0 0
Read Time:6 Minute, 18 Second
عظمیٰ غفور
عظمیٰ بنت عبدالغفور۔

ہماری پہچان اردوزبان

زبان کسی بھی ملک کے قومی شعور، فکرو تخیل کی امین ہوتی ہے۔قومی زبان کسی بھی قوم کے وقار و عظمت کی پہچان ہوتی ہے۔کسی بھی قوم کی زبان کا علمی ادب اس قوم کی ثقافت،تہذیب،ملت اور کامیابی کا نتیجہ ہے۔زبان اظہار کا ذریعہ اور تشخص کی ترجمان ہوتی ہے۔کسی بھی ادبی قوم کیلئے اس کا اپنی زبان سے محبت اور عقیدت کا ہونا بہت ضروری ہے۔قومی زبان سے انحراف کسی صورت بھی جائز نہیں ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور قائد اعظم کی انتھک محنت سے یہ پیارا ملک پاکستان (پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ)ملا۔ اور ہمیں ایک بہترین اور بامعنی قومی زبان اُردو ملی۔اردو کو بحیثیت قومی زبان قبول کرنا ہماری قومی ضرورت ہے۔

اردو کا اِرتقاء کئی زبانوں کہ زِیر اثر ہوا ہے جن میں عربی،فارسی،لاطینی اور ترکی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ جدید اردو میں اب انگریزی کہ الفاظ بھی شامل ہو چکے ہیں۔اردو زبان نے دیگر زبانوں کی اصطلاحات اور مرکّبات کو اتنی خوش اسلوبی سے قبول کیا جیسے یہ اس کی اپنی ہوں۔اُردو بہت سے رسم الخط میں لکھی جا سکتی ہے پر زیادہ مقبول خط نستعلیق ہے۔اردو 37 حروف تہجی پر مشتمل دائیں سے بائیں لکھی جانے والی زبان ہے۔
اردو ترکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے لشکر اسے لشکر کی زبان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ سکندر اعظم نے 336 ق م میں برصغیر پرحملہ کیا اس کے لشکر میں بہت سے خطوں سے سپاہی اور جنگجو شامل تھے۔ مختلف زبانوں کے سپاہیوں پر مشتمل یہ لشکر جو برصغیر پاک وہند میں آ کر آباد ہوا ان سب کی زبانوں سے نکلے مختلف لفظوں سے افہام و تفہیم کیلیے یہ نئی زبان وجود میں آگئی جو سب کیلیے قابل قبول تھی اور سب زبانوں کا مجموعہ تھی-شروع میں ہر زبان رد ہوتی ہے لیکن اس نئی زبان اردو کو قبول کر لیا گیا۔

ماہرین لسانیات کے مطابق زبان کے لسانی پیکر کے اندر بولنے والے کا سارا تہذیبی مغز موجود ہوتا ہے-آج تک دنیا کی کسی بھی قوم نے اس وقت تک ترقی نہیں کی جب تک اس نے اپنی زبان کو ہر شعبہ میں ذریعہ اظہار نہیں بنایا-ایک مشترکہ سرکاری زبان کہ بغیر کوئی بھی قوم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ہماری تاریخ میں حضرت آدم ؑسے لے کر حضرت محمد ﷺ تک سب انبیاء ؑ  اپنی زبان کو منجملہ مقاصد کیلیے استعمال کیا تبلیغ و تدریس سے لیکر معاشی اور جنگی محاذوں تک اپنی ہی زبان کا استعمال کیا دوسری زبان کا سہارا کبھی نہیں لیا-اور ترقی کہ مدارج طے کرتے رہے-

ہمارے دین میں مختلف ممالک کی زبانیں سیکھنا بھی غلط نہیں ہے لیکن اپنے ملک کی زبان انسان کی پہچان ہونی چاہیے اور اسے بولنے میں فخر ہونا چاہیے۔لیکن ہمارے ہاں اردو کو خاص اہمیت حاصل نہیں ہے جبکہ سب سے آسان اور خوبصورت زبان عربی کہ بعد اردو ہے۔ہمارے ملک میں ہر جگہ ہر لین دین میں مختلف لہجوں کہ ساتھ اردو زبان بولی جاتی ہے چاروں صوبوں کی زبان الگ الگ ہونے کہ بھی باوجود رابطے کیلیے اردو زبان کا استعمال کیا جاتا یے۔قاعد اعظم نے جب اردو کو قومی زبان قرار دیا تو پہلے بہت سے لوگوں نے اس وقت تنقید کی تھی اور بعد میں اسے تسلیم کیا تھا۔لیکن اب سیاسی،سماجی رابطے کی زبان میڈیا کی زبان ذریعہ تعلیم سب اردو زبان پر مشتمل ہے۔ہمارے قائد نے ہمارے لیے اردو زبان کو قومی زبان منتخب کیا۔

یہ بھی پڑھیں

قائد اعظم ؒنے کئی جگہ ارشاد فرمایا:”قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا پہلا بیان 1942ء ”پاکستان مسلم انڈیا“ دیباچے میں کچھ اس طرح سے تحریر کیا گیا ہے۔ ”پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی”قائد اعظمؒ نے 10 اپریل 1946ء کو اپنے آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس،دہلی میں فرمایا!”میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی“

1947 ء میں ڈھاکہ کہ مقام پر ارشاد فرمایا:”میں آپ کو صاف صاف بتا دوں کہ جہاں تک آپ کی بنگالی زبان کا تعلق ہے۔ اس افواہ میں کوئی صداقت نہیں کہ آپ کی زندگی پر کوئی غلط یا پریشان کن اثر پڑنے والا ہے۔ اس صوبے کے لوگوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس صوبے کی زبان کیا ہو گی۔ لیکن یہ میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو، اور اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں۔ جو کوئی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے۔ دوسرے ملکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ اردو ہی ہو گی

لیکن ان کے وصال کہ بعد اس امر کو قطعی طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔”قائد کہ فرمان کی خلاف ورزی کرنا درست نہیں۔سعادت حسین منٹو نے فرمایا تھا:”کہ زبان بنائی نہیں جاتی خود بنتی ہے نہ انسانی کوششیں کسی انسان کو فنا کر سکتی ہیں“لیکن کسی زبان میں الفاظ کا درست ہونا بہت ضروری ہے.زبان کی درستی کی سب سے بڑی دلیل خواص کا استعمال ہے زبان درست کرنی ہو تو اس زبان کے بولنے والوں کو بولتا ہوا سنو۔لیکن سننے کہ ساتھ اپنی زبان کہ درست تلفظ کا علم بھی ہونا چاہیے۔

کیونکہ ہر زبان میں ایک لفظ کہ مختلف معنی ہوتے ہیں کسی زبان کا کوئی لفظ کسی دوسری زبان میں بولا جائے تو اس دخیل لفظ کا صرف نسبی تعلق رہ جاتا ہے باقی اس پر اگلی زبان کے قواعد و ضوابط لاگو ہو جاتے ہیں۔جیسے تخلُّص عربی میں جدا ہونے کو کہتے ہیں اور اردو میں شاعر کے نام کو کہتے ہیں اسی طرح کئی جملے اور الفاظ ایسے ہیں جن کہ معنی اور لہجے مختلف ہیں۔اسی لیے اردو سیکھنا ہم سب پاکستانیوں کی ضرورت ہے اور درست الفاظ کے ساتھ  سیکھنا ہمارا علمی شعور ہے۔اردو سیکھنے سے مراد اردو کی پہچان ہونا اچھے لہجے، تلَّفُظ اور گرامر کو مدِّنظر رکھتے ہوئے بولنا آنا چاہیے۔

ہمیں چاہیے کے ہم اپنی قومی زبان کو بولنے میں فخر محسوس کریں اور بولتے ہوئے اپنااعتماد قائم رکھیئے۔اردو بولتے ہوئے کسی دوسری زبان کہ لہجے کو اپنا کر اردو بولنے سے گریز کیجیے بلکہ اردو بولتے وقت اپنا بہترین اردو لہجہ قائم رکھیے۔ آج سے عزّم کر لیجیے اور پروقار لہجہ اپنا کر اردو بولنا شروع کیجیے۔اسی میں ہماری قومی بقاء و سلامتی کا راز چھپا ہے۔کیونکہ بہترین قومیں ہمیشہ اپنی زبان کی حفاظت کرتی ہیں اور اسے اپنی آنے والی نسلوں میں محفوظ کرتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کے ہم ہر ممکن کوشش کریں کے ہم اپنی زبان خود بھی بولیں گے اور اپنے بچوں کو بھی سکھائیں گے۔

5/5

https://youtu.be/u_ozjCiaDDo

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »