آزادی ڈیسک


پاک فوج کی جانب سے تعاون طلب کرنے والے افغان فوج کے 46 سپاہیوں اور افسران کو محفوظ راہداری اور پناہ فراہم کردی گئی ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ارندو چترال کے بالمقابل افغان سرحدی چوکی پر تعیناتی پانچ افسروں سمیت 46 اہلکاروں نے پاکستانی حکام سے پناہ اور مدد کی درخواست کی تھی

کیوں کہ طالبان کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر مذکورہ اہلکاراپنی چوکی کی حفاظت کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہے تھے ۔جس پر پاک فوج کی جانب سے ضروری قانونی کاروائی پوری کرنے کیلئے افغان حکام سے رابطہ کیاگیا


یہ بھی پڑھیں

  1. طالبان کی رفت و آمد مکمل داستان
  2. ڈیورنڈ معاہدہ اورافغانستان کے زیر قبضہ پاکستان کے علاقے جن پر کوئی بات نہیں‌کرتا
  3. پھیلتی جنگ کے سائے میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز
  4. افغان صورتحال پر پاکستان کا عالمی کانفرنس بلانے کا اعلان ،چمن سپین بولدک سرحدبند

بیان میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ افغان اہلکار اروندو چترال سے اتوار کی شب رات گئے داخل ہوئے ،جنہیں طبی امداد اور خوراک فراہم کی گئی ہے ،جبکہ ضروری قانونی و دستاویزی کاروائی پوری کرنے کے بعد ان اہلکاروں اور افسروں کو باعزت طور پر افغان حکومت کے حوالے کردیا جائیگا

آئی ایس پی آر کے بیان میں یکم جولائی کو 35 افغان اہلکاروں کی پناہ طلب کرنے اور بعدازاں انہیں افغان حکومت کو لوٹانے کے واقعہ کا بھی ذکر کیا گیا

قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے میڈیا کو بتایا کہ افغانستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پاک افغان سرحد سے ایف سی ،لیویز اور دیگر ملیشیا فورسز کو ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ پاک فوج کے باقاعدہ دستے سرحدوں کی حفاظت پر تعینات کردیا گیا ہے

یاد رہے کہ طالبان کے ہاتھوں ہزیمت کا شکار افغان فوج کے اہلکاروں کے دوسرے ممالک میں فرار ہونے اور پناہ حاصل کرنے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں ،اس سے قبل افغان تاجک سرحد پر طالبان کے حملے کے بعد وہاں تعینات ایک ہزار اہلکار فرار ہو کر تاجکستان چلے گئے تھے

طالبان کے دعوئوں کے مطابق وہ ملک کے 80 فیصد سے زائد حصہ پر کنٹرول حاصل کرچکے ہیں جن میں پانچ بین الاقوامی سرحدی راہداریاں بھی شامل ہیں ۔باوجودیکہ کابل انتظامیہ اور طالبان کے مابین قطر کے دارلحکومت دوحہ میں مذاکرات کا عمل شروع ہے

فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں اور علاقو ں پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے

Translate »