Spread the love

آزادی نیوز


18 جون کو ہونے والے ایرانی پارلیمان کے انتخابات میں کئی قدآورشخصیات کے بطور امیدوار آنے کے بعد کافی گرمی دکھائی دے رہی ہے ۔ان شخصیات میں ایرانی چیف جسٹس ابراہیم رئیسی اور سپیکر علی لاریجانی سرفہرست ہیں
ایران میں اگلے ماہ صدارتی انتخابات ہورہے ہیں ،جن کیلئے ابراہیم رئیسی اور علی لاریجانی نے بطور امیدوار میدان میں آنے کا اعلان کیا ہے ،جنہیں قدامت پسند تصور کیا جاتا ہے

جبکہ جدت پسند خیالات کے حامل موجودہ صدر حسن روحانی کو ملکی قانون کے تحت تیسری بار صدارت کا انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں
تاہم دونوں نئے آنے والے امیدواروں کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں ,مجلس رہبر 27 مئی کو انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کی فہرست کااعلان کریگی

چیف جسٹس ایران ابراہیم رئیسی کون ہیں ؟
61 سالہ قدامت پسند ابراہیم رئیسی کو سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے چیف جسٹس مقرر کیا تھا ۔مذہبی زیارت گاہوں کے حوالے سے مشہور شہر مشہد کے ضلع نوغان میں پیدا ہونے والے ابراہیم رئیسی کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے


یہ بھی پڑھیں 

غزہ کا دنیا کے قدیم وخوشحال ترین شہرسے ایک محصور پٹی کا سفر

افغانستان لڑکیوں کے سکول میں بم دھماکہ 30 افراد جاں بحق درجنوں زخمی


انہوں نے عالمی قوانین کے شعبہ میں ماسٹرز جبکہ شاہد مطہری یونیورسٹی سے اسلامی فقہ و قوانین میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کررکھی ہے ،

اس کے علاوہ انہوں نے شیعہ اسلام کے معروف مرکز قم میں بھی مذہبی تعلیم حاصل کی اور انہیں کئی نامور شیعہ علماء کی شاگردی کا اعزاز بھی حاصل رہا

1979 کے انقلاب ایران کے بعد وہ کئی شہروں میں بطور پراسکیوٹر تعینات رہے جبکہ 1985 میں انہیں تہران میں ڈپٹی پراسکیوٹر اور 1989 میں سینئر پراسکیوٹر ترقی دیدی گئی2004 میں نائب چیف جسٹس کے عہدے پر ترقی تک وہ 1994 سے جنرل انسپکشن آفس میں فرائض سرانجام دیتے رہے

2014 سے 2016 تک وہ ایران کے اٹارنی جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے2017 میں وہ موجودہ صدر حسن روحانی کے مقابلے میں صدارتی انتخاب ہار گئے

اگرچہ وہ غربت اور کرپشن کے خاتمے کے نعرے کیساتھ میدان میں آئے تھے لیکن انہیں حسن روحانی کے مقابلے 38 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل کو 57 فیصد ووٹ ملے تھے
تاہم انہوں نے کامیابی پر حسن روحانی کو مبارکباد نہ دی اور سپریم کونسل سے قبل و دوران انتخابات بے قاعدگیوں کی چھان بین کا مطالبہ کیا ابراہیم رئیسی کو سپریم لیڈر علی خامنہ کے مضبوط جانشیں کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے

سابق سپیکر علی لاریجانی
انقلابی گارڈ کے کمانڈر رہنے والے 64 سالہ علی لاریجانی کا شمار قدامت پسند سیاستدانوں میں ہوتا ہے
وہ 2008 سے 2020 تک ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر رہے ۔ان کی پیدائش عراقی شہر نجف میں ہوئی جہاں ان کے والدین ایرانی شاہ کے دبائو کے نتیجے میں 1931 میں پناہ گزیں ہوگئے تھے ،تاہم علی لاریجابی 1961 میں واپس ایران آگئے
علی لاریجانی نے تہران کی آریہ مہر یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس و ریاضی کی ڈگری حاصل کی ،بعدازاں انہوں نے تہران یونیورسٹی سی مغربی فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی

وہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر رہے اور اس محنت ،سوشل ویلفیئر اور اطلاعات و نشریات کے نائب وزیر بھی رہے
انہیں 1994 میں اسلامی جمہوریہ ایران کا اطلاعات و نشریات کا سربراہ مقررکیا گیا جہاں وہ دس سال تک فرائض سرانجام دیتے رہے

انہوں نے 2005 کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن انہیں صرف 5 ۔94 ووٹ ملے جبکہ ان کے مدمقابل محمود احمدی نژاد 61 فیصد ووٹوں کیساتھ فاتح قرار پائے

2008 میں علی لاریجانی قم سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے اور سپیکر بن گئے جہاں وہ 2020 تک اس عہدے پر برقرار رہے

Translate »