سدھیر احمد آفریدی


بنیادی طور پر افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ 1965 کے معاہدہ کے تحت چل رہی ہے جس کی تجدید پھر 2010 میں کی گئی تھی یہ معاہدہ دراصل پاکستان کی طرف سے افغان حکومت کو راہداری کی سہولت دینے کے لئے کیا گیا تھا جس کی ایک وجہ تو بظاہر یہ ہے کہ افغانستان ایک لینڈ لاک ملک ہے جس کی کوئی سرحد سمندر کے راستے کسی دوسرے ملک سے نہیں ملتی اور نہ ہی افغانستان کی حدود میں کوئی سمندر ہے جس کو سی پورٹ کے طور پر استعمال کرکے وہ دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کر سکے

اس لئے افغان حکومت کو درآمدات اور برآمدات کے لئے پڑوسی ممالک کی گزرگاہوں اور سمندری روٹس پر انحصار کرنا پڑتا ہے 1965 اور 2010 کے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے مطابق افغانی ٹرک کراچی بندرگاہ، گوادر پورٹ اور واہگہ بارڈر تک تو اپنا سامان لے کر جا سکتا ہے لیکن وہاں سے واپسی پر خاص طور پر افغانی ٹرکوں میں انڈین سامان لانے کی اجازت نہیں

ٹرانزٹ معاہدے کے مطابق پاکستانی ٹرکوں کو وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ افغانستان کے راستے برآمدات اور درآمدات کی اجازت بھی نہیں جس میں اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی سب سے بڑی رکاوٹ تھے

اسی طرح پاکستانی ٹرکوں میں پاکستانی ایکسپورٹ سامان اور ٹرانزٹ کا سامان افغانستان سے ہوتے ہوئے وسط ایشیا کے ممالک کی سرحدوں تک تو پہنچایا جا سکتا ہے لیکن واپسی پر خالی آئینگے طورخم کسٹم حکام کے مطابق قانون یہ ہے کہ ٹرانزٹ کی گاڑی سامان پہنچانے کے بعد اس پر رکھے گئے کنٹینر کے دروازوں کو کھلا رکھنا پڑیگا تاکہ معلوم ہو سکے کی اس کنٹینر میں واپسی پر کچھ نہیں لایا جا رہا

ٹرانزٹ معاہدے کے مطابق پاکستانی ٹرکوں کو وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ افغانستان کے راستے برآمدات اور درآمدات کی اجازت بھی نہیں جس میں اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی سب سے بڑی رکاوٹ تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ پاکستان واہگہ بارڈر سے انڈین مصنوعات لانے کے لئے افغان ٹرکوں کو اجازت دیں جو کہ پاکستان کے لئے ایسا کرنا مشکل فیصلہ ہے


یہ بھی پڑھیں


دیکھا جائے تو افغانستان ہمارے ملک پاکستان کی ایکسپورٹ کے لئے چوتھی بڑی مارکیٹ ہے افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے اور سابق افغان صدر اشرف غنی کے افغانستان سے بھاگ جانے کے بعد دیگر شعبوں کی طرح پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی سخت متاثر ہوئی ہے جس کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں

طورخم کسٹم سپرنٹنڈنٹس کے مطابق امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کی افغانستان سے نکل جانے کے بعد ٹرانزٹ ٹریڈ پر منفی اثرات اس لئے مرتب ہوئے ہیں کہ بنیادی اور روزمرہ کی ضروریات سے ہٹ کر جو سامان غیر ملکی افواج اور ان کے ساتھ رہائش پذیر دیگر لوگ استعمال کرتے تھے اب ان کی زیادہ مانگ نہیں رہی اس طرح افغانستان کے کابل اور دیگر کچھ شہروں میں افغانستان کے اپنے تعلیم یافتہ، سیکولر اور سرمایہ دار طبقے کے لوگ کسمیٹکس اور دیگر پرتعیش زندگی کی ضروریات کافی بڑی مقدار میں استعمال کرتے تھے اس لئے ان کی مانگ زیادہ تھی

تو افغانستان کے کاروباری اور تجارتی طبقہ کے لوگ بیرون دنیا سے ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے ان چیزوں کو بڑی مقدار میں خرید کر لاتے تھے اب ایک تو افغان طالبان سادہ زندگی گزارنے کے عادی لوگ ہیں جن کا عیاشی یا عیاشی کے اسباب والی چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں اور اسی طرح وہاں پردے کا حکم دیا گیا ہے لہذا افغان خواتین بھی میک اپ اور بنائو سنگار کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتیں

اشیاء تعیش کی کھپت میں کمی ٹرانزٹ ٹریڈ میں کمی کی وجہ

اس لئے ٹی وی، ڈش انٹینا اور کاسمیٹکس کے سامان کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہو رہی اس وجہ سے یہ بھی ٹرانزٹ ٹریڈ پر اثرانداز ہوا ہے اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بینکوں کا نظام مفلوج ہو چکا ہے اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں سب سے بڑا عمل دخل بینکوں کا ہے جن کے ذریعے رقومات جمع ہوتی ہیں اور بیرونی دنیا کے اندر مختلف سامان خریدنے کے لئے رقومات بینکوں کے ذریعے بھیجنا پڑتی ہیں اب  افغانستان کے اندر بینکوں سے ہفتے میں صرف ایک بار دو سو ڈالرز نکالنے کی اجازت ہے اور یہ بہت معمولی رقم ہے جس سے کاروبار اور تجارت نہیں ہو سکتی

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت سامان پاکستان کے راستے افغانستان پہنچتا ہے یہ ان لوگوں کا مال ہے جنہوں نے طالبان کی آمد سے پہلے بیرون دنیا میں سامان خرید کر رکھا تھا تو وہ تھوڑا تھوڑا پہنچ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ طورخم،چمن اور غلام خان کے راستوں پہلے کی بنسبت بہت کم مقدار میں ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیاں جاتی ہیں

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بینکوں کا نظام مفلوج ہو چکا ہے اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں سب سے بڑا عمل دخل بینکوں کا ہے جن کے ذریعے رقومات جمع ہوتی ہیں اور بیرونی دنیا کے اندر مختلف سامان خریدنے کے لئے رقومات بینکوں کے ذریعے بھیجنا پڑتی ہیں اب  افغانستان کے اندر بینکوں سے ہفتے میں صرف ایک بار دو سو ڈالرز نکالنے کی اجازت ہے اور یہ بہت معمولی رقم ہے جس سے کاروبار اور تجارت نہیں ہو سکتی

جن اشیاء کی ترسیل کم ہوئی ہے ان کی دو ماہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے گزشتہ سال اگست اور ستمبر میں 16 ہزار کنٹینرز طورخم کے راستے افغانستان پہنچائے گئے تھے جبکہ اس سال صرف 8 ہزار کنٹینرز ابھی تک گئے ہیں مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو 50 فیصد ٹرانزٹ ٹریڈ میں کمی آئی ہے

چینی پچاس فیصد، فیبرک 43 فیصد، میڈیسن 54 فیصد، الیکٹرانک سامان اکاون فیصد، امریکن بادام ایک سو اٹھائیس فیصد، کیچن ویئرز 56 فیصد، ٹائرز تیس فیصد، خوراکی مواد پچیس فیصد، دودھ پاوڈر پینسٹھ فیصد اور دیگر مختلف اشیاء ستاون فیصد کم ہوئی ہیں

یہ بات تو واضح ہے کہ پاکستان کے راستے افغانستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت جو سامان جاتا ہے اور اس پر پاکستان کے اندر کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں ہوتی بارڈر کے ساتھ لگے قبائلی علاقوں کے اندر اور خاص کر کارخانو مارکیٹ میں افغانستان سے واپسی پر یہی سامان غیر قانونی طریقوں سے پہنچ کر سستی قیمتوں پر ملتا ہے اور تقریباً تیس فیصد ٹرانزٹ ٹریڈ کا سامان سمگل ہو کر واپس پاکستان لایا جاتا ہے جبکہ باقی ماندہ سامان وہاں استعمال ہوتا ہے

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں زیادہ تر گاڑیاں مقامی قبائلی عوام کی استعمال ہوتی ہیں جن کا روزگار اس سے وابستہ ہے اور جب افغانستان میں ہزاروں خالی کنٹینرز روک دئیے جاتے ہیں تو پھر ٹرانسپورٹ ادھر کم پڑتی ہے جس سے کرائے تو بڑھ جاتے ہیں لیکن زیادہ تر ٹرانسپورٹرز پریشان حال رہتے ہیں

ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت یکطرفہ سامان کی ترسیل کی اجازت

اب ٹرانزٹ ٹریڈ میں بہتری کا دارومدار افغان طالبان کی حکومت پر ہے اگر وہاں امن مستحکم ہوا، ادارے بحال اور فعال ہوئے، بینکوں کا نظام چل پڑا اور تجارت کرنے والے کاروباری لوگوں کو سہولیات دیکر ان کا اعتماد بحال کر دیا گیا تو پھر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بہتری کے امکانات موجود ہیں

چونکہ پاکستان اور اس کے افغانستان کے ساتھ ملحقہ علاقے دفاعی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور یہ طورخم خاص طور پر وہ روٹ ہے جہاں سے دنیا کے ہر گوشے سے لایا ہوا سامان افغانستان کے تمام علاقوں میں تیزی کے ساتھ مختصر وقت میں پہنچایا جا سکتا ہے

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں زیادہ تر گاڑیاں مقامی قبائلی عوام کی استعمال ہوتی ہیں جن کا روزگار اس سے وابستہ ہے اور جب افغانستان میں ہزاروں خالی کنٹینرز روک دئیے جاتے ہیں تو پھر ٹرانسپورٹ ادھر کم پڑتی ہے جس سے کرائے تو بڑھ جاتے ہیں لیکن زیادہ تر ٹرانسپورٹرز پریشان حال رہتے ہیں

شاید یہی وجہ ہے کہ طورخم کے اس راستے کو سی پیک کے ساتھ منسلک کرنے پر غور ہو رہا ہے اور ممکنہ طور چین کی بھی یہی خواہش ہوگی کہ اس کے سامان کی افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک  تک اسی راستے سے ترسیل ہو تاکہ وقت اور اخراجات کو بچایا جا سکے

طورخم کے دورے کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ امتیاز احمد شیخ نے اس طرف اشارہ کیا کہ طورخم دو سالوں کے اندر بہت بڑا پورٹ بننے جا رہا ہے اس لئے اس کے توسیعی منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے پاکستان کی ٹرانسپورٹ،لیبر اور دیگر انسانوں کا روزگار بھی وابستہ ہے اس لئے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کی بھی ضرورت ہے کہ وہ ٹرانزٹ ٹریڈ میں تیزی اور بہتری لانے کے لئے اقدامات کریں

اگر افغان حکومت مستحکم ہوتی ہے اور پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات خوشگوار رہے تو اس میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے اور کاروبار، تجارت اور ٹرانزٹ کا یہ منصوبہ وسطی ایشیائی ممالک تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

Translate »