سید عتیق


امریکہ دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے اپنی فوجوں کو نکال رہا ہے۔ اب جب کہ بگرام ائیر بیس افغان حکومت کے حوالے ہو چکا ہے تو دوسری جانب طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ کو طالبان ترجمان کی جانب سے بتایا گیا کہ طالبان نے افغانستان کے چار سو میں سے ایک سو اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے مذید پیش قدمی جاری ہے ۔ افغانستان کے وزیر داخلہ نے اگرچہ سو اضلاع پر قبضے کی تصدیق نہیں کی لیکن پچاس اضلاع حکومتی عمل داری سے نکل چکے ہیں یہ تسلیم کیا ہے۔

اتوار چار جولائی کو طالبان نے قندھار کے اہم ضلع پنجوائی پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ۔پنجوائی کے ضلعی گورنر ہستی محمد نے بتایا کہ طالبان نے ضلعی پولیس ہیڈ کوارٹر ،گورنر آفس پر قبضہ کر لیا ہے۔

بارڈر پولیس کمانڈر اسداللہ کا کہنا ہے کہ طالبان کا مقابلہ صرف پولیس کر رہی ہے جب کہ افغان فوج اور کمانڈوز طالبان کا مقابلہ نہیں کر رہے جب کہ ان کے پاس بہتر دفاعی ساز و سامان بھی موجود ہے ۔


یہ بھی پڑھیں

  1. 24 گھنٹوں کے دوران مزید 13 اضلاع پر طالبان کا قبضہ
  2. افغانستان میں امن اورمہاجرین کی توقع!!!
  3. افغانستان کی صورتحال ،عسکری حکام یکم جولائی کو قومی سیاسی قیادت کو بریفنگ دینگے
  4. امریکہ نائن الیون سے پہلے طالبان حکومت کو ختم کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا ،رپورٹ

طالبان نے مئی میں مختلف اضلاع پر قبضہ کرنا شروع کیا پنجوائی سے نکل کر قندھار میں پناہ لینے والوں کا کہنا ہے کہ طالبان پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھے ہیں جہاں سے وہ نقل و حمل پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں ۔

گاڑیوں کی آمد ورفت بھی مشکل ہے کیوں کہ چوٹیوں سے فائرنگ کی جاتی ہے ۔ اتوار کے روز گورنر قندھار کے سیکرٹری ایک کار بم دھماکے میں مارے گئے۔ قندھار نوے کی دہائی میں طالبان دور کا دارلحکومت بھی رہ چکا ہے اس بار طالبان نے شمال میں واقع تاجکستان سے ملحقہ علاقوں سے اپنے قبضے کی شروعات کیں ۔

پنجوئی کے ساتھ ساتھ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے دارلحکومت فیص آباد پر بھی طالبان نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔ ماضی میں جب طالبان برسراقتدار آئے تھے تب احمد شاہ مسعود کی قیادت میں شمالی اتحاد وہ آخری قوت تھی جو طالبان کے مقابلے کیلئے میدان میں موجود رہی ۔

طالبان نے جمعرات سے اتوار کے دن تک مذید دس اضلاع کا کنٹرول سنبھالا جن میں سے آٹھ اضلاع بغیر کسی مزاحمت کے صرف ثالثی کے ذریعے طالبان کے حوالے کیئے گئے اس دوران طالبان کو بھاری مقدار میں جنگی ساز و سامان بھی ملا ۔

اتوار کے ہی روز امریکہ کی جانب سے افغانستان میں اپنے ایک ہزار فوجیوں کو باقی رکھنے کا اعلان سامنے آیا جس پر طالبان کے قطر میں موجود ترجمان نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے اگر دوحہ معاہدے کے مطابق مکمل فوجی انخلاء سے گریز کیا تو طالبان بھی معاہدے کے پابند نہیں رہیں گے ۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے سفارتکاروں پر حملے نہ کرنے اور اپنے مقبوضہ علاقوں میں داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کے خلاف ایکشن لینے کا وعدہ کر رکھا ہے جس کے بعد امریکہ نے فوجی انخلاء کی تاریخ دی ۔

اگرچہ امریکہ نے گیارہ ستمبر 2021 ء سے قبل اپنی افواج کے مکمل انخلاء کا اعلان کر رکھا ہے مگر جس رفتار سے امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ جولائی کے اندر ہی عجلت میں امریکی افواج کا انخلاء مکمل ہو جائے گا ۔

طالبان کا مکمل غلبہ چند دنوں کی کہانی رہ گیا ؟؟؟؟

خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ طالبان جس رفتار سے اپنا کنٹرول حاصل کرتے جا رہے ہیں اس طرح سلسلہ جاری رہا تو امریکی انخلاء مکمل ہونے تک طالبان پورے افغانستان پر دوبارہ اپنا اقتدار بحال کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

اس وقت بدخشاں اور قندھار سمیت طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے انتظامیہ کے اہلکار کابل یا دیگر ایسے شہروں میں پناہ لے چکے ہیں جہاں ابھی تک طالبان کا قبضہ نہیں ہوا ۔ اگرچہ مختلف وار لارڈز اور موجودہ افغانی حکومت کے مابین طالبان کے خلاف مزاحمت پر اتفاق موجود ہے

لیکن افغان فورسز جس طرح دھڑا دھڑ طالبان کے سامنے سرنڈر کرتے جا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ شائد مزاحمت دم توڑ جائے ۔ گزشتہ چند ہفتوں سے کابل کے دروازے پر طالبان موجود ہیں اور اس وقت تک وہ کابل انتظامیہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیئے پر عزم ہیں ۔

ذرائع ابلاغ کے ذریعے پروپیگنڈہ پر طالبان ترجمان کا ردعمل

دریں اثنا افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ذرائع ابلاغ میں پھیلائی جانے والی ان افواہوں کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے جن میں کہا جارہا ہے کہ جن علاقوں پر طالبان نے قبضہ کیا ہے وہاں عوام ،میڈیا اور خواتین پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں

اپنے ایک ٹوئیٹ میں ترجمان نے امریکی سفیر کے بیان کو گمراہ کن اور حقائق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام علاقوں میں تعلیمی و کاروباری ادارے کھلے ہوئیں ،جبکہ صحت کے مراکز بغیر کسی رکاوٹ کے عوام کو سہولت فراہم کررہے ہیں

سرکاری ملازمین، صحافی اور مختلف سروس فراہم کرنے والے اداروں کے ملازمین بلا خوف و خطر زندگی اورفرائض انجام دے سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں قومی تاجر، دکاندار، سرمایہ دار اور تمام کاروباری حضرات کو یقین دلایا جارہا ہے کہ ان کے اموال کی حفاظت کی جائیگی اور کسی کو رکاوٹ یا پریشانی کا سامنا نہیں ہوگی، انہیں مطمئن رہنا چاہیے۔

امارت اسلامیہ کے مجاہدین تمام شعبوں میں ہر ممکن حد تک تعاون کریں  اور روزمرہ امور اور فلاح و بہبود میں مدد کریں گے۔

 

Translate »