکمران زمہ داریوں سے دور ہیں تو ہمارا یہ فرض ہیکہ ہم انھیں انکی زمہ داریوں کا احساس کروائیں۔ہم خاموش تماشائ نہ بنیں۔اور صرف دوسروں کو ہی ملک کی کامیابیوں کا زریعہ نہ سمجھیں بلکہ خود بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »