آزادی نیوز


امریکہ پاکستان کو صرف افغانستان میں اپنی 20 سالہ ناکامیوں کو چھپانے کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے ،وزیر اعظم عمران خان نے اپنی رہائش گاہ پر غیرملکی صحافیوں کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا

واشنگٹن نے اسلام آباد پر افغانستان میں امن معاہدے کیلئےطالبان پر پاکستان کو دبائو ڈالنے اور انہیں مذاکرات پر آمادہ کرنے کیلئے استعمال کیا ۔لیکن اب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے اور افغانستان میں بہت تیزی سےتشدد بڑھ رہا ہے

لیکن امریکہ نے پاکستان کو افغانستان میں 20 سال تک لاحاصل جنگ اور جنگ کے ذریعے حل تلاش کرنے میں ناکامی کے بعد اپنی پیدا کردہ صورتحال کو سنبھالنے کیلئے استعمال کرنے کا خواہاں ہے


یہ بھی پڑھیں


وزیر اعظم نے کہا 2001 میں طالبان حکومت کو ختم کرنے کے بعد 31 اگست تک امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لے گا ۔لیکن اس وقت طالبان ملک کے زیادہ تر حصوں پر قابض ہوچکے ہیں

عمران خان نے کہا افغانستان میں پاکستان کسی فریق کی طرف داری نہیں کررہا

لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ بھارت کو اپنا سٹریٹیجک پارٹنر قبول کر چکا ہے اس لئے وہ پاکستان سے مختلف طرح کا برتائو کررہا ہے

وزیر اعظم کا کہناتھا موجودہ حالات میں افغانستان میں کوئی سیاسی حل مشکل دکھائی دیتا ہے ،جب طالبان قیادت پاکستان کے دورے پر آئی تھی تو میری ان سے بات ہوئی تھی

لیکن ان (طالبان )کا موقف یہی تھا کہ جب تک اشرف غنی صدارت پر موجود ہیں وہ افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کرینگے

جبکہ وزیر اعظم عمران خان کا کہناتھا افغانستان سے انخلاء کے بعد پاکستان میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام کے حوالے سے واضح طور پر انکار کردیا تھا

طالبان کابل مذاکرات تعطل کا شکار

واضح رہے کہ اشرف غنی حکومت جسے طالبان امریکی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان گذشتہ ستمبر میں دوحہ میں مذاکرات ہوئے ہیں لیکن کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوسکی

اس وقت بھی امریکہ سمیت کئی ممالک کے نمائندے قطر میں موجود ہیں جو دونوں اطراف کو جنگ بندی پر رضامند کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ،

طالبان کی پیش قدمی کے خلاف اگرچہ کابل انتظامیہ کو امریکی فضائیہ کی مدد حاصل ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ 31 اگست کے بعد امریکہ مزید فضائی مدد جاری رکھے گا یا نہیں

Translate »