راحت ملک

جناب شاہد خاقان عباسی منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ایک بیان کے ذریعے انہوں نے ملکی سیاسی بحث کا موضوع مواد اور رخ ہی موڑ دیا۔انہوں نے جناب شہباز شریف کو مسلم لیگ نون کی جانب سے اگلا وزیراعظم قرار دیا۔تو بحث کا مرکزی خیال تین شخصیات اور ایک سیاسی جماعت تک محدود ہوگیا۔دلچسپ پہلو اس مباحثے کا یہ رہا کہ حکمران پی ٹی آئی نے بھی اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے محدو المعنی اعتراض اٹھایا کہ نون لیگ میں دھڑے بندی ہے نون لیگ واضح طور پر تقسیم ہورہی ہے

ایک حلقہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنانا چاہتا ہے جبکہ محترمہ مریم نواز اور ان کے قریبی حلقے انہیں اگلا وزیراعظم سمجھتے ہیں۔مباحثے کے تمام شرکاء کا البتہ اس پر اتفاق نظر آیا کہ اگلا وزیراعظم جو کوئی بھی ہو گا اس کا حتمی فیصلہ جناب میاں محمد نواز شریف ہی کریں گے۔اور یہ کہ آئیندہ حکومت نون لیگ کی ہے ہوگی۔

پی ٹی آئی نے اس خیال سے اتفاق کا اشارہ دیا۔سیاسی مباحثے کے اس متفقہ نکتہ نے جناب نواز شریف کو ملکی سیاسی مباحثے کا محوری نقطہ معکوس بنادیا۔پی ٹی آئی نے نون لیگ میں آرزو مندانہ داخلی اختلاف رائے کا سہارا لیا اور آئیندہ کے حکومتی سیاسی منظر نامے میں اپنے کسی کردار کو خود ہی نظر انداز کرگئی کسی بھی اہم رہنماء نے تسلیم نہیں کیا یا بیان نہیں دیا کہ جناب عمران خان ہی اگلے وزیراعظم ہونگے!!!

یا کم از کم یہ کہا جاسکتا تھا کہ انتخابات میں پی ٹی آئی کامیابی حاصل کرے گی اور اگلی حکومت بھی وہی بنائے گی۔ کم از کم اپنے ہم خیال حلقے کی خوش امیدی کے لیے سہی ایسا بیان دینا تو آسان تھا لیکن اندازہ کیا جاسکتا ھے کہ پی ٹی آئی میں خود شکستگی کا احساس گیرائی تک سرایت کرچکا ھے

پی ٹی آئی کے اس ذھنی رحجان کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو مائینڈ آف سیلف سٹیٹ آف ڈینائل یا خود انکاری و شکستگی کی علامات نمایاں کرتا ہے۔ جس سے اگلے انتخابی معرکے کے خدوخال کی نشاندھی ہوتی ھے

یہ بھی پڑھیں

 

جناب شاہد خاقان عباسی کے موقف کو مباحثے میں مزید تقویت جناب زبیر احمد کے بیان سے ملی جس سے دراصل پارٹی میں فیصلہ سازی کے مرکزی کردار کی وضاحت کی گئی تھی زبیر صاحب نے میاں شہباز شریف کے لئے اگلے وزیراعظم ہونے پر اظہار ٍ اختلاف نہیں کیا تھا بلکہ چند امکانی خدشات بیان کئے تھے

مثلاً یہ بات قابل فہم ہے کہ حکمران حلقہ میاں شہباز شریف کے خلاف مقدمات کا جلد فیصلہ کرائے اور انہیں بھی نااہل قرار دلا دے۔ تو اس صورتحال کا کیا نتیجہ نکلےگا؟ دوسری صورت یہ بھی ممکن ہے کہ جناب نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ بعض اہم قانونی دلائل اور واقعات کی روشنی میں منسوخ ہوجائے،تو بھی معروضی صورتحال میں جوہری تبدیلی آجایے گی۔

زبیر صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ مریم نواز کی سزا ختم نہ ہوئی تو وہ انتخاب لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہونگی ان الفاظ سے انہوں نے میاں شہباز شریف کے لئے وزیراعظم بننے کی بالواسطہ راہ ہموار کرنے کی شعوری کوششیں کی تھی تاکہ مرکزی ملکی سیاسی مباحثے سے اگلے وزیراعظم کے حوالے سےکسی بھی دوسری جماعت کے کسی رہنماء کو خارج کردیا جائے

اور نون لیگ کو آئیندہ کے لیے مرکزی حکومت ساز جماعت تصور یا تسلیم کرایا جائے حتمی نقطہ برامد ہوا کہ اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟ اس کا حتمی اختیار یا فیصلہ میاں نواز شریف نے ہی کرنا ہے۔ اور یہ بات مستقبل کے سیاسی منظرنامے کی معروضیت کا تعین کرنے میں اھم نوعیت کا حامل ھے

ان بیانات کے اثرات جاری تھے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو بلدیاتی الیکشن میں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور یہ تاثر جائز طور پر مقبول عام ہوگیا کہ ضمنی انتخابات میں مسلسل شکستوں کے بعد پی ٹی آئی کو اس کے ” قلعے “ کے پی میں ہونے والی شکست اس کی بد ترین طرز حکمرانی اور ناقص کارکردگی پر عوام کی مہر ٍ تصدیق ثبت کی ھے۔

پی ٹی آئی مقتدر حلقوں کی منظورنظر نہ رہی کا تاثر گہرا کیوں ؟

ثانوی طور پر یہ نقطہ بھی نمایان ہوا کہ اب پی ٹی آئی “طاقتور حلقے “کی من پسند نہیں رہی چنانچہ 2018ء کے انتخابات کے برعکس اب اسے اگلا انتخاب اپنے زور ٍ بازو پر لڑنا پڑے گا۔تو اسے شدید مشکلات پیش آسکتی ہیں دسمبر کے آخر میں نون لیگ کے رہنماؤں نے جس مہارت اور بصیرت کے ساتھ اپنی جماعت کو ملک کی سب سے نمایاں مقبول سیاسی جماوعت بناتے ہوئے اسے پورے ملکی سیاسی مباحثہ کا مرکزی کردار بنا دیا ہے۔وہ بہت اہم ہے

ملکی بحث کو نواز شریف اور ان کی جماعت و ذات کے گرد مرتکزکرنے کے لئے جناب ایاز صادق نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے جنوری 2022میں نواز شریف کی وطن واپسی کا غیر مبہم اعلان کردیا۔چنانچہ اس دھماکہ خیز بیان نے سازشی تھیوریز کے ماہرین کو متحرک کیا۔کہا جانے لگا کہ نواز شریف کی واپسی کسی ڈیل کا نتیجہ ہو گی چنانچہ ڈیل کے ذریعے واپسی کے منفی تاثر کو نمایاں کرتے ہوئے ان کے نعرے ووٹ کو عزت دو پر پھبتیاں کسی گئیں۔

درپیش صورتحال میں سب سے زیادہ بدحواسی کا مظاہرہ جناب عمران خان نے کیا حیرت و صدمے پر مبنی انداز میں تسلیم کر لیا کہ “سزا یافتہ مجرم کو چوتھی بار وزیراعظم بنانے کی کوشش ہورہی ہے”۔سوال یہ ہےکہ وزیر اعظم کے اعتراف میں کس جانب اشارہ کیا گیا ھے جو نواز شریف کی سزا ختم کر کے اسے پھر سے بر سر اقتدار لانے کی تیاریاں کررہے ہیں؟

اگر مسند اقتدار پر متمکن ہوتے ہوئے بھی جناب عمران خان متذکرہ سازش ناکام بنانے سے قاصر یا عاجز ہیں تو اس کے دو پہلو ہونگے۔اول یہ ہے کہ وہ منتخب شدہ بااختیار وزیراعظم نہیں لہذا ان کی استطاعت محدود ھے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔اگر وہ عوامی حمایت و ساکھ کے مالک ہوتے تو ایک” سزا یافتہ مجرم” کی اقتدار سنگھاسن تک راہ ہموار کرنے والے عناصر کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کرتے

مگر انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ محض ٹسوئے بہانے جیسا بیان داغ دیا جو وزیراعظم کی بےبس فریادی کی پکار بن گیا ور اس سے یہ بھی تاثر مستحکم ہوا کہ ایک” صفحے کی کہانی ” مخدوش ہوچکی ھے یہ کہ عمران حکومت آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور اس کا بنیادی سبب ملکی معیشت کا ڈوبتا جہاز ہے جو دفاعی اخراجات کی ادائیگی کے لئے بھی قرضوں کا محتاج ہوگیا ہے۔

یہی محتاجی آئی ایم ایف کے شرائط نامے پر ثبت ہیں جن کی تکمیل کے لئے مہنگائی،معاشی بدحالی اور روز مرہ اشیاء ضروریہ کی طلب پوری کرنے سے قاصر عوام پر 350ارب روپے کا مزید مالی بوجھ ڈالا جارہا ہے۔اگر دفاعی اخراجات کے لئے قرضے پر انحصار ناگزیر ہے تو قیاس ممکن ہے کہ منگل کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مجوزہ ضمنی بجٹ منظور ہو جائے گاتو 1.07ارب ڈالر قرض کی قسط کے اجراء کا امکان روشن ہوگا۔

لیکن ٹیکسوں میں ردوبدل کے نتیجے میں نیز توانائی وسائل کی قیمتوں میں اضافے سے معیشت کا مزید برا حال ہو جائے گا۔گمان غالب ہے کہ ملکی معیشت کو پیداری تخلیقی انداز میں بحال کرنے کے لئے طاقتور حلقے نے قومی صنعت کار طبقہ کے سرخیل نوازشریف کو مدد کے لئے پکارا ہو۔

اگر ایسا ہوا ہے تو لازمی طور پر نواز شریف نے سیاست میں غیر سیاسی مداخلت کی گارنٹی طلب کی ہو گی۔انتخابی عمل میں مداخلت کے تدارک کا قابل قبول وعدہ لیا ہوگا۔یہ بھی طے پایا ہو گا کہ طاقتور محکمہ خود کو اپنے آئینی فرائض تک محدود رکھے گا۔

مذکورہ قیاس آرائی اگر درست ہے تو اسے صحیح سمت میں پیش رفت سمجھنا دانشمندی ہوگی کیونکہ سردست جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی کے دو ہی راستے باقی بچے ہیں۔ اول ۔ پرامن جمہوری مزاحمت اور عوامی دباؤ کے ذریعے طاقت کو آئین کی اطاعت پر مجبور کردیا جائے اس عمل میں کئی ناخوشگوار مشکل مقامات آسکتے ہیں جن کا متحمل ہونا مشکل ہے ۔

ہائی برڈ نظام سے چھٹکارا مگر کیسے؟؟؟؟؟

دوسری صورت یہی ہے کہ ہائی برڈ سیاسی نظام بنانے والے اس کی مکمل ناکامی کا خود اعتراف کریں۔ اور سیاسی میدان سیاسی جماعتوں کیلئے کھلا چھوڑ دیں۔عوام جو فیصلہ کریں اس کے سامنے سر تسلیم ختم کرلیا جائے یہی ملکی سالمیت کے لیے بہترین لائحہ عمل ہے امید کرنی چاہیے کہ اگر دوسری تجویز کو پذیرائی مل رہی ہے تو اسے ڈیل قرار دینے سے گریر کرنا چاہیے۔

میاں نواز شریف کی واپسی کے اعلان پر حواس باختہ ہونیوالی پی ٹی آئی قیادت اب اگر سنبھلی بھی تو وہ میاں صاحب کی واپسی ان کے ویزے کی مدت ختم ہونے سے تعبیر کر کے خیالی تسکین پا رہی ہے یہ کہتے ہوئے کہ واپسی تو برطانوی قانون کے نتیجے میں ممکن ہورہی ہے لیکن نون لیگ اسے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا وسیلہ بنارہی ہے۔ یہ دلیل معقول نہیں کیونکہ نواز شریف کے پاس برطانیہ میں مزید قیام کے کئی قانونی راستے موجود ہیں۔اس سے قطع نظر اھم سوال یہ ھے کہ

حکومت کو مجوزہ ضمنی بجٹ منظور کرانے میں کامیابی ملتی ہے یا ناکامی۔ہر دو صورتوں میں اگلا سال عام انتخابات کا سال ہوگا۔شفاف آزادانہ مداخلت سے پاک انتخابات کا سال۔ نہ کہ 2018 کے انتخابی ڈرامے کا اعادہ۔  ضمنی بجٹ کی نامنظوری سے اگر حکومت کا خاتمہ ہوا تو پی ٹی آئی سیاسی شہادت سے محروم رہے گی۔

دوسری صورت میں عدم اعتماد کی بجایے عوام سیاسی دباو کی شدت میں اضافے سے ہائی برڈ سیاسی سانچے کو منہدم کرنا زیادہ بہتر عمل ہوگا۔

Translate »