فرید ارسل

قائدِاعظم ؒ اپنی سیاسی بصیرت اور قانونی علمیت کے ساتھ ساتھ قومی زبان اُردو کی اہمیت و افادیت سے باخوبی آگاہ تھے۔ ان کی سوچ محض تشکیلِ پاکستان تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے بارے میں بھی سوچ بچار کرتے تھے۔ ان کی دُور اندیشی اور مستقبل شناسی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج اُردو ہماری قومی زبان ہے۔

قائدِاعظم ؒ کا تصورِقومی زبان روزِ روشن کی طرح عیاں تھا جس کی خاص بات یہ تھی کہ وطنِ عزیز میں بدیسی زبانوں کی بالا دستی کی وجہ سے قوم کے نوجوان اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔اس لیے انھیں ایک الگ قومی زبان کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنی تاریخ، تہذیب اور اسلام کے سُنہری اصولوں کو بہترین انداز میں سمجھ کر عمل پیرا ہونے کے قابل ہو جائیں۔

ریاست کے ہر شہری کو بلا تفریق اور بلا اِمتیاز اپنی قومی زبان پہ دسترس حاصل ہوگی اور وہ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو نشوونما دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہو گا۔افسوس قیامِ پاکستان کے بعد سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قائدِاعظم ؒ کے تصورِ قومی زبان کو عوام کی نظروں میں متنازع اور مشکوک بنا دیا گیا۔ امریکہ اور برطانیہ اپنے سامراجی مفادات کے تحت نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان کی ریاست تہذیبی اور فکری طور پر بھی آزاد اور خودمختار بن جائے اور اس کے شہری تعلیم یافتہ اور باشعور ہوں۔

قائدِاعظم ؒ کے تصورِ قومی زبان کے بارے میں پیچیدگی پیدا کرنے کے لیے انگریزی کی ضرورت پر بحث شروع کرادی گئی جو کہ 75 سال گزرنے کے بعد آج بھی جاری ہے۔

قائدِاعظم ؒ کی تقاریر و بیانات پر مبنی کتابچہ ارشاداتِ قائدِاعظم ؒ کی روشنی میں آپ کے تصورِ قومی زبان اُردو کو ذیل میں پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق قائدِاعظم ؒ نے 21 مارچ 1948 میں ڈھاکہ کے مقام پر قومی زبان اُردو کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: “میں آج آپ پر واضح کردوں کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور کوئی زبان نہیں۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی گمراہ کرتا ہے تو وہ پاکستان کا دشمن ہے۔” اس خطاب میں آپ نے نفاذِ اُردو کا بنیادی خاکہ پیش کیا جس کو دانستہ طور پر متنازع بنا دیا گیا اور بلا خوف و تردد اس سے انحراف کیا گیا کیونکہ پاکستان دشمن عناصر ہمیں مشترکہ زبان کی نعمت اور اُردو کو اس کے جائز حق سے محروم کرنا چاہتے تھے۔

اس لیے آپ نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں جو بیان فرمایا وہ ارشاداتِ قائدِاعظم ؒ میں کچھ اس طرح سے تحریر کیا گیا ہے کہ “دیگر اقوام کی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی اور کام کر سکتی ہے۔پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے تو وہ صرف اور صرف اُردو ہی ہو گی۔” قائدِاعظم ؒ کے اس قیمتی فرمان سے انحراف کر کے ہم ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کر چکے ہیں۔ انگریزی زبان کو غیر ضروری ترجیح دینے کی وجہ سے قومی تنزلی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اگر تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ جب بھی دوسروں کی زبان اختیار کی گئی اس کے افسوس ناک نتائج سامنے آئے۔ انگریزی زبان کے جبری تسلط کی وجہ سے پاکستانی قوم تعلیمی اور تربیتی سطح پر احساسِ کمتری کا شکار ہو چکی ہے۔ان تجربات اور مشاہدات کے باوجود ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔

قائدِاعظم ؒ پاکستان میں قومی زبان کی حکمرانی کے خواہش مند تھے۔ ارشاداتِ قائدِاعظم ؒ کے مطابق 21 مارچ1948ء میں ڈھاکہ کے خطاب میں قائدِاعظم محمدعلی جناح ؒ نے اُردو زبان کو قومی زبان قرار دیتے ہوئے حکم جاری فرمایا: “پندرہ سال کے اندر اندر اُردو کو ہر شعبۂ زندگی میں انگریزی کی جگہ نافذ کیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ کسی بھی قوم کی ترقی و خود مختاری اور اتحاد کے لیے ایک مشترکہ قومی زبان ضروری ہوتی ہے اُردو برصغیر کی واحد زبان ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔”

پاکستان کا ماضی گواہ ہے کہ ہم نے قائدِاعظم ؒ کے اس بنیادی اصول پہ عمل نہیں کیا جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے اگر قومی زبان کا نفاذ عمل میں لایا جاتا تو آج پاکستانی قوم انگریزی کی شان وشوکت سے متاثر نہ ہوتی بلکہ اپنی زبان کی بدولت ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکی ہوتی۔ قائدِاعظم ؒ ہمیشہ اُردو زبان کو قومی اور دفتری زبان کا درجہ دینا چاہتے تھے تاکہ پاکستانی قوم بین الاقوامی طور پر اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوسکےاور اپنے ثقافتی ورثے کا عملی مظاہرہ کر سکے۔

انگریزی بولنے والے زبان کی بنیاد پر عوام کا استحصال نہ کر سکیں۔ بڑے دُکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہم قومی زبان نافذ کرنے کے لیے قائدِاعظم ؒ کی اس خواہش کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ صورتِ حال اس قدر ابتر ہو گئی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ قومی زبان اُردو کے نفاذ کے لیے باقاعدہ طور پر فیصلہ دے چکی ہے مگر اس فیصلے پر عمل درآمد نہ کر کے ہم مسلسل توہینِ عدالت کر رہےہیں کیونکہ سٹیٹس کو کی حامی قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان کے عوام ان کی بالا دستی سے نجات حاصل کر سکیں۔

قائدِاعظم ؒ پاکستان کے تمام شعبہ جات میں اُردو زبان کا نظام تشکیل دینا چاہتے تھے تاکہ پاکستان کے ہر شہری کو باہمی رابطے میں آسانی ہو مگر افسوس کہ آج بھی پاکستان پر انگریزی نظام نافذ ہے۔جس کی وجہ سے ہر جانب انگریزی کا طوطی بولتا دکھائی دیتا ہے۔اُردو زبان اب چھپی دبی نظر آتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دوسری طرف انگریزی زبان پہ دسترس رکھنے والوں کو ذہین تصور کیا جاتا ہے۔ یعنی ذہانت کا معیار انگریزی زبان سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔

انگریزی سیکھنے کی دوڑ میں ہم اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ ہر چوک چوراہے پر انگریزی زبان کے مراکز قائم ہوچکے ہیں جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ہم قومی زبان اُردو سے بالکل ناآشنا ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ انگریزی زبان کبھی بھی کامیابی اور بہترین شخصیت کا آئینہ دار نہیں ہو سکتی۔ جس قوم نے بھی خود کو ترقی کی منازل سے ہم کنار کیا اسے اپنی زبان میں کمال حاصل تھا اور اسی کے فروغ میں ہمیشہ کوشاں رہی۔مثال کے طور پر چین،جرمنی اور جاپان اپنی قومی زبان کی ترویج و اشاعت کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں

کیونکہ قوموں کی ترقی کے رازوں میں ایک راز قومی زبان بھی ہے۔اگر ہم عظمتِ رفتہ کی بازیابی چاہتے ہیں تو ہمیں قائدِاعظم ؒ کے فرمودات کی روشنی میں اُردو زبان کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔ایک طالبِ علم سے کسان تک اور مزدور سے وائس چانسلر تک سب کو منظم جدوجہد کا مظاہرہ کرنا پڑے گا تاکہ نفاذِ اُردو کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہو سکیں کیونکہ قومی زبان ہی قومی یک جہتی اور ترقی کی علامت ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »