آزادی ڈیسک


سابق امریکی صدر جارج بش کی قیادت میں امریکی انتظامیہ 9/11 کے واقعہ سے کئی ماہ قبل افغانستان پر حملے اور طالبان کو بزور طاقت حکومت سے ہٹانے کا فیصلہ کرچکی تھی ۔

حال ہی میں ایک امریکی تحقیقاتی صحافی اور گھوسٹ وارز دی سیکرٹ ہسٹری آف دی سی آئی اے ،افغانستان ،بن لادن فرام سوویت انویژن ٹو ستمبر 10،2001 نامی کتاب کے مصنف سٹیو کول نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ اگست 2001 میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں نائن الیون کا واقعہ رونما ہونے سے کئی ماہ قبل ہی امریکی انتظامیہ طالبان مخالف افغان دھڑوں اور بالخصوص احمد شاہ مسعود کو فوجی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کرچکی تھی

احمد شاہ مسعود کو طالبان کیساتھ تعاون کا امریکی مشورہ

اسی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وہ افغانستان سے اسامہ بن لادن اور دیگر القاعدہ رہنمائوں کو طلب کرنے کی مہلت دیں گے اور اگر طالبان انکار کرتے ہیں تو طالبان مخالف گروپوں کوفوجی مدد فراہم کی جائے ۔لیکن اگر دونوں صورتیں ناکام ہوتی ہیں تو طالبان پر براہ راست حملہ کیا جائے گا

یہ بل کلنٹن انتظامیہ کی پالیسی کے برعکس فیصلہ تھا جن کے خیال میں طالبان ہی افغانستان میں امن اور استحکام لانے کی اہلیت رکھتے ہیں

مصنف و مترجم مارسیلا گراڈ نے بھی اپنی کتاب مسعود میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ 1997 میں اسسٹنٹ سیکرٹر ی سٹیٹ روبن رافیل نے افغانستان میں امن کیلئے احمد شاہ مسعود کو طالبان کے سامنے سرنگوں ہونے کا مشورہ دیا تھا،تاہم احمد شاہ مسعود نے اس تجویز کے جواب میں کہا

جب تک ان کے پاس ایک ٹوپی کے برابر بھی زمین باقی ہے وہ طالبان سے اس کا دفاع کرینگے

کچھ سابق سفارتکاروں کے بقول احمد شاہ مسعود کے اس قدر پراعتماد ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت بھارت انہیں مدد فراہم کرنے پر آماد ہوچکا تھا ،جس نے تاجکستان میں افغان سرحد کے قریب فارخور اور عینی میں ایک فوجی ہسپتال اور دیگر تنصیبات قائم کردی تھیں


یہ بھی پڑھیں 

  1. امریکی انخلاء کے قریب آتے ہی طالبان کی پیش قدمی تیز،درجنوں اضلاع پر قبضہ
  2. پاکستان افغانستان کے اندرونی مسائل کا ذمہ دار نہیں،شاہ محمود قریشی
  3. ماضی کو بھول جائیں ،اب پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے
  4. بھارت نے افغان طالبان قیادت کیساتھ روابط بڑھانے کی کوششیں تیز کردیں

1996 سے 2000 کے درمیان دوشنبے میں تعینات رہنے والے بھارتی سفارتکار بھرتھہ راج مٹھو کمار نے احمد شاہ مسعود اور اس کی فوجوں کو فوجی و طبی امداد کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا

معروف بھارتی اخبار دی ہندو کے صحافی وی سدرشن نے راج مٹھو کمار کے حوالے سے لکھا کہ احمد شاہ مسعود کا بھارت سے ستمرے 1996 میں طالبان کی جانب سے کابل پر قبضہ کے ایک ہفتہ بعد رابطہ قائم ہوگیا تھا

موجودہ افغان نائب صدر امراللہ صالح اس وقت ختم جانے والی کابل حکومت کی جانب سے دوشنبے میں تعینات تھے ۔راج مٹھو کمار کے مطابق ایک روز امراللہ نے ان سے رابطہ کیا اور کمانڈر (احمد شاہ مسعود )کیساتھ ملاقات کیلئے وقت کی خواہش ظاہر کی ۔جو طالبان کو دھوکہ دیکراسی صبح دوشنبے پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے

Image by Amber Clay from Pixabay

دلی میں اعلیٰ حکام کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد کمار دوشنبے میں واقع احمد شاہ کی رہائش گاہ پر پہنچے ،جہاں ان کی چائے اور خشک میوہ جات سے تواضع کی گئی ۔دلی کی سیاسی قیادت نے انہیں گفتگو توجہ سے سننے اور مکمل رپورٹ بھیجنے کی ہدایت کی تھی

چائے کا گھونٹ لیتے احمد شاہ نے طالبان کو بے دخل اور القاعدہ کو شکست دینے کیلئے بھارت سے مدد کی خواہش ظاہر کی

اس ملاقات کے بعد بھارت نے طالبان مخالف اتحاد کے ساتھ تاجکستان کے راستے دل کھول کرمدد فراہم کی ۔جس میں وردیاں ،اسلحہ ،چھوٹی توپیں ،کلاشنکوف،گرم ملبوسات ،خوراک اور دوائیں شامل تھیں ۔جبکہ احمد شاہ مسعود کیلئے رقوم لندن میں ان کے بھائی ولی مسعود کے ذریعے بھیجی گئیں

اس کے علاوہ بھارت نے شمالی اتحاد کے پاس موجود 10 ہیلی کاپٹروں کو مرمت کیا ،اور2 ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر تحفہ میں دیئے ۔جبکہ دوشنبے سے 130 کلومیٹر دوری پر واقع فارخور شہر میں ایک ساڑھے سات ملین ڈالر کی لاگت سے ایک میڈیکل سنٹر قائم کیا ۔یہ وہی بھارتی ہسپتال تھا جہاں 9 ستمبر 2001 کو تخار میں خودکش حملے میں شدید زخمی ہونے والے احمد شاہ مسعود نے اپنی آخری سانس لی

سابق بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ خودکش حملے میں مارے جانےسے پانچ ماہ قبل احمد شاہ مسعود نے دہلی کا چار روزہ دورہ کیا ۔یہ سخت حفاظتی اقدامات میں کیا جانے والا دورہ تھا ،کیوں کہ پاکستان اور افغانستان کے حمایت یافتہ کئی دہشت گرد گروہ ان کی جان کے درپے تھے

بھارت اور شمالی اتحاد کے درمیان ہونے والے تعاون کے کئی پہلو ابھی آشکار ہونا باقی ہیں

کھلتے ہوئے امریکی راز

جیسے جیسے افغانستان کا معاملہ اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے ،امریکہ کے رازوں سے بھی پردہ اٹھنا شروع ہوچکا ہے ۔جنگوں کی خفیہ تاریخ کے حوالے سے کئی جانے والے کئی سو انٹرویوز اور رپورٹوں میں امریکی اور اتحادی فوجی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے جنگی منصوبوں میں بدترین نقائص تھے ،جو اس جانب مڑ گئے جن کا نائن الیون یا القاعدہ سے کوئی تعلق نہ تھا

حال ہی میں واشنگٹن میں قائم سپیشل انسپکٹر فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سیگار)نے افغانستان کے حوالے سے 7 رپورٹیں منظر عام پر لائی ہیں جن میں افغانستان میں دوست و دشمن کی پہچان کے حوالے سے 6 سو زائد سفارتکاروں اور فوجی کمانڈروں کے انٹرویو کئے گئے

حاصل مطالعہ کے عنوان سے مرتب ہونے والی رپورٹ میں ایک مستحکم افغان فوج اور پولیس کے قیام ،اور منشیات کے کاروبار پر قابو پانے کے حوالے سے امریکی حکومت کی جانے والی کوششوں کی ناکامی کا جائزہ لیا گیاہے

انٹرویوز پر مبنی رپورٹ تیار کرنے والی ایجنسی سیگار کے سربراہ جان سوپکو نے واشنگٹن پوسٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ امریکی عوام کے ساتھ مسلسل جھوٹ بولا گیا

برائون یونیورسٹی کے منصوبے کاسٹ آف وار کی معاون ڈائریکٹر پروفیسر نیٹا کرافورڈ کے ایک تخمینے کے مطابق مختلف امریکی حکومتوں نے 2001 سے اب تک افغانستان میں 978 ارب ڈالر خرچ کئے

انٹرویوز کی روشنی میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ امریکی حکام عوامی سطح پر تو رشوت ستانی کے خلاف بیانات دیتے رہے ،لیکن افغانستان میں اس معاملے میں کئی پہلوئوں پر استثنیٰ سے کام لیاگیا

امریکی حکام نے انٹرویو ز میں تسلیم کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے رشوت ستانی کے رستے ناسور کو چھوڑ کرافغان حکومت کی ساکھ کو برباد کرنے میں مدد فراہم کی ،عدلیہ ،پولیس اور سرکاری حکام کی رشوت ستانی و بھتہ خوری نے بہت سے افغانوں کا جمہوریت پر اعتقاد ختم کردیا اور وہ امن و انصاف کیلئے طالبان کی جانب دیکھنے لگے

منشیات کے خاتمے کا مشن کیوں ناکام ہوا

ایک امریکی فوجی اہلکار نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ خصوصی امریکی دستے اپنے ہاتھوں تربیت پانے والے افغان پولیس اہلکاروں سے نفرت کرتے تھے ،اور انہیں خوفناک قرار دیتے تھے
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گذشتہ 18 سال کے دوران پوست کی کاشت پر قابو پانے کیلئے امریکہ نے تقریبا 9 ارب ڈالر خرچ کئے ۔لیکن اس کے باوجود افغان کسان پہلے سے زیادہ پوست کاشت کررہے ،اور اس کو کم کرنے کے لئے کی جانے والی ہر کوشش کا الٹا اثر ہوا

فصلوں کی تباہی سے کسان امریکہ سے متفر ہوئے

آغاز میں پوست کی فصل کو تباہ کرنے والے زمینداروں کو برطانیہ ادائیگی کرتا تھا ،جس کے نتیجے میں انہوں نے اگلی فصل پر کاشت مزید بڑھا دی ۔جس کے بعدامریکہ نے جب بغیر معاوضہ پوست کی فصل تباہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو کسان ان سے نفرت کرنے لگے اور ان کی طالبان سے ہمدردیاں ہوگئیں

امریکی و اتحادی پالیسیوں نے افغان حکومت کی ساکھ تباہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا

2006 میں افغانستان میں حقائق کی تلاش پر مامور ریٹائرڈ جنرل میک کیفری نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ طالبان حیران کن تیزی سے واپس آرہے ہیں اور اگلے دوسال ناخوشگوار حیرتوں کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے

افغان قیادت ناٹو کی واپسی طالبان کی آمد کی صورت میں پیش آنے والی صورتحال سے مجموعی طور پر خوفزدہ ہیں ۔انہوں ڈر ہے کہ سب کچھ تہہ وبالا ہوجائے گا

سابق سیکرٹری خارجہ ڈونلڈ رمزفیلڈ کے مشیر مرین سٹرمیکی کی چالیس صفحات پر مشتمل منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ میں لکھا ہے
افغان حکومت کی کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے عوام میں اشتعال بڑھ رہا ہے اور طالبان ہر گزرتے دن کیساتھ مضبوط تر ہوتے جارہے ہیں

Translate »