مسرت اللہ جان


السلام علیکم!
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیریت ہونگے اور آپ تبدیلی کے نام پر آنیوالی حکومت میں وفاقی وزیر کی حیثیت سے لطف اندوز بھی ہو رہی ہونگی. حالانکہ اٹھارھویں ترمیم کے بعد آپ کی وزارت کی کوئی قانونی حیثیت ہی نہیں اور جس حکومت میں آپ سپیکرتھیں اسی حکومت میں سارے اختیارات صوبوں کے حوالے کئے گئے تھے

لیکن چونکہ ابھی آپ دوسری حکومت میں ہیں اس لئے اپنی سابقہ حکومت کی قانون کی آپ خود خلاف ورزی کررہی ہیں. لیکن چونکہ آپ ابھی یہاں آپ وفاقی وزیر ہیں اس لئے آپ کو پاکستان سپورٹس بورڈ کوچنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر میں ہونیوالی بے قاعدگیوں کے بارے میں آگاہی دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں .

کھلاڑیوں کو کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی پی ایس بی کا کام ہے. لیکن پی ایس بی پشاور کی انتظامیہ پسند و ناپسند کی بنیاد پر مختلف کھیلوں کیساتھ”ریپ ” والا عمل کررہی ہیں . جس سے امکان ہے کہ اگلے آنیوالے دس سالوں میں پی ایس بی سے مشکل ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی کسی بھی کھیل میں نمایاں طور پر نکل سکے .

محترمہ وفاقی وزیر صاحبہ !

لگ بھگ آٹھ کروڑ روپے کی ری نویشن کا عمل پی ایس بی پشاور کوچنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر میں شروع کردیا گیا ہے حیران کن امر یہ ہے کہ ٹینڈر تو جاری کیا گیا مگر کنٹریکٹر رو رہا ہے کہ مجھے کوئی ادائیگی نہیں کی گئی اور میں "اپنے پلے ” سے کام کررہا ہوں.

اگرچہ اپنے پلے سے اس دور میں کوئی کام نہیں کرتا لیکن حقیقت کیا ہے اس کا اندازہ آپ کو اور پی ایس بی اسلام آباد ہیڈ کوارٹر کی ڈائریکٹر جنرل کرنل ریٹائرڈ آصف زمان کو ہی ہوگا.

سوال یہ ہے کہ آج سے کم و بیش پندرہ سال پہلے اسی لاکھ روپے بھی ری نویشن کے نام پر پی ایس بی پشاور کی بلڈنگ پر اڑا دئیے گئے اور اب تقریبا آٹھ کروڑ روپے بجٹ منظور ہونے کے بعد پرانے ” مال”میں سے خرچ کرنے کیلئے لگائے جارہے ہیں


یہ بھی پڑھیں


لیکن یہ ری نویشن کس طرح کی جارہی ہیں. پندرہ سال پہلے پی ایس بی پشاور کے ہاسٹل کی الماریاں توڑ کر باتھ رومز بنا دئیے گئے تھے اور اب یہی باتھ رومز توڑ کر عوامی ٹیکسوں کا پیسہ اڑایا جارہا ہے . مزے کی بات تو یہ ہے کہ جس طرح پی ایس بی کی کارکردگی ہے اسی طرح کے انجنیئرز بھی آپ لوگو ں نے بھرتی کئے ہیں .

سیم و تھور ختم کرنے کیلئے چھت کے اوپر سریا ڈال کر نئی چھت ڈالنے کی منطق آج تک سمجھ میں نہیں آئی .جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ صرف ” پی ایس بی مال اڑائو” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے.

کم و بیش ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہوا ہے پی ایس بی پشاور کی صدر میں واقع خیبر سپر مارکیٹ کی جانب باونڈری وال گر چکی ہیں اور یہ سیکورٹی تھریٹ بن چکی ہے کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے ‘

خدانخواستہ دیوار کے اندر چلتے پھرتے دہشت گردی کا واقعہ ہوسکتا ہے اور اس سے نہ صرف ملازمین کے کوارٹر متاثر ہونگے بلکہ صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ اور اس میں کھیلنے والے کھلاڑی بھی خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں

لیکن باعث حیرت امر یہ ہے کہ انتظامیہ نے گری ہوئے باونڈری وال کی تعمیر کے بجائے ہاسٹل میں ری نویشن کے نام پر توڑپھوڑ کا کام شروع کردیا ہے.جس سے اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ پی ایس بی انتظامیہ کو سیکورٹی سے کوئی غرض نہیں .

دوسری طرف سیکورٹی اداروں بشمول پولیس کی اس معاملے میں خاموشی بھی معنی خیز ہے . کیا ایک چوکیدار جوچارپائی پر لیٹ کر ڈیوٹی انجام دیتا ہے . اس خطر ے کو ختم کرسکتا ہے.

جناب فہمیدہ مرز ا صاحبہ !

اسلام آباد ہیڈ کوارٹر کے مسائل اسلام آباد والے ہی جانیں ‘ لیکن پشاور میں واقع کوچنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر کھلاڑیوں کوسہولیات کی فراہمی کیلئے بنایا گیا ہے لیکن یہاں تو پرائیویٹ کوچنگ کے نا م پر کھلاڑیوں سے پیسہ بٹورنے کا کام جاری ہے سکواش کے کھیل سے لیکر ویٹ لفٹنگ کے پرائیویٹ جیم تک صرف رقم کمانے کا کام ہی پی ایس بی کو آتا ہے.

کیا ری نویشن کے نام پر آنیوالے کروڑوں روپے کے فنڈز پر جمنازیم سمیت پی ایس بی میں سولر سسٹم انسٹال نہیں کیا جاسکتا کہ بجلی اور یوٹیلٹی اخراجات لاکھوں روپے کے آتے ہیں اور پی ایس بی کی کھڑی سوزوکی پر ہر ماہ مینٹیننس کے نام پر لاکھوں روپے نکلوائے گئے .کیا یہ بات زیر غور نہیں.

والی بال کے کھلاڑیوں کی اکیڈمی پر پی ایس بی پشاور کی انتظامیہ نے پابندی عائد کی تھی اور دو سال سے والی بال کے کھلاڑی خوار ہورہے ہیں حالانکہ والی بال کے یہی کھلاڑی پاکستان کے سینئر اور جونئیر کھلاڑیوں کی ٹیم میں شامل ہیں

اور خیبر پختونخواہ سے اچھے کھلاڑی والی بال کے کھیل میں نکل چکے ہیں لیکن پی ایس بی پشاور کی انتظامیہ نے سپورٹس ڈائریکٹریٹ سے والی بال کی مد میں ” براہ راست” کیش ادائیگی کا مطالبہ کیا جو کہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے نہیں مانا اور انہیں کہا گیا کہ فنڈز اکائونٹس کے ذریعے دئیے جائیں گے

تبھی پی ایس بی پشاور کی انتظامیہ نے دو سال سے والی بال کے تربیتی سیشن پر پابندی عائد کی ‘ جس پر کھلاڑیوں نے احتجاج بھی کیا اورپشاور سے تعلق رکھنے والے ڈائریکٹر جنرل کرنل ریٹائرڈ آصف زمان نے کھلاڑیوں کی یقین دہانی کرائی تھی کہ انہیں کھیل کے مواقع فراہم کئے جائیں گے . لیکن یہ موقع کب آئیگا؟

اللہ ہی جانے…

محترمہ ! جس طرح پی ایس بی ہیڈ کوارٹرمیں کئی سال بعد ڈی جی تعینات کیا گیا اسی طرح پشاور میں بھی کئی سالوں سے سکواش کے کوچ کو قائم مقام ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے جس کے پاس پی ایس بی کی نگرانی کے اختیارات تھے ‘

لیکن یہ کیسے اختیارات ہیں کہ ایک ہال جس میں ٹیبل ٹینس کے بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی کھیل رہے تھے کو نکال کر اس میں پرائیویٹ جیم کھول دیا گیا اور ابھی تیس ہزار روپے میں پرائیویٹ ممبران سے ہزاروں روپے وصول کئے جارہے ہیں

جبکہ اس کی بجلی کے بل سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ ادا کررہا ہے.اور کرایہ پی ایس بی حاصل کررہا ہے ‘ سوال یہ ہے کہ یہ کس قانون کے تحت پرائیویٹ افراد کو دیا گیا ‘ کیا پی ایس بی نے کھیلوں اور کھلاڑیوں کو سہولیات کی فراہمی کا اپنا نعرہ تبدیل کیا ہے یا پھر رقم کمائو کا نیا نعرہ شروع کیا ہے.

محترمہ وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ وزارت..

پی ایس بی پشاور کو کی جانیوالی رقوم کی ادائیگی مخصوص اکائونٹس کے ذریعے بینک کے ذریعے کی جاتی ہیں لیکن یہ کونسا قانون ہے کہ پی ایس بی پشاور کے قائم مقام ڈائریکٹر نے سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ مارچ 2020 ‘ اوراسی سال اکتوبر نومبر میں پچاس ہزار ‘ تیس ہزار اور بیس ہزار روپے کی رقم جو کہ لگ بھگ ایک لاکھ بنتی ہیں کس کھاتے میں اپنے بینک میں جمع کروائے

اور و ہ بھی اس بہانے سے کہ پی ایس بی کا اکاونٹ نہیں ‘ کیا یہ غیر قانونی عمل نہیں ‘ یہ وہ رقم ہے جو ریکارڈ پر ہے اس میں اور کتنے گھپلے ہوئے ہیں اس کا اندازہ شفاف انکوائری سے ہی ہوسکتا ہے.

پی ایس بی کھیلوں اور کھلاڑیوں کی سہولیات کی فراہمی اور مثبت سرگرمیوں کیلئے وفاقی ادارہ ہے ‘ لیکن کیا اس کے ملازمین کے میڈیکل ٹیسٹ کئے گئے ہیں کہ کون کون ” کس قسم کی منشیات بشمول آئس” کے استعمال کا رسیا ہے

اور یہاں آنیوالے کھلاڑی کس طرح کا تاثر لیں گے اور کیا انہیں والدین مثبت سرگرمیوں کیلئے بھیجتے ہیں یا منفی سرگرمیوں کیلئے ‘ اس بارے میں انکوائری کرنا اور ذمہ داروں کو گھر بھیجنے سمیت ان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج آپ کی ہی وزارت اور اس کے زیر انتظام پی ایس بی ہیڈ کوارٹر کی ذمہ داری ہے.

مختلف کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں پر پر پی ایس بی پشاور کی انتظامیہ سے پابندی عائد کرنا ان حالات میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ پی ایس بی پشاور کی انتظامیہ کو صرف اپنے اپنی تنخواہوں اور ہر ماہ میڈیکل بلوں کا غم کھائے جاتا ہے انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کھیل اور کھیلوں سے وابستہ افراد کس حال میں ہیں اور اب تک کتنے کھلاڑی صرف ا س سنٹر نے پیدا کئے .

آرچری ایک واحد کھیل ہے جس میں ایک خاتون ذاتی حیثیت میں خیبر پختونخواہ کے کھلاڑیوں کو تربیت فراہم کررہی ہیں ‘اور یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ اسی کلب میں پی ایس بی پشاور کے ملازمین سمیت ان کے بچے بھی کھیلتے ہیں اور صوبائی اور وفاقی سطح کے مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتے ہیں مگر اس کھیل پر بھی پابندی عائد کی جارہی ہیں. کیا یہ ظلم نہیں..

محترمہ فہمیدہ مرزا صاحبہ!

لکھنے کیلئے بہت سا مواد ابھی بھی موجود ہے مخصوص افراد کے رشتہ دار سکواش کے کھلاڑیوں کیلئے ائیر کنڈیشنڈ کھولنے سمیت کھلاڑیوں سے یہ مطالبہ کرنا کہ ” پی ایس بی پشاور کے ملازمین پر سموسے و پکوڑے” کھلائیں اور مزے کریں اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ پی ایس بی پشاور کے ملازمین کا قبلہ صرف اپنا پیٹ ہی ہے.اور جب پابندیوں کے حوالے سے بات کی جاتی ہے کہ اسلام آباد ہیڈ کوارٹر سے تحریری طور پر کچھ دکھادیں تو پھر کچھ نہیں ہوتا..

اس سے قبل ٹیبل ٹینس کے کھلاڑیوں نے احتجاج کیا ‘ پھر والی بال کے کھلاڑیوں نے احتجاج کیا اور اگر یہی حالات رہے تو امکان ہے کہ انے والے دنوں میں آرچری کے کھلاڑی بھی احتجاج ہی کرینگے.

ان حالات میں اگر آپ کچھ کرسکتی ہیں تو صرف پاکستان کے قومی پرچم کی سربلندی اور کھیل اور کھلاڑیوں کی بہتری کیلئے اٹھائیں . ورنہ جس طرح دیگر وزیر آکے گزر گئے آپ کا بھی آنیوالا وقت میں ذکر خیر نہیں ہوگا…

شکریہ

والسلام  ایک خیر خواہ

Translate »